Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / گجرات انتخابات : مغربی بنگال اور آسام کے مسلمان بی جے پی کے نشانہ پر

گجرات انتخابات : مغربی بنگال اور آسام کے مسلمان بی جے پی کے نشانہ پر

بنگلہ دیشی قرار دینے کی کوشش ‘ دیگر ریاستوں کی حکمت عملی کے گجرات میں اعادہ کا ارادہ ‘فرقہ پرستی کا ایجنڈہ

حیدرآباد۔19نومبر(سیاست نیوز) ملک میں ہر انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے بنگلہ دیشی شہریوں کی ملک میں موجودگی اور انہیں ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے مغربی بنگال اور آسام سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے اور اب گجرات انتخابات سے قبل بھی آسام کے لاکھوں مسلم خاندانوں کو غیر ملکی قرار دینے کی کوشش کی جانے لگی ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ بنگلہ دیشی شہری ہیں جو ہندستان میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرتے ہوئے داخل ہوئے ہیں اورانہیں صرف بھارتیہ جنتا پارٹی ہی ملک سے باہر نکال سکتی ہے۔ گجرات کے اکثر گجراتی تجارت پیشہ ہیں اور ان میں اکثریتی طبقہ کے گجراتی کو خائف کرنے کے فن سے بھارتیہ جنتا پارٹی بخوبی واقف ہے ۔ 2014میں ملک کا اقتدار حاصل ہونے کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے جو کوششیں کی ہیں ان میں حاصل ہونے والی کامیابی کے سلسلہ کو برقرار رکھنے کیلئے ان ریاستوں کی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آسام‘ اترپردیش‘ مہاراشٹر‘ گوا‘ منی پور اور دیگر ریاستوں میں جو حکمت عملی اختیار کی گئی وہ تمام حکمت عملی کا جز گجرات میں اختیار کیا جائے گا ۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے آسام انتخابات میں غیر ملکی باشندوں اور فرضی رائے دہندوں کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا اور لاکھوں کی تعداد میں نوجوانوں کو نظر بندی مراکز میں پہنچاتے ہوئے ان کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مقامی آسامی اکثریتی طبقہ کو متحد کیا اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد کی صورت کو ختم کرنے کے لئے آسام میں سیاسی جماعت کے رہنماء جو کہ بین الاقوامی تاجر ہیں انہیں خائف کرتے ہوئے اتحاد سے باز رکھا گیا جس کے سبب اپوزیشن کے ووٹ تقسیم ہونے کے علاوہ مخالف مسلم ووٹ متحد ہوگئے جس کے نتیجہ میں آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار حاصل ہوا۔ آسام انتخابات میںکامیابی کیلئے اختیار کردہ حکمت عملی کے نتائج کے بعد اب اسی مسئلہ کو گجرات انتخابات سے قبل بھی چھیڑا جانے لگا ہے اور کہا جارہاہے کہ آسام میں بسنے والے ہندستانی شہریوں کی فہرست جاری کی جائے گی اور اس فہرست میں وہ نام شامل نہیں ہیں جو ہندستانی نہیں ہیں۔ حکومت آسام کی جانب سے جاری کی جانے والی اس فہرست سے آسام میں امن و ضبط کی صورتحال بگڑ سکتی ہے اور جو مسلم ہندستانی شہری غیر ملکی ہونے کے الزام کا سامنا کررہے ہیں ان کے افراد خاندان بھڑک سکتے ہیں اسی لئے حکومت آسام کی جانب سے مرکزی حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے یہ خواہش کی جارہی ہے کہ آسام میں نیم فوجی دستوں کو متعین کیا جائے۔

آسام میں حالات کو کچھ حد تک بگاڑنے اور غیر ملکی شہریو ںکی ملک میں موجودگی کے مسئلہ کو چھیڑتے ہوئے گجرات کے تجارتی طبقہ کو ان کی سلامتی کے متعلق متفکر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ گجرات کے تجارتی طبقہ میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر میں گائے کی سیاست کے علاوہ اپوزیشن اتحاد کو کمزور کرنے کیلئے این سی پی اور کانگریس کو دور رکھا گیا اور این سی پی قائدین کو سی بی آئی سے خوفزدہ کرتے ہوئے اسے کانگریس سے اتحاد سے دور رکھا گیا اور اس کے علاوہ مسلم ووٹ متحدہ طور پر کانگریس حاصل نہ کرسکے اس کیلئے مسلم سیاسی جماعت کو میدان میں اتارا گیا ۔ اسی طرح اترپردیش میں مندر ۔مسجد اور گائے کی سیاست کے بعد اپوزیشن اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں ناکامی کی صورت میں سماج وادی پارٹی کو ہی داخلی اختلافات کا شکار بنادیا گیا اور باپ‘ بیٹے‘ چچا اور بھتیجے میں دراڑ ڈالی گئی اس کے علاوہ مسلم امیدواروں کو مسلم سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر میدان میں اتارتے ہوئے اکثریتی ووٹ کو متحد کرنے کے علاوہ دلت و پسماندہ طبقات کے ووٹ کو تقسیم کرنے کی منظم حکمت عملی تیار کی گئی جس کے نتیجہ میں اترپردیش میں بھی کامیابی یقینی بنائی جاسکی۔

کچھ اسی طرح کی حکمت عملی دہلی کے بلدی انتخابات میں بھی اختیار کی گئی اور عام آدمی پارٹی و کانگریس کو اتحاد سے دور رکھتے ہوئے دہلی میں بھی مسلم سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر امیدوار میدان میں اتارے گئے اور دہلی کی بلدیہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے قبضہ حاصل کیا ۔ گجرات میں مسلم سیاسی جماعت یا امیدواروں کے بجائے مذہبی جماعتوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ گجرات میں تجارتی ذہنیت ووٹ کو منقسم ہونے نہیں دیتی اس بات کا اندازہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہے اسی لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات میں کامیابی کیلئے مذہبی جماعتوں اور موضوعات کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ گجرات میں ناخواندہ طبقہ میں مذہبی جنون ہے اور تجارتی طبقہ اپنے تجارتی نقصانات کو برداشت نہیں کرسکتا اسی لئے وہ امن و ضبط کے معاملہ میں متفکر ہوا کرتا ہے۔ گجرات انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے گائے ‘ مندر۔مسجد‘ ووٹ کی تقسیم جیسے تمام ہتھکنڈے استعمال کرنے لگی ہے اور آئندہ چند یوم کے دوران مزید حالات کو ابتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ صدر بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات کے تمام حلقہ جات اسمبلی میں مائیکروں سطح پر اپنے نمائندے مقرر کرنے شروع کردیئے ہیں تاکہ عوامی رائے کو بی جے پی کے حق میں ہموار کیا جاسکے۔ گجرات میں کانگریس قائدین کے درمیان اختلافات پیداکرتے ہوئے شنکر سنگھ واگھیلا جیسے قائد کو پارٹی کے خلاف کرنے سے ہونے والے فائدوں کا جائزہ لیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات انتخابات کی مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ امیدواروں کی فہرست کو قطعیت دینے کے بعد بڑے پیمانے پر سیاسی ہلچل پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی تاکہ دلت اور پسماندہ ووٹوں کو منقسم کیا جائے کیونکہ کانگریس کی جانب سے پٹیل برادری کو زائد نشستیں دینے کے متعلق غور کیا جا رہاہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT