Friday , August 17 2018
Home / سیاسیات / گجرات:کانگریس کے مسلم امیدوار 2012 ء سے کم

گجرات:کانگریس کے مسلم امیدوار 2012 ء سے کم

احمدآباد؍راجکوٹ۔ 28نومبر (سیاست ڈاٹ کام) 2012 کے مقابلے میں کانگریس نے اس مرتبہ گجرات کے دو مرحلوں کے اہم اسمبلی الیکشن میں مسلم امیدوار کم اور دیگر پسماندہ طبقات کے امیدوار زیادہ کھڑے کئے ہیں۔ کانگریس نے پارٹی کی طرف سے جن امیدواروں کو کھڑا کیا ہے ان کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی قیادت والی پارٹی نے اس سال چھ مسلم امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ 2012 میں یہ تعداد سات تھی۔ جام نگر کے کانگریسی امیدوار اشوک لال نے یو این آئی کو بتایا کہ کانگریس ٹکٹوں کی تقسیم میں رنگ اور نسل، ذات و مذہب کو اہمیت نہیں دیتی بلکہ امیدوار کے جیتنے کی اہلیت کو پیش نظر رکھتی ہے ۔ کانگریس نے ہمیشہ قومی یکجہتی کے جذبے سے کام لیا ہے ۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کردیا کہ کانگریس نے بھی ہلکے پھلکے انداز میں ہندوتو کا راستہ اختیار کرلیا ہے ۔ کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ویسے بھی ریاست میں اوسطاً مسلم امیدواروں کی کارکردگی بہت اچھی نہیں رہتی اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ 1990 کی دہائی میں کانگریس نے جو مسلم امیدوار کھڑے کئے تھے انہیں صرف دو اعشاریہ چھ فیصد ووٹ ملے تھے ۔ یہ بات مقامی پارٹی لیڈر سلیم بھائی بیکری والے نے راجکوٹ میں بتائی۔ کانگریس نے 2012 میں سات مسلم امیدوار کھڑے کئے تھے جنہیں صرف دو اعشاریہ 37 فیصد ووٹ ملے حالانکہ گجرات میں مسلمانوں کی آبادی نو اعشاریہ سات فیصد کے آس پاس ہے ۔ مابعد گودھرا ہلاکت خیز فساد کے فورا بعد ہونے والے الیکشن میں کانگریس کے مسلم امیدواروں کو انتہائی کم ایک اعشاریہ چالیس فیصد ووٹ ملے تھے ۔ 2007 میں یہ شرح تھوڑی بڑھی تو ایک اعشاریہ نو فیصد تک پہنچی۔

TOPPOPULARRECENT