Thursday , November 23 2017
Home / اداریہ / گجرات میں بی جے پی کیلئے مشکلات

گجرات میں بی جے پی کیلئے مشکلات

یہ نیازِ غمخواری، یہ شکستِ دِلداری
بس نوازشِ جاناں، دل بہت پریشاں ہے
گجرات میں بی جے پی کیلئے مشکلات
ریاست گجرات بی جے پی کیلئے حالیہ وقتوںمیں بہت اہمیت کی حامل رہی ہے ۔ یہاں نریندر مودی کو جب چیف منسٹر بنایا گیا اسی وقت سے ان کا ستارہ عروج پر جانے لگا ۔ اسی ریاست میں مسلسل تین مرتبہ اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے نریندر مودی نے وزارت عظمی کی کرسی تک کامیابی سے چھلانگ لگائی ۔ جس وقت تک نریندر مودی ریاست میں چیف منسٹر رہے اس وقت تک اپوزیشن کو یہاں اپنے آپ کو مستحکم کرنے کا موقع نہیں مل پا رہا تھا ۔ نریندر مودی سیاسی توڑ جوڑ میں مہارت کے ساتھ اپوزیشن کے استحکام کو روکنے میں مسلسل کامیاب رہے تھے ۔ تاہم جب 2014 میں لوک سبھا انتخابات میںبی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی اور نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بن گئے تو اس وقت انہوں نے آنندی بین پٹیل کو اپنی جانشین بنادیا ۔ اس وقت سے ایسا لگتا ہے کہ اس ریاست میں بی جے پی کیلئے مشکلات میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ اسی ریاست سے بی جے پی کو مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوئی تھی اور شائد اسی ریاست سے بی جے پی کیلئے سیاسی سفر میں مشکلات بھی درپیش آسکتی ہیں۔ یہاں کانگریس پارٹی کو بتدریج استحکام حاصل ہو رہا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں شہری علاقوں میں ہوئے مجالس مقامی کے انتخابات میں بھی کانگریس پارٹی نے سابق کی بہ نسبت بہترین کارکردگی دکھائی اور ریاست کے عوام نے کانگریس کے حق میںاپنے ووٹ کا استعمال کیا تھا ۔ ریاست سے نریندر مودی کی مرکز کو روانگی کے بعد جہاں کانگریس نے اپنی حالت میں استحکام پیدا کیا تھا وہیں اروند کجریوال بھی اس ریاست پر توجہ دینے لگے ہیں۔ یہاں عام آدمی پارٹی اپنے وجود کا احساس دلانے میں کچھ حد تک کامیاب رہی ہے لیکن اس کا انتخابات میں کتنا اثر ہوسکتا ہے یہ تو ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ بحیثیت مجموعی بی جے پی کیلئے اس ریاست سے مشکلات کا آغاز ہوسکتا ہے ۔ بی جے پی کیلئے یہ ریاست انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست ہے وہیں بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ بھی اسی ریاست سے تعلق رکھتے ہیں اور بی جے پی میں صرف مودی ۔ شاہ کی جوڑي ہی کو کرتا دھرتا سمجھا جا رہا ہے ۔
سیاسی اعتبار سے جہاں کانگریس کو یہاں استحکام حاصل ہوتا جا رہا ہے اور عام آدمی پارٹی بھی اپنے وجود کا احساس دلانے کیلئے کوشاں ہے وہیں خود گجرات کے ایک نوجوان ہاردک پٹیل نے پٹیل برادری کو تحفظات کیلئے احتجاج شروع کرتے ہوئے الگ ریاستی حکومت اور بی جے پی کیلئے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے ۔ ہاردک پٹیل کو بالواسطہ طور پر بی جے پی کے سینئر لیڈر و سابق چیف منسٹر کیشو بھائی پٹیل کی تائید و حمایت بھی حاصل ہے ۔ بی جے پی کے وہ عناصر جو امیت شاہ ۔ مودی کی جوڑی سے قربت نہیں رکھتے اور جنہیں ریاستی حکومت کے کام کاج کے طریقہ کار پر اعتراض ہے وہ بھی اگر ہاردک پٹیل کی تائید نہیں کر رہے ہیں تو مخالفت میں بھی اترنے سے گریزاں ہیں۔ امیت شاہ ۔ مودی کی جوڑی نے دوسرے قائدین کو حاشیہ پر کرتے ہوئے بہار میں اسمبلی انتخابات میںمقابلہ کیا تھا لیکن پارٹی کو جس طرح سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد کچھ وقت تک یہ دونوں خاموش ہی رہے ۔ اب یہی جوڑی نئے انداز میں اتر پردیش اور پنجاب میں انتخابات کی تیاری کر رہی ہے اور پھرآئندہ سال ہی یہ جوڑی گجرات میں انتخابات کا سامنا کرنا چاہتی ہے ۔ اس سے قبل ہی چیف منسٹر آنندی بین پٹیل نے اپنے عہدہ سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ حالانکہ انہوں نے 75 سال عمر کو اس کی وجہ بتایا ہے لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ وجہ صرف یہی نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ اور وجوہات بھی ہیں اور شائد کانگریس کا یہ الزام قابل توجہ ہے کہ آنندی بین پٹیل نے پارٹی کی اعلی قیادت کے دباؤ میں یہ استعفی پیش کیا ہے ۔
یہ قیاس قابل غور ہوسکتا ہے کہ خود بی جے پی نے آنندی بین پٹیل کی قائدانہ صلاحیتوں میں کمی کو دیکھتے ہوئے انہیں اس عہدہ سے سبکدوش ہونے پر مجبور کیا ہو ۔ پارٹی نے اب وجئے روپانی کو ریاست کا نیا چیف منسٹر منتخب کیا ہے اور نتن پٹیل ریاست میں ڈپٹی چیف منسٹر ہونگے ۔ یہ تبدیلی در اصل اسمبلی انتخابات تک حالات پر قابو پانے اور اپنے اقتدار کو بچانے کی کوشش ہے ۔ پارٹی چاہتی تھی کہ نئے چیف منسٹر کو حالات پر گرفت بنانے اور عوام کو راغب کرنے کیلئے وقت دستیاب رہے ۔ اسی لئے آنندی بین پٹیل کو مستعفی ہونے کیلئے شائد دباؤ ڈالا گیا ۔ جو آثار و قرائن ہیں ان سے یہی تاثر ملتا ہے کہ اپنے طور پر ہر ممکنہ کوششیں کرنے کے باوجود بی جے پی کیلئے اسمبلی انتخابات میں حالات شائد ویسے نہ رہیں جیسے اب تک رہے ہوں ۔ اپنی آبائی ریاست میں بھی مودی ۔ امیت شاہ کی جوڑی کو مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT