Tuesday , December 19 2017
Home / شہر کی خبریں / گاندھی ہاسپٹل میں مریض کی موت، رشتہ داروں کا ڈاکٹر پر حملہ

گاندھی ہاسپٹل میں مریض کی موت، رشتہ داروں کا ڈاکٹر پر حملہ

ڈاکٹروں کا ڈیوٹی سے بائیکاٹ ، حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد۔/20 ستمبر ، ( پی ٹی آئی) گاندھی ہاسپٹل کے تقریباً 250 جونیر ڈاکٹروں نے آج اپنی ڈیوٹی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اس دواخانہ میں آج صبح کی اولین ساعتوں میں ایک مریض کی موت پر اس کے رشتہ داروں کے ہاتھوں ایک سینئر ہاوز سرجن پر حملے کی مذمت کی۔ احتجاجی ڈاکٹروں کے مطابق ایک 70سالہ مریض گردہ کے عارضہ سے متاثر تھا جو معائنوں کے دوران صبح 3:30 بجے فوت ہوگیا۔ جس کے ساتھ ہی اس کے رشتہ داروں نے ڈیوٹی ہاوز سرجن پر حملہ کردیا۔ سینئر ڈاکٹر کو بری طرح زد وکوب کرتے ہوئے اس پر عمر رسیدہ مریض کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا۔’’ ہم ڈاکٹروں پر حملہ کی مذمت کرتے ہیں‘‘ عبارت درج کردہ پلے کارڈس تھام ہوئے احتجاجی ڈاکٹروں نے گاندھی ہاسپٹل کے احاطہ میں مظاہرہ کیا۔ انہوں نے حکومت سے اس مسئلہ پر فی الفور کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ جونیر ڈاکٹروں نے کہا کہ ’’ اس دواخانہ میں سیکورٹی کے مناسب انتظامات نہیں ہیں۔ مریضوں کے رشتہ داروں کی جانب سے ڈاکٹروں پر حملہ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہم یہاں خصوصی حفاظتی فورس کی تعیناتی اور سی سی ٹی وی کیمروںکی تنصیب چاہتے ہیںاور سرجن پر حملہ کرنے والوں کو فوری سزا دی جائے‘‘۔ گاندھی ہاسپٹل کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر پی شراون کمار نے کہا کہ ’’ اس مریض کو رات 11:30 بے لایا گیا تھا۔ میڈیکل اسٹاف نے علاج کیا تھا لیکن رشتہ داروں نے مریض کو ایک خانگی دواخانہ منتقل کیا جہاں اس کو چند انجیکشنس دیئے گئے۔ غالباً خانگی دواخانہ میں بھاری طبی مصارف کے پیش نظر انہوں نے مریض کو رات 3:30 بجے دوبارہ گاندھی دواخانہ منتقل کیا۔ مریض جو کافی بیمار تھا معائنوں کیلئے لے جاتے وقت فوت ہوگیا۔‘‘

TOPPOPULARRECENT