Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / گجرات اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا سورج غروب

گجرات اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا سورج غروب

ہاردک پٹیل کا انتباہ ، تحفظات کے مطالبہ پر میگا ریالی، پرتشدد احتجاجی مظاہرے، وزیر داخلہ کا مکان نذرآتش

احمد آباد ۔ 25 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) حکومت گجرات کو پٹیل فرقہ کے شدید احتجاج کا سامنا ہے اور 22 سالہ لیڈر ہاردک پٹیل نے خبردار کیا ہے کہ جب تک تحفظات کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتاتب تک ’’کنول کا پھول نہیں کھلے گا اور بی جے پی کا سورج غروب ہوجائے گا‘‘۔ انہیں آج رات کچھ دیر کیلئے حراست میں لیا گیا تھا لیکن سارے شہر میں تشدد پھوٹ پڑنے پر پولیس نے پھر رہا کردیا ۔ قبل ازیں دن میں ہاردک پٹیل نے اپنے طبقہ کی میگا ریالی سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو خبردار کیا کہ پٹیل طبقہ کو او بی سی کوٹہ میں شامل کرنے کا مطالبہ اگر قبول نہیں کیا گیا تو 2017 ء اسمبلی انتخابات میں کنول کا پھول نہیں کھلے گا۔ جی ایم ڈی سی گراؤنڈ پر منعقدہ اس ریالی کے بعد ہاردک پٹیل نے بھوک ہڑتال شروع کردی اور پولیس کی ایک بڑی تعداد نے یہاں گھس کر ہجوم کو منتشر کیا۔ ہاردک پٹیل نے چیف منسٹر آنند بین پٹیل سے مطالبہ کیا کہ وہ خود یہاں آکر ان کی یادداشت قبول کریں۔ پولیس نے تقریباً 2000 ء سے زائد حامیوں پر لاٹھی چارج کیا اور ہاردک پٹیل اور چند دیگر کو اپنے ساتھ لے گئی۔

پولیس کی اس کارروائی میں میڈیا کے نمائندے بھی زخمی ہوئے اور ان کے آلات کو نقصان پہنچا لیکن نوجوان لیڈر ہاردک پٹیل کو رات میں حراست میں لیتے ہی عوام تشدد پر اتر آئے اور شہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ۔ یہاں تک کہ پولیس پر حملہ کیا گیا اور سنگباری کے علاوہ عوامی املاک بشمول بسوں کو دو مقامات پر نذر آتش کیا گیا۔ احتجاجیوں نے گجرات کے وزیر داخلہ رجنی پٹیل کے مہسنا میں واقع مکان کو بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی ۔ پولیس نے بتایا کہ اس آگ سے مکان کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ پولیس نے پٹیل فرقہ کی برہمی اور موڈ کو دیکھتے ہوئے ہاردک پٹیل کو فوری رہا کردیا۔ ریاست میں بااثر پٹیل اور پٹہ داروں کے حق میں جاری اس مہم میں ہاردک پٹیل ایک بااثر شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ پٹیل طبقہ کو سرکاری ملازمتوں اور کالجس میں تحفظات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پٹیل طبقہ کئی دہوں سے بی جے پی کا وفادار رہا ۔ چیف منسٹر آنندی بین نے کہا کہ پٹیل طبقہ کو او بی سی کوٹہ میں شامل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ گجرات میں 50 فیصد تحفظات کی جو حد سپریم کورٹ نے مقرر کی ہے ، وہ پوری ہوچکی ہے۔

ہاردک پٹیل نے رہائی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ پولیس کا ہم پر اورمیڈیا پر کیا گیا حملہ سیاسی تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے جس انداز میں ہمیں بشمول خواتین اور بچوں کو زد و کوب کیا ، وہ ٹھیک نہیں تھا۔ ہم گجرات میں امن چاہتے ہیں لیکن حکومت ایسا نہیں چاہتی ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہم اس کے خلاف یقیناً سخت کارروائی کریں گے۔ احمد آباد میں برہم ہجوم نے دو مقامات پر بسوں کو نذر آتش کردیا۔ ڈپٹی کمشنر پولیس سنیل جوشی نے کہا کہ برہم لوگ سڑک پر کثیر تعداد میں نکل آئے تھے۔ پولیس نے سی ٹی ایم علاقہ میں تشدد میں ملوث ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے 8 آنسو گیس کے شیلس چھوڑے۔ انہوںنے بتایا کہ گھاٹ لودھیا علاقہ میں پٹیل اور ربری طبقات میں جھڑپ ہوگئی جس کے نتجہ میں 10 افراد زخمی ہوگئے ۔ تقریباً 1000 افراد پر مشتمل ہجوم نے جی ایس ٹی کراسنگ علاقہ میں ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اس دوران پٹیل طبقہ کے دو بڑے گروپس میں تحفظات کے مطالبات پر اختلافات پیدا ہوگئے اور لال جی پٹیل کی زیر قیادت سردار پٹیل گروپ(ایس پی جی) نے ہاردک پٹیل کی بھوک ہڑتال کے فیصلہ سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔

TOPPOPULARRECENT