Monday , May 21 2018
Home / Top Stories / ’’گجرات میں بی جے پی کیخلاف نتائج زبردست ہوں گے!‘‘

’’گجرات میں بی جے پی کیخلاف نتائج زبردست ہوں گے!‘‘

رشوت ستانی اور کسانوں کے مسائل پر وزیراعظم کی پہلی مرتبہ خاموشی حیرت انگیز، راہول گاندھی کی پریس کانفرنس

l’’منموہن سنگھ کیخلاف مودی کے ریمارکس ناقابل قبول، کانگریس کا واضح موقف
l مودی میرے سیاسی مخالف ہیں، میرے بارے میں وہ کئی غلط باتیں کہہ چکے ہیں، ’’گجرات کے دلت عوام کو بی جے پی حکمرانی میں عدم تحفظ کا احساس ‘‘ ‘‘

احمدآباد 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے منتخب صدر راہول گاندھی نے آج دعویٰ کیاکہ گجرات میں بی جے پی کے خلاف زبردست لہر چل رہی ہے اور اُنھوں نے اسمبلی انتخابات میں اپنی پارٹی کی کامیابی کی پیش قیاسی کی۔ دوسرے مرحلہ کے 14 ڈسمبر کو انتخابات کی مہم کے آخری دن راہول پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ ’عوامی مزاج‘ میں ایک انقلابی تبدیلی رونما ہوئی ہے اور سماج کے تمام طبقات حکمراں جماعت پر برہم ہیں۔ اُنھوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ان کے پیشرو ڈاکٹر منموہن سنگھ اور اس پارٹی کے دیگر قائدین کے خلاف کئے گئے من گھڑت و دلآزار تبصروں کو بھی ناقابل قبول قرار دیا۔ مودی نے منموہن سنگھ اور دیگر قائدین پر الزامات عائد کیا تھا کہ اُنھوں نے گجرات اسمبلی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لئے پاکستان سے ساز باز کی تھی۔ راہول نے کہاکہ ’’یہ پہلا موقع ہے کہ مودی جی نے کسی انتخاب میں رشوت اور کسانوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔ (بی جے پی کے خلاف) زبردست لہر جاری ہے۔ خواہ وہ پاٹیدار ہوں کہ او بی سی، دلت یا کسان سب کے سب برہم ہیں۔ عوامی موڈ میں زبردست تبدیلی آئی ہے‘‘۔ پُرامید اور بااعتماد نظر آنے والے راہول نے کہاکہ کانگریس یہ انتخابات جیت جائے گی۔ نتائج زبردست ہوں گے۔ راہول اپنی پارٹی کی قیادت پر فائز کئے جانے کے اعلان کے بعد پہلی مرتبہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ ملک کے سیاسی انداز فکر، طور طریقوں کو بدلنے کی کوشش کریں گے جو بدنما اور ناپسندیدہ ہوگئے ہیں۔ راہول نے بی جے پی کے صدر امیت شاہ کے بیٹے جئے شاہ کے خلاف الزامات پر مودی کی خاموشی پر بھی سوال اُٹھایا۔ وہ اس مسئلہ کے علاوہ رفالے لڑاکا طیاروں کی معاملت پر اپنی مہم کے دوران مسلسل سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ گجرات انتخابات میں پاکستان کی دخل اندازی سے متعلق مودی کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے راہول نے کہاکہ ’’میں روز اول سے ہی اپنے قول و عمل کے ذریعہ اپنا موقف واضح کرچکا ہوں۔ مودی جی ہمارے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ منی شنکر ایئر نے کچھ کہا تھا اور میں نے واضح کردیا تھا کہ میں اس کو برداشت نہیں کروں گا۔ اس مسئلہ پر آپ (میری) کارروائی بھی دیکھ چکے ہیں‘‘۔ راہول نے مزید کہاکہ ’’لیکن مودی جی نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے بارے میں کچھ کہا ہے وہ بھی ناقابل قبول ہے۔ منموہن سنگھ بھی اس ملک کے سابق وزیراعظم ہیں جو اس ملک کی خدمت کرچکے ہیں اور کئی قربانیاں دے چکے ہیں۔

راہول گاندھی نے مزید کہاکہ ’’نریندر مودی جی میرے سیاسی مخالف ہیں۔ میرے بارے میں وہ کئی غلط باتیں کہہ چکے ہیں لیکن وہ (مودی) چونکہ ملک کے وزیراعظم ہیں میں نے ان کے خلاف ایک بھی بڑا لفظ استعمال نہیں کیا۔ ان (مودی) کے خلاف میرے منہ سے ایک بھی بڑا لفظ نہیں نکلے گا‘‘۔ نہرو گاندھی خاندان کے سیاسی وارث 47 سالہ راہول نے کہاکہ ’’میں ملک کا سیاسی ماحول، انداز فکر بدلنا چاہتا ہوں۔ یہ (سیاسی ماحول) بہت بدنما ہوگیا ہے۔ بہت غلط اور ناپسندیدہ ہوگیا ہے۔ ساری فضاء غم و غصہ سے بھر چکی ہے‘‘۔ گاندھی نے کہاکہ ملک میں وہ کانگریس کا یہ نظریہ پھیلانا چاہتے ہیں کہ ’’محبت‘‘ کے ساتھ سیاست کی جائے۔ وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ پارٹی کی صدارت سنبھالنے کے بعد ان کی ترجیح کیا ہوگی۔ راہول گاندھی نے کہاکہ صرف 10 تا 15 صرف 10 تا 15 صنعت کاروں کو ساتھ لے کر چلنے والی بی جے پی کے برخلاف کانگریس عوام کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلے گی۔ کانگریس لیڈر نے گجرات کی مندروں میں اپنی حاضری پر اعتراض کرنے والوں کو بھی طنز و تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیاکہ اس ریاست کے عوام کی بھلائی کے لئے دعا کرنے میں آیا کوئی غلطی ہے۔ انتخابات کا سامنا کرنے والی ریاست میں وقفہ وقفہ سے مندروں کے درشن کے بارے میں ایک سوال پر راہول نے جواب دیا کہ ’’مندر جانا منع ہے کیا؟ میں نے مندروں میں درشن کے موقع پر گجرات کے عوام کی بھلائی کے لئے دعا کی ہے‘‘۔ راہول نے سابرمتی ندی سے ضلع مہسانہ کے دھاروئی ڈیم تک خصوصی طیارہ میں مودی کے سفر کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہاکہ یہ بھی گجرات کے بنیادی اور اصل موضوعات سے انحراف و فرار کے مترادف ہے۔ کانگریس کے منتخب صدر نے کہا کہ گجرات کے دلت عوام اپنے آپ کو غیرمحسوس سمجھ رہے ہیں اس لئے وہ ایک بار پھر بی جے پی کو ریاست میں برسراقتدار نہیں لائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT