Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / گاندھی جی کے خوابوں پر مشتمل رام راجیہ کو حقیقت بنانے پر زور

گاندھی جی کے خوابوں پر مشتمل رام راجیہ کو حقیقت بنانے پر زور

قانون ساز اداروں میں پرسکون کام کاج کی وکالت۔ راج بھون میں تہنیتی تقریب ۔ ایم وینکیا نائیڈو کا خطاب
حیدرآباد 21 اگسٹ ( سیاست نیوز ) نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے پارلیمنٹ میں بارہا رکاوٹوں پر آج تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ قانون ساز اداروں کو جمہوریت کے حقیقی جذبہ کے ساتھ پرسکون انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ برسر اقتدار جماعت کے ارکان اور اپوزیشن ارکان کو چاہئے کہ وہ کسی رکاوٹ کا موقع دئے بغیر مباحث میں حصہ لیں تاکہ عوام کیلئے قوانین بنائے جاسکیں۔ وینکیا نائیڈو نائب صدر ہونے کی حیثیت سے راجیہ سبھا کے صدر نشین بھی بن گئے ہیں۔ وہ راج بھون میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے منعقدہ سرکاری استقبالیہ میں خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر جمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں تبادلہ خیال ‘ مباحث اور فیصلے ہونے چاہئیں اور رکاوٹ پیدا نہیں کی جانی چاہئے ۔ اس بات کو سبھی کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی تجویز پیش کرتی ہے ‘ اپوزیشن اس کی مخالفت کرتی ہیں اور ایوان میں اس تعلق سے کوئی فیصلہ ہوجاتا ہے چاہے سکون سے ہو یا ہنگامہ آرائی سے ہو ہوتا ضرور ہے اور یہی اصول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ وقتوں میں پارلیمنٹ کے کام کاج میں مسلسل رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف پارلیمنٹ بلکہ ریاستوں میں اسمبلیوں ار کونسلوں میں بھی کام کاج موثر ڈھنگ سے کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ لوک سبھا سے لوکل سبھا کو مثال لینے کی ضرورت ہے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی سب کا اصل مقصد ہے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کو ہر سطح پر محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے اور گاندھی جی کے خوابوں پر مشتمل رام راجیہ کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے جدوجہد کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ رام راجیہ کا مطلب کوئی مذہبی مملکت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی اجتماعی ترقی کی ضرورت ہے جس کے تحت ہر کوئی یہ محسوس کرسکے کہ وہ ملک کی ترقی کا ایک حصہ ہے ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ وزیر اعظم نے تمام مقاصد کے حصول کیلئے ٹیم انڈیا کے جذبہ کے تحت کام کرنے پر زور دیا ہے ۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے چیف منسٹروں این چندرا بابو نائیڈو اور کے چندر شیکھر راؤ کو چاہئے کہ وہ دونوں تلگو ریاستوں کے عوام کے مفادات کیلئے مل کر کام کریں ۔ نائب صدر جمہوریہ کا یہاں روایتی خیر مقدم کیا گیا تھا اور پنڈتوں نے وید گنگنائے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تلگو کو آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے کلچر کے طور پر فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ تلگو کے فروغ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسری زبانوں کی مخالفت کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کے حصول کیلئے انگریزی سیکھنا ضروری ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان کی کثرت کو برقرار رکھا جائے ۔ نائیڈو نے کہا کہ وہ بحیثیت سیاستدان عوام سے ملاقاتوں کے عادی رہے تھے لیکن اب وہ اپنی نئی ذمہ داری میں قدرے بے چینی محسوس کر رہے ہیں کیونکہ نائب صدر جمہوریہ کا عہدہ پروٹوکول کے تابع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس صورتحال کے عادی ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گورنر آندھرا پردیش و تلنگانہ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن ‘ مرکزی وزیر مسٹر بنڈارو دتاتریہ ‘ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ اور کئی دوسرے قائدین اور اہم شخصیتوں نے تقریب میں شرکت کی ۔ مسٹر نرسمہن نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایم وینکیا نائیڈو کے صدر نشین بن جانے کے بعد راجیہ سبھا کارکرد ہوجائیگی ۔ کے چندر شیکھر راؤ اور دتاتریہ نے کہا کہ یہ تلگو عوام کیلئے باعث فخر ہے کہ نائیڈو ملک کے دوسرے اعلی ترین عہدہ پر فائز ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT