Monday , June 25 2018
Home / ہندوستان / گجرات سے سابق یوپی اے حکومت کے متعصبانہ رویہ کا الزام

گجرات سے سابق یوپی اے حکومت کے متعصبانہ رویہ کا الزام

نئی دہلی۔ 24؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ کانگریس کو گجرات سے ’چڑ‘ تھی، ریاستی وزیر فینانس سوربھ پٹیل نے الزام عائد کیا کہ سابق یوپی اے حکومت ریاست گجرات کے ساتھ تعصب کا رویہ اختیار کئے ہوئے تھی، کیونکہ گجرات میں ترقی کے امکانات موجود تھے اور یو پی اے حکومت چاہتی تھی کہ اس کا مظاہرہ دوسری ریاستوں سے بہتر نہ ہو۔ انھوں ن

نئی دہلی۔ 24؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ کانگریس کو گجرات سے ’چڑ‘ تھی، ریاستی وزیر فینانس سوربھ پٹیل نے الزام عائد کیا کہ سابق یوپی اے حکومت ریاست گجرات کے ساتھ تعصب کا رویہ اختیار کئے ہوئے تھی، کیونکہ گجرات میں ترقی کے امکانات موجود تھے اور یو پی اے حکومت چاہتی تھی کہ اس کا مظاہرہ دوسری ریاستوں سے بہتر نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ کثیر تعداد میں پروگراموں اور تجاویز بشمول ریاست کے بقایہ جات کی منظوری سے منموہن سنگھ حکومت کے دور میں انکار کردیا گیا۔ نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد تین ماہ قبل حالات تبدیل ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل تھے جن کو مرکزی حکومت نے کئی برسوں سے حل نہیں کیا تھا۔

مالیہ، تیل کی رائلٹی جس کی مالیت 10 ہزار کروڑ روپئے تھی، اس کا کیا ہوا؟ کوئی نہیں جانتا۔ وہ پی ٹی آئی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ سوربھ پٹیل قبل ازیں گجرات کی مودی کابینہ میں بھی شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو رائلٹی ایک ایسی شرح پر مل رہی تھی جس کا تعین اٹل بہاری واجپائی کی حکومت نے کیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومت کو بڑے پیمانے پر مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ سابق یوپی اے حکومت نے اپنے فیصلے تبدیل کردیئے تھے۔ انھوں نے سوال کیا کہ کابینہ کے نوٹ پیش کرنے کے بعد بھی فیصلے تبدیل کیسے کئے جاسکتے ہیں؟ اگر گجرات کو اس کے بقایہ جات کے 10 ہزار کروڑ روپئے حاصل ہوجاتے تو آج صورتِ حال مختلف ہوتی، لیکن یوپی اے دور میں ہماری بات کوئی نہیں سنتا تھا۔

انھوں نے ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ گجرات وادیٔ نرمدا کھاد و کیمیکلس لمیٹیڈ یوریا تیار کرتی تھی جس کی مقدار فاضل تھی۔ چنانچہ مرکز سے خواہش کی گئی تھی کہ گجرات کو اسے صنعتی علاقہ میں منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس سے زر مبادلہ بچے گا، لیکن اس درخواست پر کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ آخر دو دن بعد انھوں نے خود ہی اس کی منظوری دے دی، اس کے باوجود کہ اس کی مزاحمت کی گئی تھی۔ ریاست گجرات نے دو ہندسی عدد پر اپنی شرح ترقی حاصل کی۔ اس سوال پر کہ کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ کانگریس زیر قیادت مرکزی حکومت نے گجرات کے ساتھ تعصب کا رویہ اختیار کیا تھا جس کی وجہ سے ریاست کی ترقی متاثر ہوئی؟ تو سوربھ پٹیل نے کہا کہ بے شک، ایسا ہی ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT