Wednesday , December 19 2018

گاندھی ہاسپٹل میں ڈاکٹروں کی لاپرواہی کا ویڈیو وائرل

سرجیکل آفیسرس کے روم نمبر 218 میں 2 خاتون ڈاکٹرس موبائل فونس میں مصروف
کمرے کے باہر بے بس مریض اپنی باری کے انتظار میں پریشان
حیدرآباد ۔ 20 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : غریب عوام کو اگر کوئی مرض لاحق ہوجائے تو وہ وقت سے پہلے ہی مر جاتا ہے ۔ یہ کہاوت کسی حد تک درست بھی ثابت ہوتی ہے کیوں کہ ایک جانب بے چارے غریب کی غربت اور پھر علاج کے لیے سرکاری دواخانوں میں طویل قطاروں میں کھڑے رہنے ، غیر ضروری مختلف ٹسٹ کروانے اور پتہ نہیں کونسا مرض ہوگیا ہے ۔ یہ سوچ کر ذہنی تناؤ میں مبتلا ہونے کے علاوہ ڈاکٹروں کی لاپرواہی بھی انہیں مرض سے زیادہ پریشان کردیتے ہیں ۔ سرکاری دواخانوں میں غریب عوام کے ساتھ ڈاکٹروں کے برتاؤ سب پر عیاں ہیں اور آئے دن کئی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں مسیحا تصور کئے جانے والے ڈاکٹر کسی جابر و ظالم مطلق العنان بادشاہ سے کم نہیں ہوتے ۔ ایسا ہی ایک واقعہ گاندھی ہاسپٹل کا ہے جو ان دنوں فیس بک پر کافی وائرل ہورہا ہے ۔ جس میں 2 نوجوان خاتون ڈاکٹرس اپنے موبائل فونس میں مریضوں کی پریشانیوں سے بے فکر مصروف دکھائی جارہی ہیں جب کہ ان کے کیابن کے باہر ایک معذور شخص اور معمر مریض اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں ۔ اس ویڈیو پر عوام نے نہ صرف شدید ردعمل ظاہر کیا بلکہ ان ڈاکٹرس کو خدمات سے برخاست کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ نریش کمار مڈیلا نامی فیس بک صارف کے اکاونٹ پر شئیر کردہ یہ ویڈیو ایک جانب بھاری تنخواہیں حاصل کرنے کے باوجود غریب مریضوں کی تئیں ان کی لاپرواہی کی داستان بیان کرتی ہے تو دوسری جانب حکومت کی جانب سے سرکاری دواخانوں میں خدمات پر مامور ڈاکٹرس کے لیے سخت ہدایات نہ ہونے کے واضح اشارے مل رہے ہیں ۔ ویڈیو میں صاف ظاہر ہورہا ہے کہ گاندھی ہاسپٹل کے ’ پوسٹ آپریشن وارڈ ‘ 2014 تا 2015 کے باہر ایک مریض جس کے سر پر پٹی باندھی ہوئی ہے اور وہیل چیر پر موجود ہے جس کے ساتھ چند افراد بھی کھڑے ہیں اس کے علاوہ روم نمبر 218 کے باہر کچھ معمر اور خواتین بھی ڈاکٹرس کی جانب سے اندر طلب کرنے کی امید میں اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں ۔ لیکن ’ ڈیوٹی سرجیکل آفیسرس کے روم نمبر 218 ‘ میں 2 خاتون ڈاکٹرس جن کی عمریں 30 تا 35 کی ہی ہیں اپنے موبائل میں ایسے مصروف ہیں جیسے طلبہ امتحانات کے بعد سالانہ تعطیلات میں اپنے ننھیال میں بے فکر وقت گذارتے ہیں ۔ 39 سکنڈز کے اس ویڈیو میں ان نوجوان ڈاکٹروں کی لاپرواہی اور ان کے کمرے کے باہر غریب مریضوں اور ان کے ساتھ موجود عوام کی بے بسی دیکھی جاسکتی ہے ۔ اس ویڈیو کے سوشیل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی عوام نے اپنی ناراضگی اور برہمی کا شدید الفاظ میں اظہار کیا ہے ۔ فیس بک کے صارف ’ ایم ڈی اظہر اظہر ‘ نے اپنے تبصرے میں کہا کہ ’’ پبلک کے پیسوں سے لاکھوں روپیوں کی تنخواہ لیتے ہیں اور عوام کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں ۔ چپل سے مارنا ایسے ڈاکٹرس کو ‘‘ ۔ گاندھی ہاسپٹل کا یہ ایک ویڈیو ہے جب کہ ریاست تلنگانہ میں سرکاری دواخانوں میں ایسے روزانہ درجنوں واقعات پیش آتے ہیں لہذا عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹروں کو اپنی خدمات کی تئیں پابند بنایا جائے اور لاپرواہی برتنے والے ڈاکٹروں کو تاحیات اس شعبہ میں داخلہ پر پابندی عائد کرنی چاہئے کیوں کہ یہ پیشہ ہمدردی اور انسانیت کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT