Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / گاندھی ہاسپٹل میں شریک خاتون کی سوائن فلو سے موت کی توثیق

گاندھی ہاسپٹل میں شریک خاتون کی سوائن فلو سے موت کی توثیق

مختلف دواخانوں میں سوائن فلو کے مریض زیر علاج طبی ذرائع کا بیان
حیدرآباد 11 ستمبر (سیاست نیوز) گاندھی ہاسپٹل کی جانب سے سوائن فلو مرض میں مبتلا خاتون کے فوت ہونے کی توثیق کردی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں فوت ہونے والی خاتون کے خون کے نمونوں کی جانچ سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ مذکورہ خاتون کی موت سوائن فلو وائرس کے سبب ہوئی ہے۔ ڈاکٹر کے نرسمہلو نوڈل آفیسر گاندھی ہاسپٹل نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ 5 ستمبر کو فوت ہونے والی خاتون کی موت کی وجہ سوائن فلو ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ متوفی خاتون کو 2 ستمبر کو گاندھی ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا تھا جہاں سوائن فلو کا شبہ کرتے ہوئے اُس کے علاج کا آغاز کیا گیا تھا لیکن 5 ستمبر کو خاتون کی موت واقع ہوگئی تھی۔ اس طرح جاریہ سال متوفی خاتون کی موت کو سوائن فلو کے سبب ہونے والی پہلی موت قرار دیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں گاندھی ہاسپٹل میں 4 سوائن فلو سے متاثرہ مریض زیرعلاج ہیں جبکہ شہر کے مختلف کارپوریٹ ہاسپٹلس میں بھی سوائن فلو کی علامات کے ساتھ مریض کے زیرعلاج ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گاندھی ہاسپٹل کی جانب سے جب تک آئی پی ایم کی رپورٹ موصول نہیں ہوتی اُس وقت تک سوائن فلو کی تصدیق نہیں کی جارہی ہے چونکہ علامات کی بنیاد پر سوائن فلو کی تصدیق کئے جانے سے عوام میں بے چینی اور خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ دنوں سوائن فلو کی علامات کے ساتھ دواخانہ سے رجوع ہونے والی حاملہ خاتون کو جڑواں بچے تولد ہونے کے بعد مذکورہ خاتون اب بھی دواخانہ میں زیرعلاج ہے۔ ماہ اگسٹ کے ابتدائی ایام میں شہر میں سوائن فلو کے مریضوں کی نشاندہی شروع ہوئی تھی چونکہ سوائن فلو سے متاثرہ مریض دواخانوں سے رجوع ہونے لگے تھے۔ ماہ جولائی کے دوران پشکرالو تہوار میں ہجوم کے سبب سوائن فلو کے پھیلنے کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ لیکن نوڈل آفیسر گاندھی ہاسپٹل ڈاکٹر کے نرسمہلو کا کہنا ہے کہ سوائن فلو کی علامات کے ساتھ رجوع ہونے والے مریضوں کو سخت نگہداشت والے کمرے میں رکھتے ہوئے اُن کے مکمل علاج تک اُنھیں دواخانہ سے ڈسچارج ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں خانگی و کارپوریٹ ہاسپٹلس میں زیرعلاج مریضوں کی تفصیلات بھی اکٹھا کرنے کی ممکنہ کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ اس وبائی مرض کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT