Tuesday , August 21 2018
Home / اداریہ / گجرات میں سیاسی کامیابی کے حقائق

گجرات میں سیاسی کامیابی کے حقائق

خاموش ہر فضا ہے وہ جب سے چلے گئے
نظروں میں میری ایک تماشا تھا کیا ہوا
گجرات میں سیاسی کامیابی کے حقائق
گجرات اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کو لے کر اگزٹ پولس نے جس طرح کی قیاس آرائیاں کی تھیں اس میں صحافت پر مسلسل دباؤ کا بہت اہم کردار رہا ہوگا ۔ اگزٹ پولس نے اتنا تو عقدہ کھول دیا تھا کہ حکمراں پارٹی کے حق میں کس حد تک تبدیلی آنے والی ہے ۔ کانگریس کے لیے یہ انتخابات ہمیشہ کی طرح ہی ثابت ہوئے ہیں ۔ گذشتہ 22 سال سے گجرات کے رائے دہندوں پر راج کرنے والی حکمراں پارٹی کو پھر ایک بار اقتدار کی توقع کو پورا کرنے میں بی جے پی کے حامیوں نے کتنا دیانتدار کام کیا ہے یہ سارا ملک دیکھ رہا ہے ۔ ہاردک پٹیل کو لے کر کانگریس نے اپنی ساکھ کو مضبوط بناتے ہوئے رائے دہندوں کا ذہن تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اب جو تبدیلی ہوئی ہے اس کو نظر کا دھوکہ بھی کہا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی کی ترجیحات پہلے جیسی نہیں رہیں ۔ عوام کی پسند نا پسند بھی کچھ کی کچھ ہوتے جارہی ہے ۔ اپنا رخ اختیار کرنے میں لوگ پہلی جیسی احتیاط نہیں برتتے ۔ سیاسی فیصلے بھی کچھ عجیب طرح کے ہوچلے ہیں ۔ کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی نے گجرات اسمبلی انتخابات کے لیے اپنی مہم میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی ۔ انہوں نے گجرات کی معیشت اور معاشرت کے ڈھب میں تبدیلی لانے پر زور دیا تھا ۔ عوام کو جب کسی متکبر لیڈر کی ہی ضرورت ہوتی ہے تو سیاسی ماحول بھی رعونت سے بھرا ہوتا ہے ۔ گجرات کی سیاست بھی رعونت سے بھری ہوئی چل رہی ہے ۔ یہاں کی نمائندگی کرنے والا لیڈر زمین پر چلتا تھا تو ایسے لگتا تھا کہ آسمان پر چل رہا ہے ۔ انتخابی مہم کو بھی اسی انداز سے چلایا گیا جس میں ساری مرکزی و ریاستی مشنری جھونک دی گئی ۔ اس کا تکبرانہ لہجہ دیکھ کر بھی لوگوں کے دل تبدیل نہیں ہوئے ۔ گجرات میں جو کچھ ہورہا ہے اس وقت صرف محفوظ تبصرہ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ افسوس کا اظہار بھی کیا جاسکتا ہے ۔ تقریبا 2 دہائیوں سے گجرات کی سیاست میں اپنی بالا دستی قائم رکھنے والی پارٹی کا مستقبل بے سمت ہوگیا ہوتا تو یہاں کی سیاست کو واپس سیکولر ٹریک پر ڈالنے کے لیے کانگریس نے کافی محنت کی ۔ پورے ملک میں گجرات کا ذکر چلتا رہا ہے ۔ یہاں کے قائدین ملک کی ترقی اور سیاست کے راستہ کو گجرات سے ہو کر گذرنے کی بات کرتے ہیں ۔ انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم کی حیثیت سے نریندر مودی اور بی جے پی صدر کی حیثیت سے امیت شاہ نے اپنی تنقیدوں کا مرکز کانگریس کو بنایا تھا ۔ رام مندر کا مسئلہ اٹھایا اور گجرات انتخابات میں پاکستان کی مداخلت کا الزام بھی عائد کیا ۔ اس تنازعہ کے دوران کانگریس کے لیڈر منی شنکر ائیر کو معطل کردیا گیا ۔ گجرات کے عوام نے اپنی ریاست کے مستقبل کے تعلق سے منصوبہ نہ رکھنے والوں کے تعلق جس طرح کا فیصلہ دیا ہے اُس نے پھر ایک بار ریاست کے عوام کو درپیش مسائل سے بچ کر نکلنے کا موقع فراہم کیا ہے ۔ کانگریس نے وسیع تر سماجی اتحاد پیدا کرنے کی کوشش میں گجرات کے اہم طبقہ پاٹیدار ، او بی سی اور دلت لیڈروں کو اپنے ساتھ شامل کر کے بی جے پی کی نیندیں اڑا دی تھیں ۔ بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے لیے اس نے نے ہاردک پٹیل ، الپیش ٹھاکر اور جگنیشن میوانی کے ساتھ اتحاد کیا تھا ۔ گجرات کا با اثر پاٹیدار طبقہ نے حکمراں طاقت کے سامنے ایک مضبوط مورچہ بنانے کی کوشش کی ہے ۔ ریاست کی آبادی کا 12 فیصد حصہ ہونے کے باوجود پاٹیدار کو مودی حکومت میں خاص مقام حاصل نہیں ہوسکا تھا اس کے بعد ہی کانگریس نے اس طبقہ کے لیڈر کو طاقتور بنانے میں اہم رول ادا کیا مگر کانگریس نے گجرات کے عوام سے بی جے پی کو بیدخل کرنے کی اپیل کی تو اس پر رائے بھی منقسم ہوگئی ۔ سوشیل میڈیا پر دو بڑی حریف پارٹیوں نے ایک دوسرے پر زبردست نکتہ چینی کی لیکن کانگریس کے حامیوں نے گجرات کی ترقی کا مسئلہ اٹھا کر بی جے پی کی انتخابی امکانات کو کمزور بنانے میں اہم رول ادا کیا ۔ بعض مقامات پر یکطرفہ رائے دہی سے ہی اندازہ ہو چلا تھا کہ یہاں کس پارٹی کا پلڑا بھاری ہونے والا ہے ۔ عوامی زندگی میں عوام کو کس طرح طرح دھوکہ دیا جاسکتا ہے ۔ اس کا ہنر سیکھ لینے والے لیڈر کو معلوم ہونا چاہئے کہ عوام کو زیادہ دن تک یا زیادہ دیر تک بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا اور اس طرح عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ترکیب ملک کی تمام ریاستوں میں کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ گجرات کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں ۔ کانگریس کو پہلے سے زیادہ بہتری ملی ہے اور اس کے گراف میں اضافہ کے لیے راہول گاندھی نے کافی محنت کی تھی ۔ اس کا سہرا بھی انہی کے سر باندھا جانا چاہئے ۔ اب کرناٹک میں 2018 کے اسمبلی انتخابات بھی بی جے پی کے لیے اہم ہوں گے ۔ اس ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے یہاں بھی اگر عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں تو پھر گجرات کے نتائج کا اس پر بھی اثر پڑ سکتا ہے ۔ ذات پات کی سیاست اور مذہب کو موضوع بناکر لڑے گئے انتخابات کے نتائج بی جے پی کی 20 سالہ حکمرانی کی خرابیوں اور اچھائیوں کے درمیان موثر فیصلہ ہے مگر جمہوریت اور سیکولرازم کے تقاضے پورے ہوں گے یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT