Saturday , November 17 2018
Home / Top Stories / گجرات میں مجسمہ سردار پٹیل کی تعمیر پر عوامی دولت کا خرچ

گجرات میں مجسمہ سردار پٹیل کی تعمیر پر عوامی دولت کا خرچ

شہریوں کی فلاح و بہبود و سماجی ترقی کے فنڈ کا بیجا استعمال ، مراٹھی اخبار کے انکشاف کے بعد سوشیل میڈیا پر چہ میگوئیاں
حیدرآباد۔7 نومبر(سیاست نیوز) گجرات میں تعمیر کئے گئے سردار پٹیل کے مجسمہ کیلئے حکومت نے جو عوامی دولت خرچ کی وہ در حقیقت وہ پیسہ تھا جو کمپنیوں کی جانب سے غریب اور مفلوک الحال شہریوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کے علاوہ سماجی ترقی کیلئے خرچ کیا جاتا تھا ۔ ملک میں موجود کمپنیوں میں کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلیٹی کے تحت جو فنڈ ہوتا ہے اس فنڈ کے استعمال کے سلسلہ میں کمپنی کو اختیار ہوتا ہے اور کمپنیاں سلم علاقوں کی ترقی اور پسماندہ خاندانوں کی معاشی و تعلیمی ترقی کے علاوہ حفظان صحت پر خرچ کرتی ہیں لیکن موجودہ حکومت نے نیم سرکاری کارپوریٹ اداروں کے اس سی ایس آر فنڈ کو سردار پٹیل کے مجسمہ کی تعمیر کیلئے حاصل کرتے ہوئے خرچ کیا ہے۔سوشل میڈیا پر ایک مراٹھی اخبار کے مضمون کے حوالہ سے گشت کر رہی خبر کے مطابق سردار پٹیل کے قدآور مجسمہ کی تعمیر کیلئے کسی خانگی ادارہ یا کمپنی سے چندہ وصول نہیں کیا گیا بلکہ ان نیم سرکاری کمپنیوں سے حکومت کے سی ایس آر فنڈ حاصل کیا ہے جن اداروں کی ذمہ داری اور نگرانی حکومت کی ہی ہے۔سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی اطلاعات کے مطابق سردار پٹیل کے مجسمہ کی تعمیر کیلئے انڈین آئیل کارپوریشن نے 900 کروڑ روپئے دئے جبکہ او این جی سی نے 500 کروڑ روپئے ادا کئے ہیں اسی طرح بھارت پیٹرولیم کی جانب سے 250کروڑ روپئے دیئے گئے اور آئیل انڈیا کارپوریشن کی جانب سے 250 کروڑ روپئے ادا کئے گئے ہیں۔گیاس اتھاریٹی آف انڈیا لمیٹڈ کی جانب سے اس مجسمہ کی تعمیر کیلئے 250 کروڑ روپئے ادا کئے گئے ہیں اور پاؤر گریڈ نے اس مقصد کیلئے 125کروڑ روپئے دیئے ہیں۔ گجرات منیرلس ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے اس مجسمہ کی تعمیر کیلئے 100 کروڑ روپئے اپنے سی ایس آر فنڈ کے ذریعہ دیئے ہیں جبکہ انجینئرس انڈیا نے 50کروڑ روپئے ادا کئے ہیں اسی طرح پٹرونیٹ نامی کمپنی کی جانب سے اس مقصد کیلئے 50کروڑ روپئے دیئے گئے ہیں اور بالمیر لاری کمپنی کی جانب سے 50 کروڑ روپئے دیئے جانے کی اطلاع ہے۔ سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کے ذریعہ حکومت ہند کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ اس مجسمہ کیلئے حکومت نے تیل کی قیمتوں کے نگران کمپنیوں سے پیسہ لیتے ہوئے تیل کمپنیو ںکو عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کی کھلی چھوٹ فراہم کر رکھی ہے ۔ اس کے علاوہ اس بات پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ حکومت نے اس مقصد کیلئے کوئی اڈانی ‘ امبانی ‘ بابا رام دیو کی کمپنیوں سے فنڈز اکٹھا نہیں کئے ہیں بلکہ بالواسطہ طور پر عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔مراٹھی روزنامہ کے حوالہ سے گشت کر رہی اس خبر پر عوام کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہاہے ۔

TOPPOPULARRECENT