گجرات انتخابات : بی جے پی کو کئی حلقوں میں شرمناک شکست

نئی دہلی ۔18 ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اور کانگریس کم از کم گجرات کی 16 نشستوں پر سخت مقابلے میں تھے جہاں بی جے پی امیدواروں کی کامیابی 2000 سے بھی کم ووٹوں اور بعض حلقوں میں صرف 200 ووٹوں کی سبقت سے ہوئی ۔ 2012ء کی بہ نسبت بی جے پی کا ووٹوں میں حصہ سنگین انحطاط کا شکار ہوا ، یہاں تک کہ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات کی بہ نسبت ووٹوں میں اُس کا حصہ انتہائی کم رہا ۔ جبکہ کانگریس نے نمایاں طورپر اپنی کارکردگی بہتر بنائی ۔ تاہم اس کے باوجود راہول گاندھی زیرقیادت پارٹی کافی تعداد میں نشستیں حاصل نہیں کرسکیں۔ مودی کے آبائی قصبہ میں بھی بی جے پی امیدوار کو شرمناک شکست ہوئی ۔ کانگریس کی آشا بین پٹیل نے یہ نشست اپنے بی جے پی حریف نارائن بھائی پٹیل سے چھین لی ۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب بنگال بی جے پی نے کہا کہ گجرات کے انتخابی نتائج سے دوررس اثرات مرتب ہوں گے ۔ ہماچل پردیش میں بی جے پی اور کانگریس کے کئی اعلیٰ سطحی قائدین بشمول بی جے پی کے چیف منسٹری کے امیدوار پریم کمار دھومل کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ وہیں چیف منسٹر ویربھدرسنگھ کامیاب ہوگئے ۔ویربھدرسنگھ کے فرزند وکرما دتیہ سنگھ شملہ دیہی حلقہ سے کامیاب رہے ۔ قبل ازیں اُنھیں سبکدوش چیف منسٹر پریم کمار دھومل نے متعارف کروایا تھا اور وہ پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT