Monday , December 11 2017
Home / سیاسیات / گجرات میں شکست کے خوف سے بی جے پی کی ناپاک سازش

گجرات میں شکست کے خوف سے بی جے پی کی ناپاک سازش

احمد پٹیل سے استعفیٰ کیلئے وجئے روپانی کے مطالبہ پر کانگریس کا شدید ردعمل
نئی دہلی۔ 28 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے اپنے سینئر لیڈر اور رکن راجیہ سبھا احمد پٹیل سے استعفیٰ کیلئے گجرات کے ’’ناکام چیف منسٹر‘‘ وجئے روپانی کے مطالبہ پر بی جے پی کو جوابی وار کا نشانہ بنایا۔ روپانی نے الزام عائد کیا کہ آئی ایس کا ایک مشتبہ کارکن اس دواخانہ میں ملازمت کیا کرتا تھا جس کے ٹرسٹیوں میں احمد پٹیل بھی شامل تھے۔ بی جے پی پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجے والا نے کہا کہ گجرات اسمبلی انتخابات میں اپنی یقینی شکست سے خوف زدہ ہونے کے سبب بی جے پی اس قسم کی ناپاک سازش پر اُتر آئی ہے۔ سرجے والا نے کہا کہ نہ تو احمد پٹیل اور نہ ہی ان کے ارکان خاندان اس ہاسپٹل کے ٹرسٹی ہیں جو (ہاسپٹل) سردار پٹیل سے موسوم ہے اور نہ ہی اس دواخانہ کے انتظامیہ میں ان کا کوئی رول ہے۔ سرجے والا نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق مسائل سے کھلواڑ نہیں کیا جانا چاہئے اور نہ ہی اس پر سیاسی بازی گری کی جائے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے قائدین بشمول سابق وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے ناموں کی فہرست بیان کی جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کو قربان کیا تھا۔

اس مسئلہ پر بی جے پی کو زیر کرنے کی کوشش کے طور پر سرجے والا نے زعفرانی پارٹی سے اس مسئلہ پر وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا کہ مرکزی اور مہاراشٹرا کی ریاستی حکومتیں انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کی بیوی کے گزشتہ سال دورۂ ممبئی اور پھر پاکستان کو واپسی پر خاموش بہ لب کیوں ہیں۔ سرجے والا نے سوال کیا کہ آیا یہ صحیح ہے کہ مہاراشٹرا کے سابق وزیر ایکناتھ کھڈسے کو داؤد ابراہیم سے روابط کی پاداش میں وزارتی عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ سرجے والا نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’روپانی اس قسم کے ناقص، غلط اور بے بنیاد بیانات دینے کی سازش پر اُتر آئے ہیں

کیونکہ وہ اس بات پر خوف زدہ ہیں کہ 6.5 کروڑ گجراتی اس کو (اسمبلی انتخابات میں) مکمل طور پر مسترد کردیں گے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناکام چیف منسٹر بی جے پی کی شکست کے ڈر سے کس سطح پر اُتر آئے ہیں‘‘۔ سرجے والا نے کہا کہ بی جے پی کو چاہئے کہ وہ کانگریس کو قومی سلامتی کا درس نہ دے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کی زیرقیادت حکومتیں اور اس کے قائدین، دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں خود کو کمزور ثابت کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ جموں و کشمیر میں پی ڈی پی۔ بی ج پی نے (حزب المجاہدین کے کمانڈر) برہان وانی کے خاندان کو معاوضہ اور ملازمت کی پیشکشی کی تھی؟ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ مخالف ہند سرگرمیوں میں ملوث آسیہ اندرابی کو ریاستی حکومت نے ’’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘‘ مہم کا ایمبیسڈر بنایا تھا‘‘۔ بی جے پی پر سخت تنقیدی حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سرجے والا نے 1999ء کے قندھار طیارہ اغوا کیس کا حوالہ دیا اور سوال کیا آیا ماضی کی این ڈی اے حکومت نے (انتہا پسند گروپ ’’جیش محمد‘‘ کے سربراہ) مولانا مسعود اظہر اور دوسروں کو افغانستان میں رہا نہیں کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT