Thursday , August 16 2018
Home / سیاسیات / گجرات انتخابات سال 2018-19 میں انکم ٹیکس کو گھٹانے کا منصوبہ

گجرات انتخابات سال 2018-19 میں انکم ٹیکس کو گھٹانے کا منصوبہ

نئی دہلی 23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) چونکہ 2018-19 ء کا بجٹ جو آئندہ سال یکم فروری کو پیش کیا جانا ہے، وزیراعظم نریندر مودی زیرقیادت موجودہ این ڈی اے حکومت کا مکمل سال کا آخری بجٹ رہے گا، اِس لئے وزیر فینانس ارون جیٹلی عین ممکن ہے ٹیکس سسٹم کو واجبی اور سادہ بنانے کے اقدامات کا اعلان کریں گے۔ وزارت فینانس نے مرکزی بجٹ برائے 2018-19 ء کی تیاری کے لئے سرکاری سرکیولر جاری کردیا ہے اور موجودہ حکومت کی طرف سے مکمل سال کے لئے آخری بجٹ پر کام سرگرمی سے شروع ہوچکا ہے۔ یہ بجٹ بلاشبہ آئندہ لوک سبھا چناؤ میں جو 2019 ء میں ہونے ہیں، موجودہ حکومت کی کامیابی کے امکانات پر اثر ڈالے گا۔ چنانچہ وزیر فینانس جیٹلی پر اہم ذمہ داری ہے کہ ترقی پر مبنی بجٹ پیش کریں جو سرمایہ کاری اور نوکریوں سے متعلق فکرمندی کو دور کرے۔ حقیقت میں اگرچہ یہ وزیراعظم مودی کی موجودہ میعاد کا آخری مکمل بجٹ رہے گا لیکن یہ عوام کو خوش کرنے والے اقدامات والا بجٹ ثابت ہوسکتا ہے حالانکہ جی ڈی پی کی شرح (7%)کے اعتبار سے راحت کاری اقدامات اور فوائد پیش کرنے کی گنجائش جاریہ مالی سال میں کم ہے۔ یوں تو حکومت کلیدی قانون سازیوں کو اپنی میعاد کے دوران پارلیمنٹ میں منظور کراتے ہوئے اچھی کارگزاری پیش کرچکی ہے لیکن حصول اراضی اور لیبر لاء میں تبدیلیوں کے معاملے میں وہ کچھ پیشرفت نہیں کرپائی، جو انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اور نوکریوں کی گنجائش نکالنے کے لئے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگلے بجٹ میں حکومت کو اِن قانون سازیوں پر ضرور توجہ دینا پڑے گا۔ تاہم ، حکومت کے لئے زیادہ بڑا چیلنج ٹیکس کاری محاذ پر معیاری رہے گا چاہے وہ بالواسطہ محاصل ہوں یا راست ٹیکس۔ بالواسطہ ٹیکس کے معاملہ میں تمام فیصلے جی ایس ٹی کونسل کو کرنے پڑیں گے لیکن سب سے اہم شعبہ ڈائرکٹ ٹیکس کا ہے جہاں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور وزیراعظم مودی پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ عوام پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا ضروری ہے۔ قانون کو آسان بنانے کیلئے 50 سال قدیم قانون میں جس میں اس عرصہ میں ہزاروں ترمیمات ہوچکی ہیں۔ نیا قانون وضع کیا گیا جو موجودہ کاروباری ماحول کے مطابق ہو۔ یہ ایک تجارت کے فروغ کیلئے سازگار قانون ہے جس سے شعبہ صنعت کے اندیشوں کا ازالہ ہوسکتا ہے۔ حکومت نے ماضی قریب میں کئی اقدامات جیسے زیربحث مسائل پر وضاحتو ںکا اجراء، نئے قواعد سے متعلق معلومات پر مبنی رہنمایانہ خطوط کا اجراء، عدالتی فیصلوں وغیرہ کو تسلیم کرنا جس سے ٹیکس دہندگان کو فائدہ پہنچے، کئے ہیں۔ انکم ٹیکس قانون کی دفعات تفصیلی تنازعات کا معاملہ بن گئی تھیں جس کے نتیجہ میں تاویل میں پیچیدگی پیدا ہوتی تھی۔ ایک نیا قانون وضع ہونے سے عدلیہ پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا اور تنازعات میں کمی متوقع ہے۔ راست ٹیکس کا قانون عہدیداروں کو کوتاہیاں دور کرنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ اسے سالانہ مشق بنایا جائے گا۔ یہ ایک بہترین موقع ہے جس سے نئے قانون کو زیادہ سادہ، ٹیکس دہندہ دوست، تنازعات سے پاک اور تاویلات کی کوتاہیوں سے پاک بنایا جاسکے۔ قانون انکم ٹیکس 1961ء پر نظرثانی کی گئی ہے۔ نریندر مودی حکومت کے راست ٹیکس قانون سے ٹیکس دہندگان کو فائدہ پہنچے گا۔

TOPPOPULARRECENT