Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / گجرات فساد کیلئے مودی ذمہ دار نہیں : ٹونی اباٹ

گجرات فساد کیلئے مودی ذمہ دار نہیں : ٹونی اباٹ

نئی دہلی 5 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی اباٹ نے آج کہا کہ گجرات میں 2002 کے فسادات کیلئے بحیثیت چیف منسٹر نریندر مودی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جانا چاہئے کیونکہ اس وقت وہ صرف پریسائیڈنگ آفیسر تھے ۔ انہوں مزید کہا کہ کئی تحقیقات میں مودی کو کلین چٹ بھی مل گئی ہے ۔ ٹونی اباٹ نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا کہ ان کا خی

نئی دہلی 5 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی اباٹ نے آج کہا کہ گجرات میں 2002 کے فسادات کیلئے بحیثیت چیف منسٹر نریندر مودی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جانا چاہئے کیونکہ اس وقت وہ صرف پریسائیڈنگ آفیسر تھے ۔ انہوں مزید کہا کہ کئی تحقیقات میں مودی کو کلین چٹ بھی مل گئی ہے ۔ ٹونی اباٹ نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا کہ ان کا خیال یہ ہے کہ اس معاملہ میں کئی مرتبہ تحقیقات ہوئی ہیں اور نریندر مودی کو ہمیشہ ہی کلین چٹ دیدی گئی ہے ۔ ایسا ہونا ان کیلئے کافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ چونکہ ملک میں کچھ بہت ہی ہولناک ہوا ہے اس لئے اس شخص کو ذمہ دار قرار دیاجانا چاہئے جو وہاں کا پریسائیڈنگ آفیسر ہو۔ ٹونی اباٹ ہندوستان کے دورہ پر ہیں تاکہ باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جاسکے ۔

انہوں نے چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے نریندرمودی کے دو مرتبہ ہوئے دورہ آسٹریلیا کی یاد دہانی کروائی ۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں نریندر مودی کی کچھ اچھی دوستیاں بھی ہیں اور آسٹریلیا میں ان کو پسند کرنے والے بھی ہیں۔ آسٹریلیا میں نصف ملین ہندوستانی برادری رہتی ہے ان میں نریندر مودی کیلئے اچھا جوش و خروش پایا جاتا ہے اور ہندوستان میں حکومت کی تبدیلی کا بھی اس برادری نے اچھا خیر مقدم کیا ہے ۔ اباٹ نے کہا کہ خود آسٹریلیائی سیاستدانوں کے بھی ایک حلقہ کا یہ خیال ہے کہ نریندر مودی کا اقتدار ہندوستان کی معیشت اور حکومت کیلئے تازہ ہوا کے مترادف ہے ۔ ہند ۔ آسٹریلیا نیوکلئیر معاملت کے تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے اباٹ نے کہا کہ دو حکومتوں کے مابین باہمی اعتماد اور بھروسہ کی بہت اچھی صورتحال ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسے ایک قابل بھروسہ شراکت داری کو یقینی بنایا جائے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہدنوستان کو یورانیم فروخت کریں ۔ باہمی معاہدہ کے تحت ایسا ہوسکتا ہے ۔ فی الحال دونوں ملکوں کے مابین ایک دوسرے پر اعتماد ہے ۔

اس سوال پر کہ آیا آسٹریلیا ہندوستان کو نیوکلئیر سپلائرس گروپ کی رکنیت کیلئے حمایت کرتا ہے اباٹا نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے نیوکلئیر تعاون کے معاہدہ پر دستخط کرچکے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوستان ایک فرٹس کلاس انٹرنیشنل سٹیزن ہے اور وہ تمام اداروں کی رکنیت کی اہلیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کو یقین ہے کہ ہندوستان آسٹریلیا سے ملنے والی یورانیم کو پرامن مقاصد کیلئے استعمال کریگا ۔ آسٹریلیا میں دنیا کے معلنہ یورانیم ذخائر کا 40 فیصد موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اس کاروبار کیلئے کھلا ذہن رکھتا ہے اور نہ صرف یورانیم بلکہ کوئلہ ‘ گیس ‘ گوشت ‘ ڈائری اور شراب کے کاروبار کو آگے بڑھانا چاہتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT