Saturday , September 22 2018
Home / اداریہ / گجرات انتخابات ‘ نفرت انگیز مہم

گجرات انتخابات ‘ نفرت انگیز مہم

کتنی زرخیز ہے نفرت کیلئے دل کی زمین
وقت لگتا ہی نہیں ‘ فصل کی تیاری میں
گجرات انتخابات ‘ نفرت انگیز مہم
گجرات اسمبلی انتخابات کیلئے سرگرمیاں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ پہلے مرحلہ کیلئے نامزدگیوں کے ادخال کا وقت بھی قریب آگیا ہے اور اس کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کی جانب سے چلائی جانے والی مہم نے بھی اپنے حقیقی رنگ دکھانے شروع کردئے ہیں۔ ویسے تو ہر سیاسی جماعت اور خاص طور پر بی جے پی کی جانب سے انتخابات میں ترقیاتی ایجنڈہ کو بنیاد بناکر عوام کے ووٹ مانگنے کا دعوی کیا جاتا ہے اور دوسروں پر تنقیدوں کا کوئی موقع ہاتھ سے گنوایا نہیں جاتا لیکن حقیقت میں بی جے پی خود انتہاء درجہ تک عوام کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرتے ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے اور پھر اسے کسی شخصیت سے مربوط کرتی ہے یا پھر عوامی تائید کا ناٹک کیا جاتا ہے ۔ گجرات میں بھی ایسی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ یہاں بی جے پی گذشتہ 22 سال سے اقتدار پرہے اور اسے دو دہوں کے بعد پہلی مرتبہ عوامی موڈ سے مشکلات کا اندازہ ہونے لگا ہے ۔ حکومت میں رہتے ہوئے عوام کی مخالفت کا سامنا ایک فطری بات ہے اور اکثر کئی موقعوں پر اس کی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں جہاں عوام نے انتہائی مضبوط سمجھی جانے والی حکومتوں کا تختہ الٹ دیا ہے ۔ بی جے پی کو بھی اسی طرح کے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں اور انہیں کی وجہ سے بی جے پی اب رائے دہندوں میں خوف و نفرت کی فضا پیدا کرتے ہوئے اس کا استحصال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوگئی ہے ۔ وہ نت نئے انداز سے رائے دہندوں کو ورغلانے اور سماج میں بے چینی اور نفرت کی فضا پیدا کرنے کی کوششوں کا آغاز کرچکی ہے ۔ حالیہ عرصہ میں اس کی مثال ایک اشتہار سے ملتی ہے ۔ 75 سکنڈ کے ایک اشتہار کے ذریعہ بی جے پی نے رائے دہندوں کو مسلمانوں سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا کہ ان کا ووٹ ان کی سکیوریٹی کیلئے ہونا چاہئے اور اگر رائے دہندوں نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا تو انہیں مسلمانوں سے لو جہاد جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ یہ انتہاء درجہ کی افسوسناک کوشش ہے اور یہ بی جے پی کیلئے شرم کی بات ہے کہ مرکز و ریاست میں اقتدار پر رہتے ہوئے عوام میں نفرت پھیلائی جا رہی ہے ۔ وہ قوانین اور دستوری اور جمہوری اصولوں کی دھجیاں اڑانے پر اتر آئی ہے ۔
ویسے تو گجرات میں پہلے سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے کی مثالیں ملک کے سامنے موجود ہیں ۔ 2002 میں مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کو ایک کارنامہ اور ’ گجرات ماڈل ‘ قرار دیتے ہوئے ہندو ووٹ بینک کو مستحکم کیا گیا اور پھر اسے برقرار رکھنے کیلئے مسلسل نفرت کو فروغ دینے والی پالیسیاں اختیار کی گئیں۔ ساری ریاست گجرات میں کسی مسلمان کوپارٹی ٹکٹ تک نہیں دیا جاتا اور یہی روایت اترپردیش میں بھی اختیار کی گئی ۔ وہاں بھی انتخابی مہم کے دوران فرقہ وارانہ جذبات کو مشتعل کیا گیا اور ان کا استحصال کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرلی گئی ۔ دیوالی ۔ عید اور قبرستان ۔ شمشان جیسے ریمارکس اس ملک کے وزیر اعظم نے خود کئے تھے اور رائے دہندوں پر اس کا اثر جو ہونا تھا وہ ضرور ہوا ۔ اب اسی کوشش کو گجرات میں دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ گجرات میں بی جے پی حکومت کو سخت حکومت مخالف جذبات کا سامنا ہے ۔ کانگریس کے امکانات میں بہتری پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ سماج کے مختلف گوشوں کی جانب سے حکومت کے خلاف مہم کا اور مظاہروں کا آغاز ہوچکا ہے ۔ نوجوان طبقہ خاص طور پر حکومت کے خلاف سرگرم ہوگیا ہے ۔ ہاردک پٹیل ‘ جگنیش میوانی اور الپیش ٹھاکر ریاست میں نوجوان رائے دہندوں پر خاصا اثر رکھتے ہیں اور یہ لوگ حکومت کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔
یہ ساری صورتحال بی جے پی کیلئے ایک مشکل مرحلہ سمجھی جا رہی ہے جارہی ہے اور بی جے پی اس کے تدارک کیلئے ہاتھ پیر مارنے شروع کرچکی ہے ۔ ویسے تو بی جے پی کو امید ہے کہ جب نریندر مودی ریاست کے دورے شروع کرینگے اور انتخابی ریلیوں سے خطاب کرینگے تو سارے مخالف حالات موافق ہوجائیں گے لیکن وہ فرقہ وارانہ جذبات کو اشتعال دینے اور عوام میں نفرت اور بے چینی پیدا کرنے کی اپنی روایت کو چھوڑنے بھی تیار نظر نہیں آتی ۔ بی جے پی کی مخالفت کرنے والے ہر گوشے کو نشانہ بنانے کیلئے کارروائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ ہاردک پٹیل کو بھی ایک سی ڈی کی اجرائی کے ذریعہ خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی جب اس کا کوئی خاص اثر ہوتا دکھائی نہیں دیا تو سماج میں پھر لڑکیوں کی عزت اور مسلمانوں سے خوف جیسی بے بنیاد باتوں کا ہوا کھڑا کرنے ایک اشتہار جاری کردیا گیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی ترقیاتی ایجنڈہ کی بنیاد پر اور کارکردگی کی اساس پر نہیں بلکہ فرقہ واریت کی اساس پر اور مذہبی جذبات کو اشتعال دینے کی بنیاد پر انتخابات جیتنا چاہتی ہے اور اس کی یہ کوشش انتہائی مذموم ہے ۔

TOPPOPULARRECENT