Wednesday , January 17 2018
Home / Top Stories / گجرات انتخابات :دوسرے مرحلے میں پاٹیدار طبقہ بادشاہ گر

گجرات انتخابات :دوسرے مرحلے میں پاٹیدار طبقہ بادشاہ گر

تقریباً 3 دہوں سے بی جے پی کے حامی رہے ووٹرس ہی بی جے پی کیلئے سب سے بڑا خطرہ
احمدآباد۔ 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) گجرات انتخابات کے دوسرے مرحلے کی گھڑیاں جیسے جیسے قریب آرہی ہیں، ویسے ہی تمام سیاسی قائدین کی نظریں گجرات کی میگا سٹی کے اُن 16 نشستوں پر مرکوز ہوگئی ہیں، جہاں 14 ڈسمبر کو میگا سٹی کے 39 لاکھ رائے دہندے سیاسی قائدین کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ واضح رہے کہ 14 ڈسمبر کو دوسرے مرحلے کے ہونے والے انتخابات کے تحت میگا سٹی کے یہ وہی 16 حلقہ جات ِاسمبلی ہیں جو 1990ء کے دہے سے بی جے پی کا مضبوط ترین گڑھ رہے ہیں۔ سال 2012ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ان شہری علاقوں کے 16 نشستوں میں سے 14 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جن میں گٹھ لودھیا، جمال پور، کھادیا، ویجل پور، واٹوا، الیس بریج، نارن پورہ، نیکول، نروڈا، ٹھکر باپا نگر، باپو نگر، امرائی واڑی، منی نگر، سابرمتی اور اسروا اسمبلی حلقہ جات شامل ہیں جبکہ کانگریس کو محض 2 نشستوں دریا پور، دنیلی مڈا پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ گجرات کی دوسرے شہروں کی طرح اِن شہروں کے رائے دہندے بھی 1990ء کی دہائی سے بی جے پی کے کٹر حامی رہے ہیں۔ کم از کم 5 نشستوں گٹھ لودھیا، نیکول، منی نگر، سابرمتی، ٹھکر باپا نگر پر پاٹیدار طبقہ کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے، تاہم مذکورہ علاقہ میں پچھلے دو سال سے ہاردِک پٹیل زیرقیادت کوٹہ ایجی ٹیشن کے نام پر زبردست تشدد برپا ہوتا رہا ہے۔ دوسری طرف ان میں سے 4 نشستیں ایسی ہیں جہاں مسلمانوں کی خاصی آبادی موجود ہے، ان میں جمال پور کھادیا، دریا پور، دنیلی مڈا اور ویجل پور شامل ہیں۔ منی نگر حلقہ اسمبلی سے وزیراعظم نریندر مودی نے 2002ء سے 2014ء تک نمائندگی کی ہے ، بعدازاں 2014ء میں وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے اس نشست سے استعفیٰ دے دیا۔

اس طرح منی نگر حلقہ اسمبلی ہائی پروفائیل اور بی جے پی کا مستحکم قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ 2012ء میں نریندر مودی نے یہاں سے 86 ہزار ووٹوں سے مخالف امیدوار کو شکست دیا تھا جبکہ ان کے مستعفی ہونے کے بعد بی جے پی نے سریش پٹیل کو اس نشست سے مقابلہ کیلئے میدان میں اُتارا تھا جنہوں نے تقریباً 52,000 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی، جہاں پر مجموعی طور پر پاٹیدار طبقہ کی تعداد 49,000 ہے۔ ایک بار پھر اس علاقہ سے سریش پٹیل کو ہی میدان میں اتارا گیا ہے جن کا مقابلہ کانگریس کے امیدوار نوجوان چہرہ اور آئی آئی ایم سے تعلیم یافتہ شویتا برمن بھٹ سے ہے۔ دوسری اہم سیٹ گٹھ لودھیا کا ہے جہاں سے سابق چیف منسٹر گجرات آنندی پٹیل نمائندگی کیا کرتی تھیں تاہم انہوں نے گزشتہ سال کوٹہ ایجی ٹیشن کے سبب اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس مرتبہ انہوں نے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی جانب سے انکار کئے جانے کے بعد پارٹی سینئر قائد بھوپیندر پٹیل کو اس نشست سے مقابلے کیلئے کھڑا کیا گیا ہے۔ اسی طرح متصلہ حلقہ اسمبلی جہاں پر 40,000 پاٹیدار رائے دہندے ہیں، بی جے پی سربراہ امیت شاہ نمائندگی کیا کرتے تھے، تاہم انہوں نے جاریہ سال اگست میں راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اس نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا، لہٰذا اس مرتبہ پارٹی نے سابق وزیر کوشک پٹیل کو اس نشست سے مقابلہ کیلئے کھڑا کیا ہے جو امیت شاہ کافی قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچیکہ عشروں سے پاٹیدار طبقہ زعفرانی جماعت کا گرویدہ رہا ہے، مگر پچھلے دو سال سے ہاردک پٹیل کی زیرقیادت ’’تحریک تحفظات‘‘ کی وجہ سے پاٹیدار طبقہ بی جے پی سے بظاہر بدظن نظر آرہا ہے۔ ان حلقوں میں ہاردک پٹیل نے باضابطہ طور پر اپنی کمیونٹی سے بی جے پی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینک دینے کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ وہ نشستیں پاٹیدار طبقہ کی تعداد کافی ہے، اور وہ بی جے پی سے ناراض بھی دِکھ رہے ہیں، وہ حلقے ٹھکر باپا نگر (35 ہزار پٹیل ووٹرس)، باپو نگر (31 پٹیل ووٹرس)، نیکول (52 ہزار) ، نروڈا (34 ہزار) اور سابرمتی میں 44 ہزار پٹیل یا پاٹیدار رائے دہندے اپنے اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ پٹیل کے علاوہ پرانے شہر جمال پور کھڈیا نشست پر بھی سب کی نظریں ہیں جہاں پر 1.98 لاکھ رائے دہندے موجود ہیں جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور یہاں سے فی الحال بی جے پی کے رکن اسمبلی بھوشن بھٹ نمائندگی کرتے ہیں، تاہم اس بار ان کی قسمت کا ستارہ بھی گردش میں نظر رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT