Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / ’گجرات ماڈل‘ کامیاب ہے تو اچانک اعلانات کیوں ؟

’گجرات ماڈل‘ کامیاب ہے تو اچانک اعلانات کیوں ؟

وزیراعظم مودی آبائی ریاست میں الیکشن سے قبل سرگرم ہوجانے پر شیوسینا کا استفسار
ممبئی۔ 25 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) ’ترقی کے گجرات ماڈل‘ کے بارے میں بی جے پی پر چوٹ کرتے ہوئے شیوسینا نے آج کہا کہ اگر اس کی کامیابی کے تعلق سے دعوے سچے ہیں تو کیوں حکومت نے اسمبلی چناؤ سے قبل اعلانات کا سلسلہ چھیڑ دیا ہے۔ پارٹی ترجمان ’سامنا‘ کے اداریہ میں کہا گیا کہ گجرات میں گزشتہ پندرہ سال میں اگر واقعی ترقیاتی کام ہوا ہے تو انتخابی مہم ڈرامہ بازی کے بغیر الیکشن جیتا جاسکتا ہے۔ اگر گجرات ماڈل میں سچائی ہے تو چناؤ سے قبل مختلف اسکیمات اور اقدامات کے اعلانات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سینا نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی گزشتہ ہفتے تین بار گجرات گئے اور ستمبر سے اس ریاست کا پانچ مرتبہ دورہ کرچکے ہیں جہاں انہوں نے مختلف پراجیکٹوں کے لئے ’بھومی پوجن‘ میں حصہ لیا۔ وزیراعظم نے انتباہ بھی دیا کہ مرکز انہیں کوئی مالی اعانت فراہم نہیں کرے گا جو ترقی کے خلاف ہیں۔ بہ الفاظ دیگر انہوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ نہ ڈالنے والے عوام کو متنبہ کیا ہے۔ وزیراعظم پر طنز کرتے ہوئے بی جے پی کی حلیف پارٹی شیوسینا نے کہا کہ ہاردک پٹیل کی قیادت میں پاٹیدار کمیونٹی کی طرف سے مسلسل احتجاج مودی کیلئے بڑا چیلنج ہے جس کے سبب وہ خاصا وقت ہوگیا کہ کوئی بیرونی سفر پر جانے سے قاصر رہے ہیں۔ شیوسینا نے کہا کہ مودی گجرات میں کافی وقت گذار رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس مرتبہ اپنی آبائی ریاست میں الیکشن جیتنا بی جے پی کیلئے آسان نہیں۔ سینا نے پٹیل کوٹہ ایجیٹیشن کے ایک جہدکار کے الزام کا ذکر بھی کیا کہ انہیں بی جے پی نے پارٹی میں شمولیت کیلئے ایک کروڑ روپئے رشوت کی پیشکش کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT