Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / گاندھی جی قتل کیس کی دوبارہ تحقیقات کی سپریم کورٹ میں درخواست

گاندھی جی قتل کیس کی دوبارہ تحقیقات کی سپریم کورٹ میں درخواست

سینئر وکیل ثالث مقرر، اس مرحلہ پر کیا کریں؟ کیا تیسرا قاتل زندہ ہے اور وہ عدالت میں حاضر ہوسکتا ہے، عدالت کے دلچسپ سوالات
نئی دہلی۔6 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے مہاتما گاندھی کے قتل کی تحقیقات کی دوبارہ کشادگی کے لیے دائر کردہ درخواست پر آج چند اہم سوالات دریافت کئے۔ جسٹس ایس اے بوہڈے اور جسٹس ایل ناگیشور رائو پر مشتل بنچ نے مختصر سماعت کے بعد ایک سینئر ایڈوکیٹ اور سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل امریندر شرن کو اس معاملہ میں اعانت کے لیے ثالث (نمائندہ خصوصی) مقرر کیا ہے۔ 15 منٹ کی سماعت کے دوران عدالت عظمی نے ابتداء میں اس نظریہ کا اظہار کیا کہ ایک ایسے مقدمہ میں جس پر طویل عرصہ قبل فیصلہ کیا جاچکا ہے اب قانون میں کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم بعد میں اس نے شرن سے کہا کہ اس مسئلہ پر ازسر نو جائزہ لینے کے لیے ان کی کوشش پر اس کے تاثرات کا کوئی اطلاق نہیں ہوگا۔ اس مقدمہ کی آئندہ سماعت 30 اکٹوبر کو مقرر کی گئی ہے۔ ابھینو ٹرسٹ کے ایک ٹرسٹی اور تاریخی محقق ڈاکٹر پنکج پھڈنیس نے مختلف بنیادوں پر ان (مہاتما گاندھی) کے قتل کی تحقیقات کی دوبارہ کشادگی کی درخواست کے ساتھ دعوی کیا کہ یہ تاریخ میں پردہ پوشی کئے جانے والے سب سے بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔ واضح رہے کہ سخت گیر دائیں بازو کی ہندو قوم پرست کے کٹر حامی ناتھو رام گوڈسے نے 30 جنوری 1948ء کو انتہائی قریب سے مہاتما گاندھی پر گولی چلاتے ہوئے ان کا قتل کیا تھا۔ پھڈنیس نے اپنی درخواست کے تائیدی جواز کے طور پر مزید دستاویزات کی پیشکشی کے لیے عدالت سے وقت دینے کی استدعا بھی کی۔ بنچ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ ’اس مرحلہ پر ہم کیا کرسکتے ہیں‘ پھڈنیس نے درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مقدمہ کے ضمن میں انہیں چند اہم دستاویزات دستیاب ہوئے ہیں۔

بنچ نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ ’’ہم اب اس مقدمہ کو دوبارہ کیوں کھولیں؟، آپ کو جتنا چاہیں وقت دے سکتے ہیں لیکن آپ ہمیں بتائیں کہ ہم اس کیس کو دوبارہ کیوں کھولیں جس کے نتائج کی توثیق ہوچکی ہے‘‘۔ عدالت نے جب درخواست گزار کو حدود سے متعلق قانون سے مطلع کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس سے واقف ہیں۔ پھڈنیس نے کہا کہ (مہاتما گاندھی کے) قتل کے مجرمین کی طرف سے دائر کردہ اپیلوں کو مشرقی پنجاب کے ہائی کورٹ نے 1949ء میں مسترد کردیا تھا اور پرائیوی کونسل نے اس مسئلہ کو یہ کہتے ہوئے واپس کردیا تھا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا جنوری 1950ء میں اپنے وجود میں آنے کے بعد اس مقدمہ کا جائزہ لے گا۔ لیکن سپریم کورٹ نے کبھی بھی اس مقدمہ کی سماعت شروع نہیں کی۔ درخواست گزار نے جب کہا کہ ممکن ہے کہ مہاتما گاندھی پر گولی چلانے میں کوئی دوسرا شخص ملوث تھا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے جواب دیا کہ ’’اس مسئلہ پر ہم سیاسی جذبات کے مطابق نہیں بلکہ قانون کے مطابق کام کریں گے۔‘‘ بنچ نے درخواست گزار سے کہا کہ ’’آپ کہہ رہے ہیں کہ کوئی اور شخص تھا ہوگا۔ ایک تیسرا شخص جس نے انہیں (مہاتما گاندھی کو) ہلاک کیا تھا۔ کیا وہ شخص اس مقدمہ کا سامنا کرنے کے لیے اب بھی زندہ ہے۔‘‘ پھڈنیس نے اس سوال پر جواب دیا کہ ایک منظم تنظیم/ ادارہ نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا ہے۔ تاہم بنچ نے اس شخص کی شناخت جاننے کی کوشش کی اور کہا کہ ہم کسی تنظیم/ سربراہ کو مجرم قرار نہیں دے سکتے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ مذکورہ شخص زندہ ہے؟‘‘ جس پر پھڈنیس نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتے کہ آیا یہ شخص زندہ ہے لیکن سچائی کو یقینی بنانے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا جانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT