Sunday , July 22 2018
Home / ہندوستان / گجرات فسادات :این سی ای آر ٹی کے نصاب سے لفظ ’’ اینٹی مسلم‘‘ خارج

گجرات فسادات :این سی ای آر ٹی کے نصاب سے لفظ ’’ اینٹی مسلم‘‘ خارج

اب طلبہ صرف ’’گجرات فسادات ‘‘ پڑھیں گے ،نصاب میں 1984ء ’’اینٹی سکھ ‘‘ فسادات برقرار
نئی دہلی۔24 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) این سی ای آر ٹی کی بارہویں کلاس کی کتاب کے پچھلے ایڈیشن میں 2002 کے گجرات فسادات کے لئے’’اینٹی مسلم‘‘ لفظ کا استعمال کیا جاتا تھا۔ تاہم، اب اس کی جگہ پر ’’گجرات فسادات‘‘کے طور پر پڑھا جائے گا۔ ‘ہندوستانی سیاست کے حالیہ واقعات’ کے عنوان والی درسی کتاب کا ترمیم شدہ ایڈیشن اگلے ہفتہ مارکیٹ میں آ جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، این سی ای آر ٹی نے ’’آزادی کے بعد سے ہندوستان میں سیاست‘‘ (صفحہ 187) کے باب میں تبدیلی کی ہے جبکہ اسی باب کے اسی پیراگراف میں 1984 کے فسادات کو ’اینٹی سکھ‘ لکھا گیا ہے۔این سی ای آر ٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کتابوں کو چھاپنے کے لئے جو منظور شدہ نصاب ہے اس میں اینٹی مسلم لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، پیراگراف کے پہلے جملہ سے اینٹی مسلم لفظ کو ہٹا دیا گیا ہے۔ پہلے اس پیراگراف میں لکھا گیا تھا ’’فروری۔ مارچ 2002 میں بڑے پیمانہ پر مسلمانوں کے خلاف تشدد ہوا‘‘۔ اب لکھا گیا ہے ’’فروری۔ مارچ 2002 میں گجرات میں بڑے پیمانہ پر تشدد ہوا۔‘‘ یہ تبدیلی یوپی اے کے دور میں 2007 میں شائع کتاب میں کی گئی ہے۔این سی ای آر ٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کتابوں کو چھاپنے کیلئے جو منظور شدہ نصاب ہے اس میں اینٹی مسلم لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ نصاب میں براہ راست طور پر ‘گجرات فسادات’ لفظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ جب ہم نے کتاب کو اپ ڈیٹ کرنے کی شروعات کی تو ہمیں اس کے بارے میں بتایا گیا اس لئے ہم نے اس کو بدل کر گجرات فسادات کر دیا۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ سی بی ایس ای اور این سی ای آر ٹی کے نمائندوں کی نصابی جائزہ کمیٹی کے دوران کیا گیا۔وہیں، انڈین ایکسپریس کے مطابق، یہ فیصلہ این سی ای آر ٹی کی طرف سے ٹیکسٹ بک ریویو کے دوران لیا گیا۔ این سی ای آر ٹی ایک خودمختار ادارہ ہے جو فروغ انسانی وسائل کی وزارت کو مشورے دیتی ہے۔ یہ مشورہ گزشتہ سال سی بی ایس ای کی طرف سے بھی دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ فروری ؍ مارچ 2002ء میں پیش آئے ہندوستانی تاریخ کے اس بدترین فسادات میں تقریباً 1000 سے زائد مسلمان اور زائد از 250 ہندو مارے گئے تھے۔ یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب مبینہ طور پر گودھرا ریلوے اسٹیشن پر ٹھہری ہوئی ٹرین کی اس بوگی کو نذرآتش کردینے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس میں ہندو شردھالو سوار تھے جس میں تقریباً 57 شردھالوؤں کی موت ہوگئی۔ ہندوستان ٹائمز کے پاس این سی ای آر ٹی کی موجودہ اور اپ ڈیٹ شدہ دونوں نصاب موجود ہیں۔

TOPPOPULARRECENT