Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / گجرات الیکشن بی جے پی کا وقار داؤ پر، کانگریس کیلئے فیصلہ کن موڑ

گجرات الیکشن بی جے پی کا وقار داؤ پر، کانگریس کیلئے فیصلہ کن موڑ

 

برج موہن چترویدی
گجرات اسمبلی الیکشن جو اِس سال کے اواخر میں مقرر ہے، بہت اہمیت کے انتخابات ہیں۔ یہ ریاست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا زائد از دو دہوں سے گڑھ اور نریندر مودی کا سیاسی وطن ہے۔ اس لئے گجرات بی جے پی کیلئے وقار و ساکھ کی لڑائی ہے اور وہ پھر جیتنا چاہیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) دو دہوں سے کھویا اپنا سیاسی مقام دوبارہ حاصل کرلینا چاہے گی۔ اس طرح یہ الیکشن وقار اور بقا کی شدید انتخابی لڑائی ہونے والا ہے۔ ایک طرف، گجرات کو کانگریس کے حق میں ہار دینا بی جے پی کیلئے 2019ء کے پارلیمانی انتخابات سے قبل بہت بڑا جھٹکہ ثابت ہوگا۔ دوسری طرف، بی جے پی کی فتح 2019ء کا پارلیمانی الیکشن جیتنے کیلئے اُس کی راہ کو آسانی کردے گی۔
مستقبل کے بارے میں پیش قیاسی کرنے کیلئے تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے۔ گجرات میں کانگریس 1995ء سے بے اقتدار ہے۔ تاہم، اکٹوبر 1996ء سے مارچ 1998ء کی مختصر مدت تک وہ برسراقتدار اتحاد کا حصہ رہی، جس میں شنکرسنہہ وگھیلا کی راشٹریہ جنتا پارٹی (آر جے پی) شراکت دار رہی، جو وگھیلا نے بی جے پی چھوڑنے کے بعد تشکیل دی تھی۔ وہی آخری وقت رہا کہ کانگریس اس ریاست میں حکومت کا حصہ تھی۔ بی جے پی مارچ 1998ء سے اقتدار میں رہی ہے لیکن زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ پارٹی کو 1995ء سے اسمبلی میں غلبہ حاصل رہا ہے۔ گزشتہ دو دہوں میں اس کا موقف مضبوط ہوتا رہا ہے۔ گزشتہ دو اسمبلی انتخابات اس کے بڑھتے غلبے کی توسیع ثابت ہوئے ہیں۔ 2007ء اور 2012ء اسمبلی انتخابات میں اسے ترتیب وار 49.1% اور 47.9% ووٹ حاصل ہوئے۔ اسی مدت کے دوران کانگریس کو 38% اور 38.8% ووٹ ملے۔
گزشتہ دو دہوں میں دونوں نیشنل پارٹیوں …بی جے پی اور کانگریس… کی گجرات میں مقبولیت بڑھتی رہی ہے۔ درحقیقت، آنے والا اسٹیٹ الیکشن دو جماعتی مقابلہ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ یہ دونوں مل کر لگ بھگ 90% ووٹ پر حاوی ہیں، بقیہ 10% ووٹ دیگر نیشنل اور ریجنل پارٹیوں کیلئے رہ گئے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گزشتہ دو دہوں میں تمام دیگر قومی اور علاقائی جماعتیں اس ریاست میں موافقت کھوچکے ہیں۔ لیکن اس الیکشن میں تین قومی اور علاقائی جماعتوں … عام آدمی پارٹی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور وگھیلا کی پارٹی… کا داخلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ان تینوں میں سے اے اے پی کچھ چیلنج پیش کرسکتی ہے، بالخصوص اس سبب کہ اُس کی انتخابی مہم کے طریقے نئے ہیں۔ اس پارٹی کو پنجاب اور گوا کے انتخابات میں ناکامی سے سبق ملا ہے اور وہ صرف ان ہی نشستوں کیلئے اپنے امیدوار کھڑے گی جہاں اس کی مرکزی قیادت کی طے کردہ کسوٹی کی تکمیل ہوتی ہو۔
این سی پی عملاً کانگریس کا کھیل بگاڑنے کا رول ادا کرتے ہوئے مخالف بی جے پی ووٹ کو تقسیم کرکے کانگریس کا کام مشکل بنائے گی۔ اس پارٹی نے تمام 182 نشستوں پر چناؤ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ کانگریس کی بقا کے امکانات کو متاثر کرے گی۔ وگھیلا کی پارٹی بھی ایک اور مخرب (کام بگاڑنے والی) رہے گی۔ حالیہ عرصہ تک وگھیلا کانگریس کے رکن اور سب سے قدآور ٹھاکر لیڈر تھے۔ اُن کی قیادت کے دوران زیادہ تر ٹھاکروں نے کانگریس کے حق میں ووٹ ڈالے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں شمالی گجرات میں بی جے پی نے 27 نشستوں کے منجملہ 13 جیتے، جبکہ کانگریس نے اپنی عددی طاقت 6 سے 14 کرلی۔ کانگریس سے وگھیلا کا اخراج اس علاقے میں پارٹی کو نقصان پہنچائے گا۔
یہ تینوں پارٹیوں کا داخلہ اگرچہ کچھ اثر ڈالے گا، لیکن عین ممکن ہے گجرات کی لڑائی اصلاً کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہوگی۔ کانگریس نے اپنے ووٹوں کا تناسب 1995ء میں 32.9% سے لے کر 2012ء میں 38.9% تک بڑھایا۔ گزشتہ تین اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اوسطاً 39% ووٹ حاصل کئے ہیں۔ تاہم، بی جے پی بہت اچھا مظاہرہ درج کراتی رہی ہے۔ بی جے پی کو حاصل ہونے والے ووٹوں کا مجموعی تناسب 1995ء سے بڑھتا رہا ہے۔ یہ تناسب مودی کی قیادت میں لگ بھگ 49% تک پہنچا۔ اس پارٹی کو گزشتہ تین اسمبلی چناؤ کے دوران 48-49% ووٹ حاصل ہوئے۔ اس طرح برسراقتدار پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان محصلہ ووٹ میں 10 فیصدی پوائنٹس کا فرق ہے۔ یہ فرق شہری اور دیہی تقسیم کا نتیجہ بھی ہے۔
کانگریس دیہی ووٹ بینک کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہوتی رہی ہے لیکن شہری رائے دہندوں کو راغب کرنے میں ناکام ہوئی۔ یہی کچھ حالیہ مجالس مقامی چناؤ میں ظاہر ہوا جہاں اس نے پنچایتوں میں اپنا موقف مضبوط بنایا لیکن وہ شہری ووٹروں میں اپنی مقبولیت نہیں بڑھا پائی۔ حالیہ پنچایت الیکشن میں کانگریس نے 31 ضلع پنچایتوں کے منجملہ 23 اور 193 پنچایتوں میں سے 113 جیتے لیکن بی جے پی نے تمام بڑے میونسپل کارپویشن جیت لئے… احمدآباد، سورت، راجکوٹ، وڈوڈرا، بھاؤنگر اور جامنگر… اور چھوٹے قصبات کے 56 میونسپل کارپوریشن میں سے 40 پر بھی قبضہ کرلیا۔ پنچایت اور بلدی انتخابات کے حساب سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس گجرات کو جیتنے سے بہت دور ہے۔ 182 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کی ہنوز 67 شہری اور 20 نیم شہری اسمبلی نشستوں پر گرفت ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بی جے پی شہری اور نیم شہری علاقوں کی پسندیدہ پارٹی رہی ہے۔ یہی کچھ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ظاہر ہوا۔ 2012ء میں اس پارٹی نے سورت میں 16 نشستوں میں سے 15 جیتے، احمدآباد (17) میں 15، راجکوٹ (4) میں 3 اور گاندھی نگر، وڈوڈرا اور بھاؤنگر میں تمام نشستیں جیتے ۔
درج بالا اعداد و شمار و حقائق کی روشنی میں اِس مرتبہ بھی بی جے پی کے حق میں امکانات روشن نظر آتے ہیں لیکن کانگریس کیلئے گجرات میں بی جے پی کو شکست دینے کا یہی بہترین موقع ہے۔ کئی طرح سے آنے والا اسمبلی الیکشن ایسا موقع ہے جس کا انتظار کانگریس گزشتہ دو دہوں سے کرتی رہی ہے۔ بی جے پی کو دو دہوں بعد بھی عمومیت سے کوئی بڑی مخالف حکومت لہر کا سامنا نہیں ہے۔ تاہم، مقامی قیادت اور چیف منسٹر کو نریندر مودی کی مقبولیت سے پیداشدہ توقعات سے نمٹنے میں دقت ہورہی ہے۔ ریاستی بی جے پی کے پاس مودی کے سیاسی قد جیسے قائدین نہیں ہیں کہ گجرات میں پارٹی اور حکومت کو کامیابی سے چلا سکیں۔ علاوہ ازیں، پٹیل ووٹ بینک جو گجرات میں اس کا سب سے بڑا حمایتی گوشہ ہے وہاں بے چینی؛ متوازی مقامی قائدین کا اُبھرنا جیسے پٹیل لیڈر ہاردک پٹیل اور دلت لیڈر جِگنیش میوانی نے بی جے پی کی پریشانیاں بڑھائے ہیں۔ مقامی اور علاقائی قائدین کو اب موقع ہے کہ ’گجراتی اَسمیتا‘ کارڈ کا استعمال کریں جو بی جے پی طویل عرصے سے کرتی آئی ہے۔ اس طرح کے سازگار ماحول کے باوجود کانگریس کو طویل سفر طے کرنا ہے۔ حالیہ عرصے میں کانگریس نے گجرات میں اپنے سب سے قدآور لیڈر شنکرسنہہ وگھیلا کو کھودیا ہے۔
کانگریس کیلئے ووٹ کے تناسب میں 10 فیصدی پوائنٹس کی خلیج کو پاٹنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اُسے اپنی انتخابی مہم کی حکمت عملی اور اس پر عمل آوری کے معاملے میں سرجوڑ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں اسے دیہی گجرات میں اپنی تائید و حمایت کو مضبوط کرنا ہے، وہیں اسے شہری ووٹروں کا بھروسہ جیتنے کیلئے لازماً سخت محنت کرنا پڑے گا۔ اس پارٹی کو ’سوشل انجینئرنگ‘ کے معاملے میں مہارت دکھانا ہوگا۔ گجرات میں ذات پات پر مبنی سیاست کے پہلوؤں میں تبدیلی آرہی ہے ، اور کانگریس کیلئے ضروری ہے کہ محنت کرتے ہوئے اس تبدیلی کو اپنے حق میں لانے کے جتن کرے۔ درحقیقت، اس ریاست میں دو دہوں تک ذات پات پر مبنی سیاست میں تبدیلی نہیں آئی۔ پٹیل برادری جو ووٹ بینک میں 15% ہے، اس نے بی جے پی کیلئے ووٹ ڈالے؛ برہمن اور جین (لگ بھگ 5%) بھی زیادہ تر بی جے پی کے حق میں ووٹ دیتے ہیں، اور او بی سیز (دیگر پسماندہ طبقات) جو تقریباً 35% کا سب سے بڑا بلاک ہوتے ہیں، وہ بھی بی جے پی کی حمایت کرتے ہیں؛ اس طرح یہ جملہ ووٹ بینک کا 55% ہوجاتا ہے۔
مسلمان جو 10% ووٹ رکھتے ہیں، ایس سی (درجِ فہرست طبقات) اور ایس ٹی (درجِ فہرست قبائل) کا متحدہ گوشہ ووٹ بینک کا تقریباً 25% حصہ جوڑتا ہے، اور ٹھاکر برادری (8%) کانگریس کے تائیدی ہیں۔ اس طرح کانگریس کو ٹھاکروں، دلتوں (ہریجنوں)، قبائلیوں (آدیواسی لوگ) اور مسلمانوں کی تائید و حمایت حاصل ہے، جو مجموعی طور پر 43% ووٹ ہوتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بی جے پی نے کانگریس کے دیرینہ ووٹروں میں بھی قابل لحاظ اثر قائم کرلیا۔ اس سے درجِ بالا 43% والا تناسب بگڑسکتا ہے۔ بی جے پی اس سمت میں کوششیں 2015ء سے کرتی آئی ہے۔ گزشتہ دو سال میں اس کی سعی رہی ہے کہ گجرات میں نئے سماجی مخلوط کی ترکیب عمل میں لائی جائے، بالخصوص تب سے جب اس کی کلیدی حمایتی پٹیدار برادری نے حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن کا مطالبہ کردیا۔ بی جے پی قبائلیوں (آدیواسیوں)، ٹھاکروں اور کولیوں کو راغب کرنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہے۔ ٹھاکر اور کولی برادریاں موجودہ طور پر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان لگ بھگ مساوی اعتبار سے منقسم ہیں۔ گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں ایس ٹی کیلئے محفوظ 27 نشستوں کے منجملہ 16 کانگریس نے جیتے اور بقیہ بی جے پی و دیگر کے حصے میں گئے۔
گجرات کی قبائلی پٹی نیا انتخابی میدان بننے جارہا ہے اور جو پارٹی اس ریاست کو جیتنا چاہے، اُسے ضرور یہاں بڑی کامیابی درج کرانا پڑے گا۔ قبائلیوں کے ووٹ بی جے پی کیلئے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں کہ اطمینان بخش جیت درج کراسکے، اور کانگریس کیلئے ان کا بدستور تائیدی رہنا ضروری ہے۔ اگر بی جے پی قبائلیوں، ٹھاکروں اور کولیوں کے ووٹوں کا معمولی تناسب بھی جیتنے میں کامیاب ہوجائے تو یہ کانگریس کیلئے بڑا جھٹکہ ہوگا۔ جہاں آر ایس ایس سخت محنت کررہا ہے کہ کانگریس کا اہم ووٹ بینک منتشر کردیا جائے، وہیں قدیم پارٹی کو ہنوز ٹھوس حکمت عملی کی تلاش ہے کہ بی جے پی کو شکست دی جاسکے۔ وہ بھی سخت محنت کررہی ہے کہ دیہی حمایت کو مضبوط رکھتے ہوئے شہری ووٹروں کی تائید حاصل کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا جائے۔ کانگریس بھلے ہی اپنے ووٹوں کا تناسب بڑھانے کیلئے کوئی پلان بنالے، لیکن آر ایس ایس جیسی کوئی تنظیم کا فقدان اُس کیلئے مشکل بنادے گا کہ اپنے منصوبہ کو بنیادی سطح پر عمل میں لائے۔ آنندی بین پٹیل کو چیف منسٹر کی حیثیت سے ہٹایا نہ جاتا اور وگھیلا پارٹی نہ چھوڑتے تو کانگریس کو یہ ریاست جیتنے کا بہتر موقع ہوسکتا تھا ۔ موجودہ سیاسی صورتحال کافی پیچیدہ ہے اور انتخابی میدان میں نئے ’کھلاڑیوں‘ تمام پارٹیوں کو اپنی اپنی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ گجرات کے انتخابات پورا امکان ہے کہ 2018ء میں تمام اسمبلی چناؤ… کرناٹک، مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ… کیلئے ماحول طے کریں گے، اور آئندہ جنرل الیکشن (2019ء) کیلئے اشارہ بھی مل جائے گا۔ لہٰذا، بہت کچھ داؤ پر لگا ہے، جو محض بڑی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی کی حد تک محدود نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT