Wednesday , January 24 2018
Home / Top Stories / گجرات فسادات پر معذرت خواہی سے انکار

گجرات فسادات پر معذرت خواہی سے انکار

احمد آباد ۔ /15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) 2002 ء گجرات فسادات کیلئے معذرت خواہی کا امکان مسترد کرتے ہوئے نریندر مودی نے آج رات کہا کہ کانگریس کو معذرت خواہی کا مطالبہ کرنے سے پہلے خود اپنے گناہوں کا محاسبہ کرنا چاہیئے ۔ بی جے پی وزارت عظمیٰ امیدوار سے ٹی وی 9 چیانل کے ساتھ انٹرویو کے دوران یہ پوچھا گیا تھا کہ جس وقت وہ ریاست کے چیف منسٹر تھے ،

احمد آباد ۔ /15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) 2002 ء گجرات فسادات کیلئے معذرت خواہی کا امکان مسترد کرتے ہوئے نریندر مودی نے آج رات کہا کہ کانگریس کو معذرت خواہی کا مطالبہ کرنے سے پہلے خود اپنے گناہوں کا محاسبہ کرنا چاہیئے ۔ بی جے پی وزارت عظمیٰ امیدوار سے ٹی وی 9 چیانل کے ساتھ انٹرویو کے دوران یہ پوچھا گیا تھا کہ جس وقت وہ ریاست کے چیف منسٹر تھے ، اس دوران فسادات کیلئے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ان کے خلاف کئی الزامات بھی عائد کئے جارہے ہیں ۔ مودی نے ان فسادات پر افسوس کا اظہار کیا لیکن معذرت خواہی نہیں کی ۔ اس کے جواب میں مودی نے کہا کہ معذرت خواہی کا مطالبہ کرنے والے کون لوگ ہیں ۔

جب انہیں بتایا گیا کہ یہ کانگریس ہے تو مودی نے پھر جواب دیا کہ آج تک کانگریس کے کسی شخص نے ان سے ملاقات نہیں کی ۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے معذرت خواہی کی بات بھی نہیں کی ہے ۔ مودی نے کہا کہ کانگریس کو دوسروں سے اس طرح کا مطالبہ کرنے سے پہلے خود اپنے گناہوں کا محاسبہ کرنا چاہئیے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مختلف قائدین جیسے وزیراعظم منموہن سنگھ اور وزیر فینانس پی چدمبرم کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ وہ ملک کیلئے خطرہ ہیں ۔ مودی نے جواب دیا کہ منموہن سنگھ کے 10 سالہ میعاد کے دوران انہوں نے ایسی بات نہیں سنی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص سے خطرہ ہوسکتا ہے تو وہ شخص کوئی بھی ہوسکتا ہے

یہاں تک کہ سڑک پر رہنے والا یا کسی محلہ میں زندگی گزارنے والا بھی خطرہ بن سکتا ہے ۔ بی جے پی میں جاری اس تاثر کے بارے میں کے ملک میں ’’مودی لہر ‘‘ چل رہی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بی جے پی لہر ہے مودی لہر نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مودی پارٹی سے برتر نہیں ۔انہوں نے 2014 ء لوک سبھا انتخابات ’’مودی کے ارد گرد گھومنے‘‘ کے بارے میںسوال کا بھی نفی میں جواب دیا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کو 300 سے زائد نشستیں ملیں گی ۔ پارٹی کے سینئر قائدین ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کو ان کی پسند کی پارلیمانی نشست نہ ملنے کے بارے میں پوچھے جانے پر مودی نے جواب دیا کہ نشستوں کی تقسیم کا فیصلہ انہوں نے نہیں کیا ۔

TOPPOPULARRECENT