Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / گجرات میں مظالم کیخلاف دلتوں کا احتجاجی مظاہرہ

گجرات میں مظالم کیخلاف دلتوں کا احتجاجی مظاہرہ

بی جے پی کے خلاف نعرہ بازی، متعدد دلت قائدین کو پولیس نے حراست میں لے لیا
احمد آباد۔4 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں دلتوں کے خلاف جرائم کے واردات پر برہم اس برادری کے جہد کاروں نے آج گاندھی نگر میں ریاستی سکریٹریٹ کے روبرو احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران پولیس نے چند مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ دلت ایجی ٹیشن کے قائد جگنیش میورنی کو احتجاج میں حصہ لینے میں روکنے کے لیے آج صبح کی اولین ساعتوں احمد آباد میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا گیا۔ راشٹریہ دلت ادھیکاری منچ کے کارکنوں کو گیاندھی نگر پولیس نے آج دوپہر سکریٹریٹ کامپلکس میں داخل ہونے سے قبل حراست میں لے لیا۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایچ ایم جدیجہ نے کہا کہ ’’ہم نے سچیوالیہ (سکریٹریٹ) کے باہر چھ دلت کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ جنہیں بعدازاں رہا کردیا جائے گا۔ زیر حراست دلت قائدین میں سبودہ پرمار، کوشک پرمار اور ڈکشٹ پرمار شامل ہیں۔ دلت جہد کاروں نے احتجاج اور حراست کے دوران بی جے پی کے خلاف نعرہ بازی کی اور مملکتی وزیر داخلہ پردیپ سنہا جدیجہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکمرانی میں دلتوں کے خلاف مظالم میں اصافہ ہوا ہے۔ میگھانی نگر پولیس اسٹیشن دنیش پناڈیہ نے کہا کہ میوانی کو شہر کے میگھانی نگر علاقہ میں واقع ان کے رہائش گاہ پر نظربند رکھا گیا تاکہ انہیں گاندھی نگر میں کئے جانے والے احتجاج میں شرکت سے روکا جاسکے۔ راشٹریہ دلت ادھیکاری منچ نے احتجاج کے آغاز سے قبل جاری کردہ بیان میں کہا کہ ان حالیہ واقعات پر غم و غصہ کے اظہار کے لیے یہ احتجاج منظم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ جن (واقعات) میں اعلی ذاتوں کے افراد نے دلتوں کو ہلاک یا زدوکوب کیا تھا۔ سبود پرمار نے کہا کہ بی جے پی کی حکمرانی میں دلت خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ گزشتہ روز ایک 17 سالہ دلت نوجوان دیگانت ماہیریہ کو لمبودرا گائوں میں نامعلوم افراد نے پیٹ پر ضرب لگایا۔ دیگانت کے رشتہ کے بھائی پیوش کو بڑی مونچھ رکھنے پر چند راجپوتوں نے 25 سمتبر کو زدوکوب کا نشانہ بنایا تھا۔ 29 ستمبر کو اسی گائوں میں چند راجپوتوں نے ایک دلت کرونال مہیریہ کو زدوکوب کا نشانہ بنایا تھا۔ یکم ستمبر کو ایک دلت شخص جئیش سولنکی کو ضلع آنند کے بھدراینا گائوں میں اعلی ذات کے چند افراد نے آیا رقص دیکھنے کے مسئلہ پر بحث کے بعد مارمار کر ہلاک کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT