Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / گجرات :بی جے پی ،کانگریس کی اقتدار کیلئے کشمکش کا بگل بج گیا

گجرات :بی جے پی ،کانگریس کی اقتدار کیلئے کشمکش کا بگل بج گیا

 

وزیراعظم مودی کی آبائی ریاست میں بی جے پی کو مخالف حکمرانی عنصر کا سامنا
ریاستی سطح پر بی جے پی میں قدآور لیڈر کا فقدان
کانگریس نائب صدر راہول گاندھی کی پرجوش مہم سے پارٹی کو توقعات
کانگریس کو پاٹیدار اور ویشیا کمیونٹی کی تائید و حمایت سے حوصلہ

احمدآباد۔ 25 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ الیکشن کمیشن نے گجرات اسمبلی چناؤ کا آج اعلان کردیا، وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست میں برسراقتدار بی جے پی اور اپوزیشن کے درمیان سخت گرماہٹ والے انتخابی مقابلے کیلئے ماحول تیار ہوچکا ہے، جس کا نتیجہ 2019ء کے لوک سبھا الیکشن اثر ڈال سکتا ہے۔ دو مرحلے کے انتخابات کے پولنگ 9 ڈسمبر اور 14 ڈسمبر کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 18 ڈسمبر کو کی جائے گی۔ تاہم اقتدار کے دو بڑے دعویدار پہلے ہی اپنی پرجوش انتخابی مہمات شروع کرچکے ہیں جس میں مودی اور نائب صدر کانگریس راہول گاندھی دونوں نے گزشتہ چند ہفتوں میں ریاست میں منعقدہ کئی ریالیوں کو مخاطب کیا ہے۔ سیاسی حریفوں نے ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہوئے سوشیل میڈیا کے ذریعہ جارحانہ تیر و نشتر بھی چھوڑے ہیں۔ گجرات اسمبلی انتخابات کو مودی کی مقبولیت اور سربراہ بی جے پی امیت شاہ کی انتخابی حکمت عملی کی بڑی آزمائش سمجھا جارہا ہے، کیونکہ دونوں ہی کا تعلق گجرات سے ہے۔ یہ چناؤ ایک لحاظ سے مودی حکومت کی شروع کردہ کلیدی معاشی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی ہوں گے جن میں گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس (جی ایس ٹی) سسٹم کا نظام اور نوٹ بندی کا اقدام شامل ہے۔ گجرات جہاں زبردست تجارتی برادری پائی جاتی ہے، یہ دونوں فیصلوں سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ گجرات کے لئے انتخابی لڑائی کانگریس اور راہول کیلئے بھی مساوی طور پر اہم ہے، جو پارٹی کی مہم کی قیادت پیش پیش رہتے ہوئے ایسے وقت کررہے ہیں جب یہ قیاس آرائی زوروں پر ہے کہ انہیں عنقریب صدر پارٹی کے عہدہ پر ترقی دی جائے گی۔

گجرات میں کامیابی راہول کے کیریئر کی بڑی جیت رہے گی جن کی قیادت میں پارٹی ریاست در ریاست کھوتی آئی ہے۔ یہ کلیدی مغربی ریاست جو بی جے پی کی اپنی ہندوتوا سیاست کو آزمانا کی تجربہ گاہ سمجھی جاتی ہے، وہاں حکومت کے خلاف سلسلہ وار احتجاج دیکھنے میں آئے ہیں جن میں سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں ہاردک پٹیل زیرقیادت بااثر پاٹیدار کمیونٹی کی طرف سے ریزرویشن کیلئے ایجی ٹیشن شامل ہے۔ یہ پٹیل برادری اب تک بی جے پی کی بڑی سیاسی طاقت رہی ہے، اس کے علاوہ اونچی ذاتوں اور ویشیا کمیونٹی (تجارتی برادری) بھی بی جے پی کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ پاٹیدار برادری میں بی جے پی کے تئیں ناراضگی پارٹی کے انتخابی امکانات کو ضرب پہونچاسکتی ہیں جو لگ بھگ دو دہوں سے ریاست میں حکمرانی کررہی ہے۔ کانگریس پارٹی اپنے قدآور لیڈر اور سابق چیف منسٹر شنکر شنہہ وگھیلا کے پارٹی چھوڑ جانے کے بعد انتخابات سے عین قبل کئی جھٹکوں کا سامنا کرچکی ہے۔ جیسا کہ اس کے ارکان اسمبلی مستعفی ہوکر بی جے پی کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں، تاہم اسے یہ اطمینان ہے کہ او بی سی لیڈر الپیش ٹھاکر، انتخابات کے اعلان سے چند روز پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی کو مخالف حکمرانی عنصر کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جبکہ اس کی نظریں متواتر پانچویں مرتبہ حصول اقتدار پر مرکوز ہیں۔ ریاستی سطح پر پارٹی میں کوئی عوامی لیڈر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زعفرانی پارٹی کو مودی کے کرشماتی شخصیت پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑے گا۔ بی جے پی کو دیہی علاقوں میں ووٹروں کی بے اطمینانی سے نقصان ہوسکتا ہے جہاں گزشتہ تین سال معقول سے کم بارش نے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے۔ 2012ء میں گزشتہ اسمبلی چناؤ میں بی جے پی نے 182 رکنی ایوان میں 115 نشستیں جیتے جبکہ مودی چیف منسٹر تھے۔ کانگریس نے 61 حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔ بی جے پی کو 48% ووٹ اور کانگریس کو 39% ووٹ ملے تھے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT