Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / گجرات اور کرناٹک اسمبلی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ کشیدگی کی سازش

گجرات اور کرناٹک اسمبلی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ کشیدگی کی سازش

امرناتھ یاتریوں پر حملہ کرنے والے کون تھے ، گجرات کی بس نے قواعد کی خلاف ورزی کیوں کی؟
حیدرآباد۔12جولائی (سیاست نیوز) اقتدار کے حصول کے لئے سیاستداں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور گذشتہ 3برسوں سے ہندستان کے مختلف شہروں و ریاستوں میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ رائے دہندوں کو مذہب کی بنیاد پر متحد کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جانے لگی ہے اور اس حکمت عملی کے حصہ کے طور پر جس کسی ریاست کے انتخابات قریب ہوں ان ریاستوں کے حساس شہروں میں فرقہ وارانہ صورتحال کو بگاڑ نے کی کوشش کی جانے لگی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھی تنظیموں کی جانب سے ملک میں جو ماحول پیدا کیا جا رہاہے وہ ملک کی سالمیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہورہا ہے لیکن اگر ریاستی حکومتیں چوکسی اختیار کرتے ہوئے اس طرح کی حرکتوں کو آہنی پنجہ سے کچلنے کے اقدامات کرتی ہیں تو ایسی صورت میں حالات کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ 2014کے انتخابات کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ جس کسی ریاست میں انتخابات ہونے تھے اس ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرتے ہوئے تشدد پر اکسایا گیا اوررائے دہندو ںکو مذہبی خطوط پر منقسم کرنے کی کاروائی انجام دی گئی۔ اس مقصد میں کامیابی کے حصول کیلئے جو مدد حاصل کرنی ہے وہ سنگھی طاقتیں ضمیر فروشوں سے حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی ہیں۔ اب جبکہ ریاست گجرات اور کرناٹک میں انتخابات کا دور شروع ہونے والا ہے ایسے دور میں ان ریاستوں کو نشانہ بناتے ہوئے پر امن ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔گذشتہ دنوں کرناٹک کے علاقہ میں ایک مسلم نوجوان کو نذرآتش کرنے کے علاوہ ایک نوجوان کو زدو کوب کرنے کا واقعہ پیش آیا اسی طرح ریاست گجرات کے مختلف اضلاع میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔گذشتہ دنوں امرناتھ یاترا حملہ میں جس بس پر حملہ کا واقعہ پیش آیا اس کا تعلق بھی گجرات سے ہی تھا۔ریاست تلنگانہ میں بھی حکومت کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کی منصوبہ بندی کی اطلاعات کے ساتھ ہی شر پسند عناصر کی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے اور شہرحیدرآباد کے اطراف کے علاقوں کے علاوہ فرقہ وارانہ نوعیت کے اعتبار سے حساس اضلاع میں بھی شرانگیزی کے واقعات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔شہر حیدرآباد میں فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے کی کوششیں ماہ رمضان المبار ک کے دوران بھی کی گئیں لیکن محکمہ پولیس کی مستعدی سے حالات قابو میں رہے لیکن اب محکمہ پولیس کی جانب سے بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ شہر کی پر امن فضاء کو شرپسند عناصر مکدر کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔اتر پردیش انتخابات سے قبل بھی مظفر نگر کے علاوہ دیگر علاقو ںمیں فرقہ وارانہ نوعیت کے فسادات کا لامتناہی سلسلہ جاری رہا اور اب مغربی بنگال جیسی ریاست میں بھی فسادات ہونے لگے ہیں جو کہ تشویشناک ہے۔دہلی ‘ ہریانہ اور پنجاب انتخابات سے عین قبل جاٹ فسادات کو ہوا دی گئی تھی تاکہ رائے دہندوں کے ذہنوں کو فرقہ واریت کے خطوط پر سونچنے کیلئے مجبور کیا جا سکے۔اڑیسہ کے علاقہ بھدرک میں بھی فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔کرناٹک میں ہبلی کو حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں فرقہ وارانہ تناؤ کا اطلاعات موصول ہونے لگی ہیں۔تلنگانہ میں عادل آباد‘ نظام آباد ‘ کاماریڈی ‘ بھینسہ کے علاوہ صدر مقام حیدرآباد کو فرقہ وارانہ حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں ریاستی حکومت کو چوکسی اختیار کرتے ہوئے ریاست کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے کیلئے سخت گیر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر حیدرآباد میں محکمہ پولیس کی خفیہ ایجنسیوں نے چوکسی اختیارکر رکھی ہے اور امن و امان کی برقراری کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔واٹس اپ اور فیس بک کے ذریعہ پھیلائے جانے والے ایسے مواد کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے جو فرقہ وارانہ کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT