Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / گجرات اسمبلی کے 9 اور 14 ڈسمبر کو دو مرحلوں میں انتخابات

گجرات اسمبلی کے 9 اور 14 ڈسمبر کو دو مرحلوں میں انتخابات

ہماچل پردیش کے ساتھ 18 ڈسمبر کو نتائج کا اعلان، چیف الیکشن کمشنر کی پریس کانفرنس
نئی دہلی ۔ 25 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) الیکشن کمیشن نے گجرات اسمبلی انتخابتا کے 9 اور 14 اکٹوبر کو انعقاد کیلئے دو مرحلوں پر مشتمل شیڈول کا اعلان کردیا، جس کے بعد اس ریاست میں فوری اثر کے ساتھ انتخابی ضابطہ نافذ ہوگیا۔ ہماچل پردیش میں 9 نومبر کو اسمبلی انتخابات کے انعقاد کیلئے پہلے ہی شیڈول کا اعلان کیا جاچکا ہے اور ان دونوں ریاستوں کے انتخابی نتائج کا 18 ڈسمبر کو اعلان کیا جائے گا۔ گجرات میں پہلے مرحلہ کے تحت 19 اضلاع کے 89 اسمبلی حلقوں میں انتخابات کیلئے 14 نومبر کو اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جہاں پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 21 نومبر ہوگی اور 24 نومبر تک نامزدگیوں سے دستبرداری اختیار کی جاسکتی ہے۔ پہلے مرحلے کے تحت 2.11 کروڑ ووٹرس اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکتے ہیں۔ دوسر مرحلے کے تحت 14 اضلاع کے 93 حلقوں میں انتخابات کیلئے 20 نومبر علامیہ جاری کیا جائے گا۔ 22 نومبر کو تنقیح ہوگی۔ 30 نومبر تک نامزدگیوں سے دستبرداری اختیار کی جاسکتی ہے۔ ان حلقوں میں 2.21 کروڑ ووٹرس ہیں۔ الیکشن کمیشن کے آج یہاں کئے گئے اس اعلان کے ساتھ ہی گجرات میں فوری اثر کے ساتھ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوگیا ہے۔ الیکشن کمشنر اے کے جیوتی نے کہا کہ گجرات اسمبلی کی میعاد کی آئندہ سال 22 جنوری کو تکمیل متوقع ہے۔ چنانچہ اس کے 182 حلقوں میں انتخابات منعقد کروائے جارہے ہیں، جہاں ووٹرس کی مجموعی تعداد 4.33 کروڑ ہے۔ پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد کو موجودہ 44,579 سے بڑھا کر 50,128 کردیا گیا۔ 102 پولنگ اسٹیشنوں میں صرف خاتون اسٹاف تعینات کیا جائے گا۔ انتحابی مصارف پر نظر رکھنے کیلئے جامع ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ فلائینگ اسکواڈس تشکیل دیئے گئے ہیں۔ بشمول محکمہ انکم ٹیکس مختلف مرکزی تحقیقاتی اداروں کو اس مقصد کیلئے متحرک کردیا گیا ہے۔ ہر امیدوار کیلئے انتخابی مصارف کی حد 28 لاکھ روپئے مقرر کی گئی ہے۔ مخدوش علاقوں کے پولنگ اسٹیشنوں میں رائے دہندوں کی رازداری کو متاثر کئے بغیر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ منتخب پولنگ بوتھس پر ویب کاسٹنگ کے ذریعہ نظر رکھی جائے گی۔ حلقوں کے سرحدی تلاشی مراکز پر بھی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ ہماچل پردیش اور گجرات کے انتخابات کو غیرمربوط کرنے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اپوزیشن قائدین نے تنقید کی تھی، لیکن چیف الیکشن کمشنر نے اپنے فیصلے کی مدافعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ گجرات میں انتخابی شیڈول کو قطعیت دینے کے معاملہ میں مختلف عناصر اور وجوہات کو ملحوظ رکھا تھا جن میں سیلاب کے بعد جاری امدادی مہم بھی شامل ہے۔ انہوں نے چہارشنبہ کو کہا کہ 229 افراد سیلاب کے سبب فوت ہوئے جس سے ہولناک تباہی کا اظہار ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT