Saturday , June 23 2018
Home / مضامین / گجرات میں بی جے پی کی کامیابی تضادات کامجموعہ

گجرات میں بی جے پی کی کامیابی تضادات کامجموعہ

مودی اور راہول نے کیا کھویا ، کیا پایا؟

عرفان جابری
سہ شنبہ 18 ڈسمبر 2017 کو دوپہر تک گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج کی صورتحال واضح ہوچکی تھی کہ آخرکار بی جے پی مغربی ریاست میں اپنا 22 سالہ اقتدار برقرار رکھنے اور پہاڑی ریاست میں کانگریس کو بے اقتدار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ کچھ دیر بعد نومنتخب صدر کانگریس راہول گاندھی نے ’ٹوئٹر‘ پر کسی پس و پیش کے بغیر تسلیم کرلیا کہ ہاں، کانگریس کو دونوں ریاستوں میں شکست ہوئی اور انھوں نے کٹر حریف بی جے پی کو کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ پھر وہ عوام میں نمودار ہوئے اور پُرجوش انداز میں پارلیمنٹ پہنچے۔ راہول کے ردعمل اور رویہ سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ انھوں نے مقولہ ’’گرا تو گرا، ٹانگ اوپر‘‘ والا انداز اختیار نہیں کیا۔ البتہ دوسرے روز دوبارہ عوام میں آکر یہ ضرور کہا کہ وزیراعظم مودی نے عوام کا اعتبار کھودیا اور گجرات میں کانگریس نے نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے بی جے پی کو ’’زبردست جھٹکہ‘‘ دیا ہے۔ اب جھٹکہ ’’زبردست‘‘ ہو کہ ’’معمولی‘‘ ، راہول کی بات حقیقت سے بعید نہیں کہ گجرات میں بی جے پی جیت کر ہاری اور کانگریس حصول اقتدار میں ناکامی کے باوجود پژمردہ نہیں ہوئی ہے!
اس کے برخلاف وزیراعظم نریندر مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ کا گمراہ کن ردعمل دیکھنے ، سننے اور پڑھنے میں آیا ہے۔ یوں سمجھئے کہ بی جے پی والوں کا معاملہ ’’مرغ کی ایک ٹانگ‘‘ جیسا ہے۔ (مقولے بعض مقامات پر مختلف انداز سے بھی بولے جاتے ہیں) ۔ وزیراعظم مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ نے 182 رکنی گجرات اسمبلی کیلئے ایک ماہ تک عوام کو گمراہ کرنے کے بعد گزشتہ عددی طاقت (2012ء میں 115 ایم ایل ایز) میں قابل لحاظ 16 نشستوں کی کمی اور اتنا ہی کانگریس کی اسمبلی رکنیت میں اضافہ (61 سے 77 ) پر پردہ ڈالنا چاہا اور ’’بے شرمی‘‘ سے کہہ دیا کہ یہ نتائج ’’وکاس‘‘ (ترقی) کی حمایت میں حاصل ہوئے ہیں؛ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے اقدامات کی تائید ہوئی ہے۔
جس شخص نے وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داری سے غفلت برت کر ایک ماہ تک اپنا سب سے اچھا وقت آبائی ریاست کیلئے وقف کردیا اور پوری انتخابی مہم میں زائد از 30 ریلیوں سے خطاب میں کبھی ’’وکاس‘‘ کو موضوع نہیں بنایا، جسے کہیں بھی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے اقدامات پر پذیرائی حاصل نہیں ہوئی، جس نے اپنے لئے مخصوص ’ریمارک‘ کو پوری گجراتی برادری پر محمول کرایا، جس نے ’بے بنیاد الزامات‘ میں سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا نام لے کر اپنے عہدہ کا وقار تک گھٹایا، حتیٰ کہ ریاستی چناؤ میں پڑوسی ملک ’پاکستان‘ کو تک گھسیٹا …… وہ موصوف نتائج آتے ہی سب کچھ فراموش کرگئے!

وزیراعظم بھول گئے کہ گجرات میں اُن کی پارٹی نے 150 نشستیں جیتنے کا دعویٰ کیا تھا اور وہ پہلی بار تین ہندسی عدد سے نیچے (99) تک سمٹ گئے، وہ فراموش کرگئے کہ بی جے پی تشویشناک حد تک شہری علاقوں کی پارٹی بن گئی ہے جبکہ عمومی طور 70% آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ صرف چار گجراتی شہروں احمدآباد (21 اسمبلی نشستوں میں سے 16) ، سورت (16 میں سے 15) ، وڈوڈرا (10 میں سے 9 ) اور راجکوٹ (8 میں سے 6) میں برسراقتدار پارٹی نے 55 کے منجملہ 46 (83.63%) اسمبلی سیٹیں جیتے؛ بقیہ 127 نشستوں میں 53 (41.73%) حاصل کئے۔ یعنی شہری علاقوں کے مقابل بی جے پی کی دیہی علاقوں میں نمائندگی نصف سے بھی کم ہے۔ ظاہر ہے کانگریس کامعاملہ برعکس ہے۔ اسے روایتی طور پر دیہی علاقوں میں تائید و حمایت حاصل رہی ہے۔ شہری حصوں میں بلاشبہ بی جے پی نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اور ایسا گزشتہ چند انتخابات میں ہوتا آیا ہے۔ تاہم، اس مرتبہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کیونکہ بالعموم گجرات اور بالخصوص شہری علاقے کاروباری اور تجارتی ذہنیت سے کام کرتے ہیں۔ وہاں جذبات اور خاص طور پر مذہبی جذبات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ حتیٰ کہ برادری کا بھی بہت زیادہ لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ اس کا ثبوت نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر شہری گجرات بالخصوص سورت میں شدید ردعمل ہے۔ 8 نومبر 2016 سے اور پھر خاص کر یکم جولائی 2017 سے سورت نے معیشت پر کاری ضرب لگانے والے مرکزی حکومت کے اقدامات پر شدید احتجاج درج کرایا ہے۔ سورت والوں نے جن میں اکثریت ہندو آبادی کی ہے، جی ایس ٹی کے خلاف سب سے مقدم آواز اٹھائی۔ پانچ ماہ سے سارا سورت، ہندوستان، اور دیگر متعلقہ عالمی گوشوں نے دیکھا ہے کہ مرکزی حکومت اور بی جے پی کے خلاف کس قدر برہمی دیکھنے میں آئی؛ کئی جلسے ہوئے، جلوس نکالے گئے، سرکاری حکام سے نمائندگیاں ہوئیں۔ اور پھر لگ بھگ دو ماہ کی انتخابی مہم کے دوران سب نے دیکھا کہ سورت میں ہر طرف ماحول بی جے پی کے خلاف دیکھنے میں آیا۔ گجرات میں کئی جگہ وزیراعظم مودی کے جلسوں سے عوام نے بیزارگی کا عملاً اظہار کیا۔ اس پورے عمل کے دوران گجراتیوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وزیراعظم مودی بھی گجراتی ہیں، مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کی ہی ریاست میں بھی حکمرانی ہے۔ اس کے باوجود محض چار شہروں میں 83 فیصد سے زیادہ اسمبلی نشستوں پر جیت تضاد ہی کہی جاسکتی ہے۔ اس لئے پھر ایک بار الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) شک کے دائرہ میں آتا ہے۔ اسی سال کے اترپردیش اسمبلی انتخابات اور وہیں پر بلدی چناؤ میں متعدد مقامات پر ووٹنگ مشینوں کا مخدوش ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ کئی جگہ عملی ثبوت دکھائی دیئے۔ تاہم، کانگریس کے بشمول اپوزیشن اس نہایت اہم موضوع کو خاطرخواہ انداز میں پیش کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ میرے پاس دستاویزی ثبوت نہیں ، اس لئے ٹھوس دلیل پیش کرنے سے قاصر ہوں۔ تاہم، واقعات میں عدم تال میل بہت جگہوں پر پولنگ کے عمل کو مشکوک بنا رہے ہیں!

گجراتیوں کی بی جے پی سے ناراضگی کی وجوہات صرف نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نہیں بلکہ پاٹیدار کمیونٹی کے کوٹہ ایجی ٹیشن کے لیڈر ہاردک پٹیل (24 سال) اور محروم و پچھڑے طبقات کے نمائندہ جگنیش میوانی اور الپیش ٹھاکر … یہ سب بھی بی جے پی حکومتوں سے سخت نالاں ہیں۔ ان نوجوانوں کو کافی تائید و حمایت حاصل ہوئی۔ جگنیش اور الپیش نے الیکشن لڑا اور گجرات کے لیجسلیٹرز بن گئے۔ ہاردک نے نتائج کے بعد صاف کہہ دیا کہ سارا بگاڑ ووٹنگ مشینوں کا ہے۔ ہاردک ہو کہ سیاسی پارٹیاں انھیں چاہئے کہ محض انتخابی نتائج کے موقعوں پر ووٹنگ مشینوں پر شک و شبہ کے اظہار تک محدود نہ رہیں۔ بلکہ سنجیدگی سے چھان بین کریں اور کرائیں۔ بعض گوشوں نے تحقیقاتی کوششوں سے کچھ تانے بانے بے نقاب بھی کئے ہیں۔ ووٹنگ مشینوں کے عمل پر شک کرنے والے تمام گوشوں کو چاہئے کہ اجتماعی طور پر کام کرتے ہوئے ثبوت اکٹھا کریں اور اس کا ناجائز استعمال کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں۔ ہم کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ 130 کروڑ کی آبادی والا ہندوستان بیالٹ پیپرس کیلئے طویل اور خرچیلا عمل دوبارہ اختیار کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ، اور نا ہی جمہوری حکمرانی کو ’ای وی ایم‘ کے رحم وکرم پر چھوڑا جاسکتا ہے۔

گجرات میں گزشتہ اسمبلی چناؤ کے مقابل بی جے پی کو حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب میں کمی آئی، کانگریس کو زیادہ ووٹ حاصل ہوئے اور تیسرے نمبر پر ’نوٹا‘ یا NOTA یعنی ووٹنگ مشین پر None Of The Above والا بٹن۔ یہ بٹن ووٹر تب دباتا ہے جب اسے کوئی بھی امیدوار کے حق میں ووٹ دینا پسند نہیںاور وہ یہ بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس کا ووٹ ’’بوگس‘‘ استعمال نہ ہونے پائے۔ نوٹا کے تحت تقریباً 2% یا 5.5 لاکھ سے زیادہ ووٹ درج ہوئے ہیں۔ یہ مانا جاسکتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں نے کانگریس کی تائید نہیں کی اور نا کسی تیسری پارٹی یا آزاد امیدوار کو تک ووٹ دینا مناسب سمجھا ۔ لیکن یہ کیا برسراقتدار بی جے پی سے ناراضگی کا اظہار نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق 5,51,615 ’نوٹا‘ ووٹ درج ہوئے جس بلاشبہ برسراقتدار پارٹی اور بالعموم ساری اپوزیشن اور جمہوری عمل کیلئے لمحہ فکر ہے!
دو ریاستوں کے نتائج بظاہر نریندر مودی اور امیت شاہ کی قیادت میں بی جے پی کی کانگریس کے مقابل واضح جیت معلوم ہوتے ہیں لیکن بغور جائزہ لینے پر کئی دلچسپ باتیں سامنے آتی ہیں اور خاص طور پر گجرات کا نتیجہ تضادات کا مجموعہ بن کر اُبھرا ہے۔ میں نے ان سطور میں گجرات الیکشن پر توجہ مرکوز کی ہے، ہماچل پردیش پر نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چھوٹی پہاڑی ریاست (68 رکنی اسمبلی) کی سیاسی تاریخ ہے کہ وہاں 27 سال (1990ء سے) ہوگئے کہ کسی بھی پارٹی کی حکومت اپنے اقتدار کو متواتر دوسری میعاد تک وسعت نہیں دے پائی ہے۔ تو اس مرتبہ وزیراعظم مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ کی جوڑی کو ’’غیرضروری دھوم‘‘ مچانے کی ضرورت نہیں کہ ہم نے ہماچل پردیش کو بھی کانگریس سے ’’مکت‘‘ (آزاد) کرا دیا۔ ہماچل میں بی جے پی کیلئے یقینا سوچنے والی بات ہے کہ وہاں وزارتِ اعلیٰ امیدوار پریم کمار دھومل کو شکست ہوگئی، جس نے ریاست میں پارٹی کی جیت کی دھوم دھام کا مزہ خراب کیا ہے!
قارئین کرام! ایسا نہیں کہ گجرات اور ہماچل پردیش میں بی جے پی کامیاب اور کانگریس ناکام ہونے کے باوجود وزیراعظم مودی پر تنقید اور راہول کی تائید میرے ذہنی تحفظ کا نتیجہ ہے۔ 2002ء سے مودی کا سیاسی کریئر اور بی جے پی کی اعلیٰ ترین مقام تک رسائی عیاں ہے۔ اس دوران جتنے بھی الزامات مودی اور بی جے پی کے خلاف عائد ہوئے، ان کا ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی بناء وہ محفوظ ہیں۔ لیکن شک و شبہ کے دائرے سے وہ باہر نہیں آئے ہیں اور نا انھوں نے کبھی ایسی کوشش کی ہے۔ وہ تو تضادات کا مجموعہ ہیں۔ وزیراعظم مودی ’’سینہ ٹھونک کر‘‘ کہتے ہیں کہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘! اُن کی پارٹی نے اترپردیش کے بعد مسلسل دوسری نمایاں ریاست گجرات میں کسی بھی مسلم کو اسمبلی چناؤ کیلئے ٹکٹ نہیں دیا؛ کم از کم کوئی مسلم خاتون کو ہی ٹکٹ دے دیتے جن سے وزیراعظم اور بی جے پی کو یکایک ہمدردی ہوگئی ہے۔ (کانگریس کے چھ مسلم پارٹی امیدواروں میں سے تین گجرات اسمبلی کے لیجسلیٹرز منتخب ہوئے ہیں)۔ مودی کا 2014ء سے نعرہ ہے کہ بی جے پی کا انتخابی موضوع کانگریس کے برخلاف صرف ’’وکاس‘‘ رہے گا ۔ سب نے دیکھا کہ وزیراعظم موصوف گجرات اسمبلی چناؤ میں بہت بولے، صرف ’’وکاس‘‘ پر نہیں بولے!
نئے صدر کانگریس راہول کیلئے ابھی ’’دلی دور اَست‘‘ والا معاملہ ہے۔ وہ مطمئن ہوکر ہرگز نہیں بیٹھ سکتے کہ گجرات میں بی جے پی کو ’’ناک میں دَم کردیا‘‘ ؛ اور ہماچل میں تو اقتدار باری باری تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ وزیراعظم مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ کے ’’بڑبول‘‘ ، تکبر، اکڑ، اقلیتوں سے بغض، دلتوں سے نفرت، پسماندہ طبقات سے ناروا سلوک اور نوٹ بندی، جی ایس ٹی کے بعد بینکوں کے ذریعے عوام کو لوٹنے کے مجوزہ بل جیسے ’’احمقانہ‘‘ اور ’’بڑے لٹیروں کی مدد‘‘ کرنے والے اقدامات سے کہیں بڑھ کر وہی گھسا پٹا ’’مندر۔مسجد‘‘ مسئلہ، شرعی قوانین میں مداخلت کے راستے ’’یکساں سیول کوڈ‘‘ پر عمل کے مشکوک منصوبوں کے مدنظر ملک میں طاقتور اپوزیشن کی اشد ضرورت ہے۔ گجرات الیکشن میں معلوم ہوگیا کہ مرکزی سطح پر مودی کو کوئی علاقائی لیڈر یا نوخیز سیاستدان نہیں بلکہ راہول سے ہی چیلنج درپیش ہے۔
راہول پر شخصی طور پر کوئی مجرمانہ الزام نہیں، اُن کی صاف ستھری امیج ہے، لیکن سب کچھ آسان نہیں۔ وہ کانگریس کے صدر بن چکے ہیں، جس نے آزادی کے بعد لگ بھگ 50 سال عمولی وقفوں سے قطع نظر لگاتار حکمرانی کی، اور اس دوران جتنے اچھے کام کئے، اتنے زک بھی دیئے ہیں۔ ویسے سونیا گاندھی کی تقریباً 20 سالہ قیادت کے بعد راہول کو بہتر پارٹی ہاتھ لگی ہے کیونکہ ان دو دہوں میں کانگریس پر 1990ء کے دہے اور اس سے قبل جیسے داغ نہیں لگے ہیں۔ راہول کو پُرانی اور درمیانی کانگریس اور اس کے نمائندہ لیڈروں سے کہیں آگے بڑھ کر سوچنا ہوگا۔ گجرات میں ہارک، الپیش، جگنیش کی طرح ہر ریاست میں نوجوان قیادت کو تیار کرنا ہوگا۔ بلاشبہ انھیں مدھیہ پردیش میں جیوتیر ادتیہ سندھیا، راجستھان میں سچن پائلٹ، مہاراشٹرا میں ملند دیورا اور چند جگہ صاف ستھری امیج والے نوجوان لیڈروں کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہے لیکن یہ سب وراثت میں سیاستدان بننے والے ہیں۔ میں نہیں کہتا کہ اس میں اُن کا کوئی قصور ہے مگر کانگریس کو الیکشن جیتنے کیلئے سڑکوں پر نکل آنے والے نوجوان لیڈروں کی ضرورت پڑے گی۔ راہول کی اگلی بڑی آزمائش کانگریس زیراقتدار جنوبی ریاست کرناٹک میں ہے جہاں برسراقتدار پارٹی کی قیادت نے کچھ بھی موقع دیا تو انھیں وزیراعظم مودی، صدر بی جے پی امیت شاہ اور ’ای وی ایم‘ہرگز نہیں بخشیں گے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT