Wednesday , August 15 2018
Home / شہر کی خبریں / گجرات اور ہماچل پردیش میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد تلنگانہ میں بی جے پی کے حوصلے بلند

گجرات اور ہماچل پردیش میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد تلنگانہ میں بی جے پی کے حوصلے بلند

جنوری میں صدر پارٹی امیت شاہ کا دورہ تلنگانہ
حیدرآباد ۔18۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) گجرات اور ہماچل پردیش میں کامیابی کے بعد تلنگانہ بی جے پی قائدین اور کیڈر کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں۔ پارٹی کے دفتر میں آج گجرات اور ہماچل کی کامیابی کا جشن منایا گیا اور قائدین نے اس یقین کا اظہار کیا کہ کامیابی کی یہ لہر تلنگانہ میں بھی اپنا اثر دکھائے گی۔ پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ جنوری میں تلنگانہ کا تین روزہ دورہ کریں گے اور وہ پارٹی قائدین کے علاوہ اضلاع کے کیڈر سے ملاقات کریں گے ۔ تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے امیت شاہ کا یہ دورہ اہمیت کا حامل ہے اور بی جے پی قائدین انتظامات میں مصروف ہیں۔ گجرات اور ہماچل کی کامیابی کے بعد بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ جنوبی ہند میں بی جے پی کیلئے کامیابی کی راہ آسان ہوچکی ہے ۔ دو ریاستوں کے نتائج سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ عوام نریندر مودی حکومت سے مطمئن ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی نے سنگھ پریوار کی مدد سے تلنگانہ میں مواضعات کی سطح پر پارٹی کو مستحکم کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ مشن 2019 ء کے تحت بی جے پی تلنگانہ میں اسمبلی کی 60 نشستوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرچکی ہے ، جہاں نہ صرف بی جے پی کیڈر ہے بلکہ اکثریتی طبقہ کی قابل لحاظ آبادی ہے۔ بی جے پی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں سے تلنگانہ میں پارٹی کو بوتھ سطح سے مستحکم کرنے کی مہم جاری ہے اور پارٹی میں شمولیت کے سلسلہ میں عوام میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے ۔ بی جے پی بظاہر تلنگانہ میں تنہا مقابلہ کا اعلان کر رہی ہے، تاہم بعض گوشے اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ آئندہ انتخابات میں برسر اقتدار ٹی آر ایس سے مفاہمت کی جائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ نتائج کے بعد ٹی آر ایس میں داخلی طور پر بعض گوشے 2019 ء کی حکمت عملی پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی سے مقابلہ کیلئے ٹی آر ایس کو بی جے پی سے مفاہمت کرنی چاہئے ۔ بی جے پی مرکز میں برسر اقتدار ہے جس سے تلنگانہ کی ترقی میں مدد مل سکتی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ گجرات اور ہماچل نتائج پر برسر اقتدار ٹی آر ایس کی حکمت عملی 2019 ء میں کیا ہوگی ؟ کے سی آر نے ایک سے زا ئد مرتبہ اعلان کیا کہ بی جے پی کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں کی جا ئے گی لیکن تازہ کامیابیوں سے پارٹی کا ایک گوشہ کچھ زیادہ ہی متاثر ہے اور قیادت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مرکزی حکومت سے مفاہمت میں فائدہ ہے نہ کہ ٹکراؤ میں۔

TOPPOPULARRECENT