Friday , December 15 2017
Home / سیاسیات / گجرات میں تجارتی برادری بی جے پی جیت کی خواہاں

گجرات میں تجارتی برادری بی جے پی جیت کی خواہاں

نوٹ بندی، جی ایس ٹی جیسے سخت معاشی اصلاحات بڑی رکاوٹ۔ وزیراعظم مودی کی آبائی ریاست میں مقبولیت کا امتحان

نئی دہلی 27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ گجرات میں انتخابی ماحول گرما رہا ہے، تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ سیاسی وجوہات معاشی پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں غالب رول ادا کرنے کا امکان ہے۔ اب سے لے کر عام انتخابات (مئی 2019 ء میں متوقع) تک 12 اسمبلی چناؤ ہونے ہیں جن کے بارے میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات کسی نہ کسی اعتبار سے نریندر مودی زیرقیادت حکومت کے دو کلیدی اصلاحات نوٹ بندی اور گڈس اینڈ سرویسس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ کے بارے میں ریفرنڈم کا کام کریں گے۔ ریاستوں میں زیادہ تر توجہ گجرات (ڈسمبر 2017 ء) ، کرناٹک (اپریل 2018 ء) ، مدھیہ پردیش (ڈسمبر 2018 ء) اور راجستھان (ڈسمبر 2018 ء) پر مرکوز رہے گی۔ مختلف رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن اواخر 2018 ء اور وسط 2019 ء کے درمیان آنے والے بعض ریاستی اسمبلی چناؤ کو 2019 ء کے جنرل الیکشن کے ساتھ منعقد کراسکتا ہے۔ جی چوکا لنگم، بانی و منیجنگ ڈائرکٹر ’ایکوینامکس ریسرچ‘ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی گجرات الیکشن کے نتائج ظاہر ہوجائیں، 2019 ء کے لوک سبھا چناؤ کے امکانی نتیجے کے تعلق سے قیاس آرائی آسان تر ہوجائے گی۔ ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ گجرات وزیراعظم مودی کی آبائی ریاست ہے چنانچہ وہاں اُن کی مقبولیت کو کل ہند سطح پر اُن کی مقبولیت کے لئے نمایاں کسوٹی کے طور پر پرکھا جاسکے گا۔ گزشتہ ایک ماہ میں حکومت نے کئی پالیسی اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں سود سے پاک زرعی قرض اور نئی گجرات انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن یونٹس کی تشکیل شامل ہیں۔

اِن میں سے دو بڑی یونٹس 2.11 لاکھ کروڑ روپئے کا پیاکیج پبلک سیکٹر یونٹ بینکوں کے لئے ہے اور بھرت مالا پراجکٹ کے ذریعہ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اِن اقدامات نے عمومی طور پر مارکٹ کی توجہ حاصل کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کئی کمپنیاں اور زندگی کے مختلف شعبے چاہتے ہیں کہ گجرات الیکشن میں اِس بار بھی بی جے پی کامیاب ہوجائے۔ سونل ورما، منیجنگ ڈائرکٹر اور چیف انڈیا اکنامسٹ، Nomura کا ماننا ہے کہ بڑے پیمانے پر کئے گئے اصلاحات اب ماضی بن چکے اور ہمیں پہلے سے معلنہ اقدامات پر عمل آوری کے معاملے میں توجہ مرکوز کرنا ہوگا۔ یہ اقدامات متعدد شعبوں سے متعلق ہیں جیسے بینکنگ سیکٹر، انفراسٹرکچر اور پرائیوٹائزیشن۔ ہمیں معلوم ہے کہ مالی سال 2018 ء میں اقتصادی تقویت پر وقفہ لگے گا۔ ہم ایسی توقع نہیں رکھتے کہ حکومت بڑے پیمانے پر مارکٹ کی مدد والے اعلانات یا اقدامات کرپائے گی تاوقتیکہ اُنھیں انتخابی کامیابی کے ذریعہ دوبارہ سیاسی و انتظامی طاقت حاصل نہیں ہوجاتی۔ لہذا دیکھنا ہے کہ مارکٹ آنے والے اسمبلی الیکشن کے نتیجے پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کرے گی اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ اگرچہ زیادہ تر تجزیہ کاروں گجرات میں بی جے پی کامیاب ہونے کی توقع ہے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ ناکامی کی صورت میں مارکٹ کی صورتحال پر کاری ضرب لگ سکتی ہے کیوں کہ سیاسی استحکام اور موجودہ حکومت کی معاشی اصلاحات کے بارے میں توجہ متزلزل ہوجائے گی۔ بہرحال تجارتی برادری گجرات میں مودی / بی جے پی چاہتی ہے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے اقدامات عام لوگوں اور ووٹروں کا موڈ بگاڑ رکھا ہے۔ یہی بی جے پی کے حق میں بڑا منفی عنصر ہے۔ اِس لئے دیکھنا ہے کہ مارکٹ کی خواہش اور ووٹروں کی مرضی میں کون غالب آتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT