Sunday , October 21 2018
Home / شہر کی خبریں / گجرات اسمبلی انتخابات میں دلت ۔مسلم اتحاد کا مظاہرہ

گجرات اسمبلی انتخابات میں دلت ۔مسلم اتحاد کا مظاہرہ

جگنیش میوانی‘ الپیش ٹھاکر کی کامیابی میں اہم رول ‘ 30سے زائد حلقوں میں کانگریس کی کامیابی میں مسلمانوں کا کلیدی کردار
حیدرآباد ۔18 ڈسمبر ( سیاست نیوز) گجرات اسمبلی انتخابات میں اگرچہ وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی لیکن راہول گاندھی اور ان کی کانگریس پارٹی نے بھی اپنے اطمینان بخش مظاہرہ کے ذریعہ مودی اور امیت شاہ کی نیند اڑا دی ہے ۔ اس مرتبہ حسب روایات بی جے پی نے مسلم رائے دہندوں کو نظرانداز کیا جواب میں کانگریس بھی مسلم رائے دہنوں سے دور رہی ‘ کیونکہ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ مسلمان بی جے پی کو ہرگز ووٹ نہیں دیں گے اور ان کے ووٹ صرف کانگریس کے کھاتے میں جائیں گے ۔ ان انتخابات کے بارے میں ایک بات ضرور کہی جاسکتی ہیکہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے دوران دلت ۔ مسلم اتحاد کی بڑی بڑی باتیں کی گئیں لیکن یہ اتحاد نہیں ہوسکا ۔ اگر اترپردیش میں دلت ۔ مسلم اتحاد ہو جاتا تو فاشسٹ طاقتوں کو کچل کر رکھ دیا جاسکتا تھا لیکن یہ اتحاد کسی قدر گجرات میں نظر آیا ‘ وڈگام اسمبلی حلقہ سے دلت جہد کار جگنیش میوانی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ‘ یہ وہی جگنیش میوانی ہیں جنہوں نے ایک سمیتی قائم کی تھی جس کا مقصد ریاست میں دلتوں کے خلاف اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے مظالم کا سدباب کرنا تھا ۔ جہاں تک وڈگام حلقہ میں مسلم رائے دہندوں کی تعداد کا معاملہ ہے ۔ اس حلقہ میں 70ہزار مسلم رائے دہندے ہیں ان مسلم رائے دہندوں کی تائید کی بنا جگنیش میوانی کی جیت ناممکن تھی ۔ دلت جہد کار اشوک بھارتی صدرنشین نیشنل کانفیڈریشن آف دلت آرگنائزیشن کے خیال میں میوانی کی کامیابی سے حاشیہ پر لائے گئے مسلمانوں میں امید کی کرن پیدا ہوئی ۔ انتخابی مہم کے دوران کانگریس اور بی جے پی دونوں نے مسلم مسائل پر بات نہیں کی کیونکہ ریاست میں کانگریس اور بی جے پی ہندوؤں پر اپنی اجارہ داری ثابت کرنے ایک دوسرے پر سبقت لے رہے تھے ۔ گجرات میں کانگریس نے مسلمانوں کی بات نہیںکی ‘ وہ خود کو ہندوؤں کے قریب ظاہر کرنے کی کوشش کرتی رہی ۔ امید ہیکہ میوانی کے انتخاب سے گجرات میں دلت مسلم اتحاد کا ایک نیا دور شروع ہوگا ۔ اونا سانحہ کے بعد جس میں دلت نوجوانوں کو مردہ گائے کی کھال اتارنے کی پاداش میںاونچی ذات کے ہندوؤں نے زدوکوب کیا تھا ۔ میوانی ایک دلت لیڈر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے تھے ۔ 35سالہ میوانی ریاست میں دلت تحریک کا چہرہ بن گئے ہیں ۔ انہوں نے وڈگام سے بحیثیت آزاد امیدوار مقابلہ کیا ۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے ان کی تائید کی ۔ اسمبلی انتخابات میں ایک اور ( او بی سی لیڈر) الپیش ٹھاکر نے بھی رادھن پور حلقہ سے کامیابی حاصل کی ۔ امید ہیکہ دو نوجوان چہرے اسمبلی میں بی جے پی حکومت کو عوامی مسائل پر چین سے بیٹھنے نہیں دیں گے ۔ گجراتی سیاست کے ایک ماہر پرشانت دیال کے مطابق الپیش اور جگنیش کو شکست دینے بی جے پی نے اپنی تمام طاقت جھونک دی تھی لیکن اس کی لاکھ کوششوں کے باوجود دونوں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ جگنیش کمار میوانی کو بی جے پی امیداور وجئے چکرورتی پر 23000 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ۔ دوسری طرف الپیش ٹھاکر نے رادھن پور سے کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے لاونگ جی ٹھاکر ( بی جے پی ) کو تقریباً 18ہزار ووٹوں سے ہرایا ۔ آپ کو بتادیں کہ گجرات میں مسلم رائے دہندوںکی تعداد آبادی کا 9.65 فیصد ہے اور 30سے زائد حلقوں میں مسلمانوں نے بادشاہ گر کا کردار ادا کیا ۔ ان حلقوں میں مسلم رائے دہندوں کی تعداد 14 تا 30 فیصد کے درمیان رہی ۔ ان حلقوں میں جو ایس سی ‘ ایس ٹی کیلئے محفوظ کردیئے گئے تھے مسلمانوں کے ووٹوں نے فیصلہ کن رول ادا کیا ۔

TOPPOPULARRECENT