Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / !گجرات میں شاہ زادے ،حیدرآباد میں پاشاہ زادے 

!گجرات میں شاہ زادے ،حیدرآباد میں پاشاہ زادے 

اثر رکھنے والوں کے ساتھ پولیس ، غریب عوام کے ساتھ کوئی نہیں
حیدرآباد۔13اکٹوبر(سیاست نیوز) اسکامس صرف قومی سطح پر نہیں ہوتے اور صرف قومی سطح پر ہی اسکامس میں ملوث افراد کو بچایا نہیں جاتا بلکہ ’’شاہ زادے ‘‘ ہی نہیں بلکہ ’’پاشاہ زادے ‘‘ اور ’’شہزادے‘‘ بھی اسکام میں ملوث ہوتے ہیں لیکن وہ بھی قانون کے شکنجہ سے بچنے کے گر جانتے ہیں اور کوشش میں پولیس کی مدد سے کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ ملک میں غریب عوام کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہوئے ان کا حق مارنے والے کوئی اور نہیں بلکہ یہی شاہ زادے اور شہزادے ہوتے ہیں جو خود کو قانون سے بالاتر تصور کرتے ہیں ۔ شہریان حیدرآباد کو پکوان گیاس کے حصول میں ہونے والی مشکلات کوئی گیاس کی قلت نہیں بلکہ اسی طرح کے اسکام کا نتیجہ ہے جس میں غیر قانونی گیاس کی فروخت کے ذریعہ عوام کا حق چھینا جاتا ہے۔ 7ستمبر2017 کو پرانے شہر کے علاقہ بستی نبی کریم ‘ بہادرپورہ نزد میر عالم تالاب محکمہ سیول سپلائز کی جانب سے کی گئی کاروائی کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ خانقاہ کے’’ شہزادے‘‘ اور رکن اسمبلی کے ’’پاشاہ زادے‘‘بھی ملوث ہیں لیکن محکمہ سیول سپلائز کی جانب سے تیار کئے گئے پنچنامہ کی بنیاد پر کاروائی کرنے کے بجائے محکمہ پولیس نے اس غیر قانونی پکوان گیاس سلنڈرس کے معاملہ میں دو افراد کو مقدمہ میں ملزم بنایا جبکہ مابقی دوافرادکا نام ایف آئی آر میں بھی شامل نہیں کیا گیا جبکہ جن دو افراد کے نام ایف آئی آر میں شامل نہیں کئے گئے ان میں اس غیر قانونی کمپنی کے 51فیصد کے حصہ دار ’’شہزادے ‘‘کے علاوہ ایک فیصد کے حصہ دار ان کے اپنے ’’شہزادے ‘‘ شامل ہیں۔ بہادرپورہ پولیس کی جانب سے درج کردہ مقدمہ نمبر 181/2007 میں پولیس نے محمد عبدالکریم ولد محمد عبدالقادری ساکن نورخان بازار کو ملزم نمبر 1بنایا ہے جبکہ سید قادر محی الدین قادری ولد سید احمد پاشاہ قادری ساکن بہادر پورہ کو ملزم نمبر 2 بنایا گیا ہے جبکہ اس ایچ بی ایس سروس کے نام سے موجود اس کمپنی میں سید احمدالحسینی ولد سید محمد الحسینی ساکن قاضی پورہ51 فیصد کے شراکت دار ہیں اور اسی طرح سید محمود الحسینی ولد سید احمد الحسینی ساکن قاضی پورہ ایک فیصد کے شراکت دار ہیں اور اس بات کا تذکرہ محکمہ سیول سپلائز کے پنچنامہ میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ پولیس کی خاص مہربانی کے نتیجہ میں انہیں ملزم نہیں بنایا گیا۔ محکمہ سیول سپلائز کی جانب سے تیار کردہ پنچ نامہ ڈپٹی تحصیلدار کی موجودگی میں تیا رکیا گیا ہے اس کے باوجود اس کے مطابق کاروائی کے بجائے پولیس نے جو ’’پرنس‘‘ کے نام سے مشہور ہیں انہیں اس اسکام میں ملزم نہیں بنایا ۔ روزنامہ سیاست نے اس انکشاف کے بعد ہی اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ اس مقدمہ میں خانقاہی نظام سے جڑے بعض افراد کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس معاملہ میں مسلم یونائیٹڈ فورم میں شامل بااثر شخصیات کے نام کا استعمال کرنے کے علاوہ خود کی خانقاہوں سے وابستگی کا حوالہ دیتے ہوئے بھی بچنے کی کوشش کی جانے لگی ہیں۔ سیاست کا یہ انکشاف درست ثابت ہوا غیر قانونی گیاس ایجنسی کی شراکت داری اور جائیداد کے حصو ل کے علاوہ دیگر دستاویزات رکھتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا گیا تھا۔دستاویزات کے مطابق کمپنی کے شراکت دار سید محمود الحسینی نابالغ معصوم بچہ ہے جس کا حصہ 1فیصد ہے اور اس کے حصہ کی نگرانی اس شراکت دار کے والد سید احمدالحسینی کی ذمہ داری ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر قانونی کام کیلئے لوگ اپنے معصوم بچوں کے نام کا بھی استعمال کرنے لگے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جہاں سے دین کی اشاعت کی توقع کی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT