Sunday , December 17 2017
Home / اداریہ / گجرات ‘ بی جے پی اور کانگریس

گجرات ‘ بی جے پی اور کانگریس

یہاں کوتاہئی ذوق عمل ہے خود گرفتاری
جہاں بازو سمٹتے ہیں وہیں صیاد ہوتا ہے
گجرات ‘ بی جے پی اور کانگریس
فی الحال سارے ملک میں گجرات اسمبلی انتخابات موضوع بحث بنے ہوئے ہیں ۔ گجرات میں بی جے پی تین معیادوں سے مسلسل حکمرانی کر رہی ہے اور اس بار وہاں عوام کو رجھانے کیلئے نریندر مودی موجود نہیں ہے۔ مودی ملک کے وزیر اعظم بن چکے ہیں تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ گجرات کے انتخابات کا وقت قریب آنے کی وجہ سے ان کی بھی ساری توجہ صرف گجرات تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ وہ ایک طرح سے سارے ملک کو نظر انداز کرچکے ہیں۔ وہ صرف گجرات کے تعلق سے فیصلے کر رہے ہیں ‘ پراجیکٹس کا اعلان کر رہے ہیں اور عوام کو رجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چاہے یہ نرمدا ڈیم کو قوم کے نام معنون کرنا ہو یا پھر بلیٹ ٹرین پراجیکٹ کے کاموں کا سنگ بنیاد رکھنا ہو۔ سبھی کام وہ صرف گجرات میں اور فوری طور پر کرتے جا رہے ہیں۔ گجرات انتخابات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نریندر مودی نے ماہ ستمبر سے اب تک جملہ پانچ بار گجرات کے دورے کئے ہیں اور ہر دورہ کے موقع پر انہوں نے کئی سرکاری پراجیکٹس کا آغاز کیا ہے اور گجرات میں کئی اہم اعلانات کئے ہیں۔ ان پراجیکٹس کے اعلان اور عوام کو سرکاری اسکیمات سے رجھانے کی کوشش کیلئے ہی شائد الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہوتے ہوئے گجرات اسمبلی انتخابات کے اعلان کو موخر کروادیا گیا ۔ کمیشن نے ہماچل پردیش کے انتخابات کی تواریخ اور شیڈول کا اعلان تو کردیا ہے لیکن گجرات کیلئے 18 ڈسمبر سے قبل انتخابات کروانے کا فیصلہ کرنے کے باوجود تواریخ کے اعلان سے گریز کیا ہے ۔ اس سے سیاسی حلقوں میں یہی قیاس کیا جا رہا ہے کہ کمیشن نے حکومت کے دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے اسے مزید موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان انتخابات کی اہمیت اس لحاظ سے بھی بڑھ گئی ہے کہ یہاں سے کانگریس کے حوصلے بلند ہونے لگے ہیں۔ حالانکہ ابھی سے انتخابی نتائج کے تعلق سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن یہ ضرور اشارے ملنے شروع ہوگئے ہیں کہ ریاست میں کانگریس کے حوصلے بلند ہونے لگے ہیں۔ ریاست کے عوام میں بھی تبدیلی کا جذبہ دیکھا جا رہا ہے ۔ نوجوانوں میں خاص طور پر حکومت سے ناراضگی دکھائی دے رہی ہے ۔سماج کے دیگر طبقات میںبھی ملے جلے جذبات ہیں ۔
اور بی جے پی ان سب کے باوجود اپنے انداز اور طریقوں میں تبدیلی لانے کیلئے تیار نہیں ہے اور وہ کامیابیوں کے نشہ میں دھت ہے اور اسے اب بھی یقین ہے کہ وہ نریندر مودی اور امیت شاہ کی شخصی کاوشوں سے کامیاب ہوجائیگی ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی دیگر ذمہ داریوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اور قوم کو درپیش سنگین مسائل کا حل دریافت کرنے پر توجہ دینے کی بجائے صرف گجرات کے چکر لگانے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ یہ حال ابھی سے ہے جبکہ انتخابات کی تواریخ کا باضابطہ اعلان بھی نہیں ہوا ہے اور نہ ہی وہاں انتخابی مہم شروع ہوئی ہے ۔ اس بات کا ابھی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب انتخابات کی تواریخ کا اعلان ہوجائیگا اور انتخابی مہم شدت اختیار کریگی اس وقت مودی ہر روز گجرات کے دورے کرینگے ۔ یہی حال ان کا بہار اسمبلی انتخابات میں بھی رہا تھا ۔ بہار میں بھی انہوں نے مسلسل دورے کئے تھے اور عملا سارے ملک کو اور دوسری ریاستوں کو فراموش کردیا تھا لیکن اس کا نتیجہ صفر ہی نکل پایا تھا ۔ گجرات میں حالانکہ شنکر سنہہ واگھیلا کانگریس سے ترک تعلق کرچکے ہیں اور وہ واضح طور پر بی جے پی کا ساتھ دینے کا اشارے کر رہے ہیں لیکن رائے دہی پر اثر انداز ہونے والے جو عوامل ہیں وہ کانگریس کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں۔ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے ایک بااثر نوجوان لیڈر کلپیش ٹھاکر کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں جبکہ پٹی دار احتجاج کی قیادت کرنے والے ہاردک پٹیل بھی کانگریس کی تائید کرتے نظر آر ہے ہیں ۔ بی جے پی حالانکہ ان کے کچھ ساتھیوں کو رجھانے میں کامیاب رہی ہے ۔
فی الحال جو حالات بنتے نظر آ رہے ہیں وہ راست بی جے پی اور کانگریس کے مابین ٹکراؤ کے ہیں۔ دونوں جماعتیں ابھی سے انتخابات کے موڈ میں آچکی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول کے اعلان میں تاخیر کے باوجود یہ دونوں جماعتیں عملا اپنی انتخابی مہم شروع کرچکی ہیںاور دونوں جماعتوں کو ان انتخابات کی اہمیت کا اندازہ ہے اسی لئے اس کیلئے ہر ممکن جدوجہد کی جا رہی ہے ۔ حکومت تو خیر سرکاری مشنری کا پوری طرح سے اپنے سیاسی فائدہ کیلئے استعمال کرنے میں جٹ گئی ہے اور کانگریس کا جہاں تک تعلق ہے وہ بھی ایک جامع منصوبہ بندی کے ساتھ یہاں سرگرم ہوچکی ہے ۔ اسے سماج میں جو تائید و حمایت فی الحال مل رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے کانگریس کو مزید سرگرم ہونے کی ضرورت ہے ۔ اسے سماج کے مختلف طبقات کی تائید جو ملی ہے اسے برقرار رکھنے کے علاوہ مزید طبقات کی تائید حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT