Monday , August 20 2018
Home / اداریہ / گجرات انتخابات اور بی جے پی

گجرات انتخابات اور بی جے پی

ہم نے سوچا تھا چلو کچھ فاصلہ مٹ جائے گا
اُن سے مل کر زخم اپنا اور بھی گہرا لگا
گجرات انتخابات اور بی جے پی
وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ کی آبائی ریاست گجرات میں انتخابات کی سرگرمیاں بام عروج پر ہیں۔ یہاں ایک مرحلہ کی رائے دہی ہوچکی ہے جبکہ دوسرے مرحلہ کی رائے دہی کیلئے تین دن باقی ہیں۔ یہاں دوسرے مرحلہ کیلئے انتخابی مہم کل ختم ہونے والی ہے ۔ اسمبلی انتخابات کیلئے یہاں بی جے پی کی جانب سے اب تک جو مہم چلائی گئی ہے وہ انتہائی افسوسناک اور منفی سوچ کی حامل کہی جاسکتی ہے ۔ سارے ملک میں ترقی کے گجرات ماڈل کی مثال پیش کرتے ہوئے انتخابات میں عوام سے رجوع ہونے والی بی جے پی نے ریاست میں اب تک بھی ‘ جبکہ پولنگ کیلئے صرف تین باقی ہیں ‘ ریاست میں ترقی کا کوئی حوالہ نہیں دیا ہے ۔ ریاستی بی جے پی بھی ایسا لگتا ہے کہ کہیں پس منظر میں چلی گئی ہے ۔ صرف نریندر مودی کی ریلیوں اور امیت شاہ کی توڑ جوڑ پر اکتفا کیا جا رہا ہے ۔ یہ تاثر مل رہا ہے کہ نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بی جے پی کے وزارت اعلی امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے کئی مرکزی وزرا اور دوسری ریاستوں کے چیف منسٹروں کو بھی یہاں مہم کیلئے طلب کیا جا رہا ہے جبکہ کانگریس کی جانب سے صرف راہول گاندھی پارٹی کی مہم کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ بی جے پی نے صرف اختلافی مسائل یا جملہ بازیوں پر ہی اکتفا کیا ہے ۔ حسب روایت پاکستان کے حوالے ‘ ہندو مسلم جذبات کا استحصال ‘ در پردہ فرقہ پرستانہ ایجنڈہ کے سہارے پر انتخابات میں مقابلہ کی کوشش کی جا رہی ہے اور پارٹی کو امید ہے کہ وہ ان مسائل کا استحصال کرتے ہوئے ایک بار پھر ریاست میں اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے ۔ گجرات اور گجرات کے عوام کو درپیش مسائل پر پارٹی نے کوئی منصوبہ یا پروگرام پیش کرنا ضروری نہیں سمجھا ہے ۔ نہ ریاست کے مستقبل کے تعلق سے کوئی منشور پارٹی نے عوام کے سامنے پیش کیا ہے ۔ اب تک کئے گئے کاموں کو گنوانے میں بھی بی جے پی ناکام ہے اور نہ ہی وہ مستقبل کے ایجنڈہ کو پیش کرنے کے موقف میں دکھائی دے رہی ہے ۔ صرف اختلافی مسائل کو ہوا دینے پر اکتفا کیا جا رہا ہے ۔ کانگریس پر تنقیدوں یا طنز کے ذریعہ ہی عوام پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کانگریس نائب صدر راہول گاندھی کی جانب سے عوام کو درپیش بنیادی مسائل پر حکومت سے سوال کئے جا رہے ہیں لیکن حکومت اس کا کوئی جواب دینے کو تیار نہیں ہے ۔گجرات میں اور مرکز میں دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت ہے اور جو مسائل اپوزیشن کانگریس کی جانب سے اٹھائے جا رہے ہیں ان پر عوام کو جواب دینا حکومت اور انتخابات کے موسم میں بی جے پی کا فریضہ ہے جس سے صرف نظر کیا جا رہا ہے ۔ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو دبانے کیلئے منفی حربے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ عوام کو بنیادی مسائل پر سوال کرنے سے روکنے کیلئے پاکستان کا ہوا کھڑا کیا جا رہا ہے ۔ کانگریس قائدین کے ریمارکس کا استحصال کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ بی جے پی کی مخالفت کرنے پر ہاردک پٹیل جیسے با اثر قائدین کی سیکس سی ڈی کو عوام میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ووٹوں کی تقسیم کو یقینی بنانے کیلئے احمد پٹیل کو چیف منسٹر بنانے کے پوسٹرس جاری کئے جا رہے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی قائدین کے فرضی مکتوب راہول گاندھی کے نام جاری کئے جا رہے ہیں جن میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ریاست میں کانگریس کو اقتدار نہیں ملے گا ۔ یہ سب کچھ بی جے پی کے منفی حربے ہیں اور اس کی منفی ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ پہلے فلم پدماوتی کے خلاف مہم سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن اس سے بھی پارٹی کو کوئی خاص فائدہ ہوتا نظر نہیں آیا ۔ ساری کوششیں منفی ذہنیت کے ساتھ ہو رہی ہیں اور مثبت پہلووں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ کوئی ترقیاتی ایجنڈہ یا مستقبل کے منصوبوں پر مباحث کیلئے تیارنہیں ہے ۔
ایک ایسی جماعت جو مرکز میں اپنے بل پر اقتدار رکھتی ہے ‘ ایک ایسی جماعت جس کے وزیر اعظم کو ملک بھر میں انتہائی مقبول ظاہر کیا جاتا ہے ‘ ایک ایسی جماعت جو ملک کی نصف سے زیادہ ریاستوں میں برسراقتدار ہے اس جماعت کو خود وزیر اعظم اور پارٹی صدر کی آبائی ریاست میں مثبت سوچ کے ساتھ انتخابات میں مقابلہ کی توفیق نہیں ہوتی اور وہ منفی سوچ اور منفی ذہنیت کے ساتھ انتخابات میں مقابلہ کرتی ہے تو یہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقی کے گجرات ماڈل کی جو دہائی دی جاتی تھی وہ محض فرضی تھی اور اس میں میڈیا کی مدد شامل رہا کرتی تھی ۔ حقیقت حال اس کے برعکس ہے اور عوام کو اس حقیقت تک پہونچنے سے روکنے کیلئے سارے منفی ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ ملک بھر کے عوام کو اس تعلق سے حقیقت حال کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور بی جے پی کے تشہیری ہتھکنڈے کا شکار نہیں ہونا چاہئے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT