Monday , July 16 2018
Home / Top Stories / گجرات اسمبلی انتخابات : بی جے پی کی نشستیں 99 تک گھٹا دینے میں توگاڑیہ کا ہاتھ

گجرات اسمبلی انتخابات : بی جے پی کی نشستیں 99 تک گھٹا دینے میں توگاڑیہ کا ہاتھ

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

 

وی ایچ پی جنرل سیکریٹری پر گجرات انتخابات میںبی جے پی کیخلاف درپردہ مہم چلانے کا الزام ، دوبارہ جنرل سیکریٹری بننے سے روکنے کی ناکام کوشش

گجرات ؍ ممبئی۔ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وی ایچ پی جنرل سیکریٹری پراوین توگاڑیہ کا احمدآباد میں رچا گیا ڈرامہ واضح طور پر آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے درمیان جاری اندرونی خلفشار ظاہر کرتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بی جے پی اس بات پر کافی برہم ہے کہ توگاڑیہ اور وی ایچ پی کارکنوں نے گجرات کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے خلاف کام کیا ہے۔ اگرچیکہ بی جے پی کو گجرات میں کامیابی حاصل ہوئی اور وہ حکومت بنانے میں کامیاب بھی ہوگئی لیکن بتایا جاتا ہے کہ نشستوں کی تعداد 115 سے گھٹ کر 99 تک اٹک جانے میں پراوین توگاڑیہ کا بہت بڑا ہاتھ مانا جارہا ہے۔ ’’ممبئی مرر‘‘ سے وابستہ صحافی مکرند گڈگل کے مطابق مسلمانوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنے اور متنازعہ بیانات دینے کیلئے مشہور توگاڑیہ کے نریندر مودی کے ساتھ تعلقات بہت اچھے تھے اورعموماً دونوں ایک ہی اسکوٹر پر سوار ہوکر سنگھ کے شاکھاؤں کو جاتے تھے،، تاہم نریندر مودی کے گجرات میں 2007ء میں چیف منسٹر بننے کے بعد دونوں کے درمیان تعلقات میں دراڑ پڑ گئی۔ ان کے مطابق بی جے پی کے کئی قائدین ایسا سمجھتے ہیں کہ گجرات کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں وی ایچ پی کارکنوں نے بی جے پی کیلئے مشکلات پیدا کرنے کی کافی کوششیں کیں۔ ایک سینئر بی جے پی قائد نے کہا کہ ’’انہوں (توگاڑیہ) نے پٹیل برادری کو تحفظات کی تحریک کی آگ میں گھی ڈالنے کی کافی کوشش کی اور بی جے پی کے خلاف برہمی پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ایک اہم وجہ تھی کہ اس بار ہم چناؤ میں 100 نشستیں کی تعداد کو پار نہ کرسکے۔ بقول ان کے آر ایس ایس کی جانب سے توگاڑیہ کو واضح طور پر ہدایت دی گئی تھی کہ وہ سیاسی موضوعات پر اپنی زبان بند رکھیں، تاہم انہوں نے الیکشن کے دوران کسانوں اور نوجوانوں کی ریالی سے خطاب کیا اور حکومت کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کی۔ ایک اور بی جے پی لیڈر نے کہا کہ موجودہ بی جے پی قیادت ، واجپائی کے دور سے بالکل برعکس ہے جو اندرونی سطح پر پارٹی کے خلاف اُٹھنے والی آواز کو برداشت نہیں کرتی۔ ذرائع کے مطابق پچھلے مہینہ 29 ڈسمبر کو بھوبنیشور میں وی ایچ پی کا عاملہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سنگھ کے قائدین کی یہ کوشش تھی کہ پراوین توگاڑیہ ایک مرتبہ پھر وی ایچ پی کے صدر نہ بن سکیں، لیکن وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوپائے۔ اس کے علاوہ وی ایچ پی صدر راگھو ریڈی کی بھی مدت کار ختم ہوچکی تھی اور کوشش کی جارہی تھی کہ ان کی میعاد میں توسیع نہ دی جائے تاہم پراوین توگاڑیہ کی سخت ترین موقف کی وجہ سے اس میں بھی ناکامی حاصل ہوئی۔ آر ایس ایس، راگھو ریڈی کی جگہ وی کوکجے کو وی ایچ پی کا صدر بنانا چاہتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ کوکجے کو سنگھ کے ساتھ ساتھ نریندر مودی کی بھی تائید حاصل تھی، لیکن توگاڑیہ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اس وجہ سے بھی بی جے پی کی اعلیٰ قیادت توگاڑیہ سے کافی ناراض سمجھی جاتی ہے۔ دوسری طرف آر ایس ایس کے نظریہ ساز ایم جی وید نے آر ایس ایس میں کسی طرح کے خلفشار کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انتظار کرنا چاہئے کہ توگاڑیہ ان افراد کے نام کا انکشاف کریں گے جو مبینہ طور پر انہیں ہلاک کرنے کی سازش کررہے تھے۔ واضح رہے کہ توگاڑیہ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا ہے کہ مناسب وقت آنے پر وہ اُن افراد کے ناموں کا انکشاف کریں گے جنہوں نے ان کی زبان ہمیشہ کیلئے خاموش کردینے کی سازش رچی ہے، لیکن سیاسی تبصرہ نگار کمار کیتکر نے کہا کہ سنگھ پریوار کے اندر جاری اختلافات سے وہ تمام افراد واقف ہیں جو سنگھ کی سرگرمیوں پر قریب سے نظر رکھتے ہیں، لیکن کسی کو یہ توقع نہیں تھی کہ سنگھ پریوار کے درمیان جاری اختلافات اس قدر جلد کھل کر عوام کے سامنے آجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT