Wednesday , October 17 2018
Home / سیاسیات / گجرات میں الپیش ٹھاکر کا برت ، تارکین وطن پر حملوں میں ملوث نہ ہونے کا دعویٰ

گجرات میں الپیش ٹھاکر کا برت ، تارکین وطن پر حملوں میں ملوث نہ ہونے کا دعویٰ

احمدآباد 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے رکن اسمبلی الپیش ٹھاکر نے جنھیں گجرات میں ہندی بولنے والے تارکین وطن کے خلاف تشدد پر برہمی کا سامنا ہے۔ عوام میں امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے جمعرات کو یہاں ان کے دن بھر کے برت کا آغاز کیا۔ یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ مائیگرنٹس کے خلاف کوئی کچھ کہا ہوگا انھوں نے دعویٰ کیاکہ اس کے لئے حقیقی قصوروار وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس پورے ایشیو کو سیاسی رنگ دیا ہے۔ 28 ستمبر کو سبرکانتا ڈسٹرکٹ میں ایک 14 ماہ کی لڑکی کی عصمت ریزی اور اس جرم کے لئے بہار سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کی گرفتاری کے بعد سے گجرات کے چھ اضلاع میں ہندی بولنے والوں کے خلاف تشدد کے واقعات ہوئے۔ ان حملوں کے باعث 60 ہزار سے زائد مائیگرنٹس کا اخراج ہوا جو زیادہ تر اترپردیش، بہار اور مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے تھے۔ رانپ علاقہ میں ان کی رہائش گاہ سے قریب سدبھاؤنا اُپواس (اچھائی کیلئے برت) کے مقام پر ان کے خطاب میں ٹھاکر نے زور دے کر کہاکہ وہ کبھی بھی نفرت پھیلانے میں ملوث نہیں ہوئے۔ کانگریس کے ایم ایل اے نے کہاکہ ’’میں منافرت پھیلانے میں نہیں ہوں۔ میں اس قسم کا شخص نہیں ہوں۔ ہم (ٹھاکر کمیونٹی) پاکیزہ دل رکھتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ تارکین وطن کے خلاف کوئی کچھ کہا ہوگا۔ لیکن ہم کسی کے خلاف کوئی عداوت، کینہ نہیں رکھتے ہیں۔ ہم کبھی تشدد میں ملوث نہیں ہوتے ہیں‘‘۔ ٹھاکر نے جو ایک شخص کمیونٹی تنظیم، گجرات کشتریا ٹھاکر سینا کے صدر ہیں، کہاکہ بعض لوگ اس مسئلہ پر سیاست کررہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ’’ہم سب کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ گجرات کا امیج داغدار نہ ہو۔ کوئی بھی مائیگرنٹ نہیں ہے۔ یہ لفظ ہی غلط ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بعض لوگ اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ ملک کو توڑنے کی ایک کوشش ہے۔ ریاستوں کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے کا کام میں کبھی نہیں کروں گا‘‘۔ قبل ازیں 14 ماہ کی لڑکی کی عصمت ریزی کے بعد ٹھاکر نے اس جرم کے لئے ایک ’’نان گجراتی‘‘ کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

TOPPOPULARRECENT