Sunday , June 24 2018
Home / سیاسیات / گجرات اسمبلی کی تبدیل شدہ ریاضی بی جے پی کیلئے مصیبت

گجرات اسمبلی کی تبدیل شدہ ریاضی بی جے پی کیلئے مصیبت

راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کے مقابلے دو نشستوں سے محرومی یقینی
احمد آباد ۔ /4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں گزشتہ سال منعقدہ اسمبلی انتخابات کے بعد مقننہ کی ریاضی (اعداد) میں تبدیلی کے نتیجہ میں حکمراں بی جے پی کو راجیہ سبھا کی دو نشستوں سے محروم ہونا پڑسکتا ہے ۔ ملک بھر میں راجیہ سبھا کی 58 نشستیں مخلوعہ ہورہی ہیں جنہیں پر کرنے کیلئے /23 مارچ کو انتخابات مقرر ہیں ۔ ان کے منجملہ چار نشستیں گجرات میں ہیں جن پر فی الحال بی جے پی کا قبضہ ہے ۔ لیکن گزشتہ سال ڈسمبر میں منعقدہ انتخابات میں حاصل کردہ نشستوں کے مطابق بی جے پی اور کانگریس کو اب دو دو نشستیں حاصل ہوں گی ۔ 2017 ء کے انتخابات کے بعد ریاستی اسمبلی میں بی جے پی کی عددی قوت 99 تک گھٹ گئی ہے جو 2012 میں 115 تھی ۔ اس کے برخلاف کانگریس کے ارکان کی تعداد جو ماضی میں 60 تھی اب 77 تک بڑھ گئی ہے ۔ بی جے پی کیلئے سب سے بڑی الجھن اب ان سبکدوش ہونے والے اپنے چار میں سے کسی دو کا انتخاب کرنا ہے کیونکہ ان میں تین ارکان مرکزی وزراء ارون جیٹلی ، پرشوتم روپالا اور مکیش مانڈویا اور چوتھے رکن شنکر بھائی ویگاڈ ہیں جو دیگر پسماندہ طبقات ( او بی سی) کے لیڈر ہیں ۔ انتخاب میں کسی رکن کی کامیابی کیلئے فی کس 38 ووٹ درکار ہیں اس اعتبار سے یہ دونوں جماعتیں دو دو امیدوار منتخب کرواسکتی ہیں ۔ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان راجیہ سبھا کی ایک نشست کے لئے سخت مقابلہ ہوا تھا جس میں کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل کی کامیابی ہوئی تھی لیکن کانگریس کے ارکان اسمبلی کو بی جے پی کی طرف سے لالچ کے ذریعہ انحراف سے بچانے کیلئے بنگلورو منتقل کیا گیا تھا ۔ اسمبلی انتخابات سے قبل احمد پٹیل کی کامیابی سے کانگریس اور اس کے کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT