Sunday , August 19 2018
Home / Top Stories / گجرات میں مودی کی ’’ٹافی ماڈل ترقی‘‘ کا پردہ فاش

گجرات میں مودی کی ’’ٹافی ماڈل ترقی‘‘ کا پردہ فاش

کسان گنج (بہار) 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج گجرات میں مودی کی ’’ٹافی ماڈل ترقی‘‘ کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہاکہ یہ عوامی رقم کی کھلی لوٹ مار ہے۔ گجرات کی ترقی کا نمونہ ٹافی ماڈل یا غبارہ ماڈل کہا جاسکتا ہے۔ ٹاٹا اور اڈانی جیسے لوگوں کے فائدہ کے لئے عوامی سرمایہ لوٹا جارہا ہے۔ اپنی 20 منٹ کی تقریر میں راہ

کسان گنج (بہار) 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج گجرات میں مودی کی ’’ٹافی ماڈل ترقی‘‘ کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہاکہ یہ عوامی رقم کی کھلی لوٹ مار ہے۔ گجرات کی ترقی کا نمونہ ٹافی ماڈل یا غبارہ ماڈل کہا جاسکتا ہے۔ ٹاٹا اور اڈانی جیسے لوگوں کے فائدہ کے لئے عوامی سرمایہ لوٹا جارہا ہے۔ اپنی 20 منٹ کی تقریر میں راہول گاندھی نے گجرات کی ترقی کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے کئی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ ملک گیر سطح پر اپنے نظریہ کی تشہیر کررہی ہے تاکہ مودی کو وزیراعظم بناسکے۔ ٹافی ماڈل ترقی کے الزام کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ کاشتکاروں کی ملکیت 45 ہزار ایکر اراضی ایک شخص کو (اڈانی کو) ایک روپیہ فی مربع میٹر کی شرح پر فروخت کردی گئی جو ایک ٹافی کی قیمت کے مساوی ہے۔ 3 ہزار کروڑ روپئے کی خطیر رقم مالیتی اراضی اِسی شخص کو 30 کروڑ روپئے میں فروخت کردی گئی۔ ٹاٹا موٹرس کو 0.1 فیصد سود پر 10 ہزار کروڑ روپئے کا قرض دیا گیا جبکہ عام آدمی کو بینک 12 فیصد شرح سود پر قرض دیتا ہے۔ حکومت گجرات کا تعلیمات، صحت اور دیگر فلاحی شعبوں کا جملہ بجٹ 10 ہزار کروڑ روپئے سے بھی کم ہے۔ راہول گاندھی نے کہاکہ گجرات کی اُس کے برعکس تصویر پیش کی جارہی ہے جبکہ ریاست میں 40 لاکھ افراد خط غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اُن کی آمدنی روزانہ 11 روپئے ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہندوستان کو اُلّو بنانا بند کرو، بہار میں بہار کا نمونہ چلے گا، اُنھوں نے کہاکہ گجرات کی ترقی میں مودی کے سوائے کسی کا بھی حصہ نہ ہونے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ اور وہ پورے ملک کے بارے میں بھی یہی دعویٰ آئندہ کرسکتے ہیں۔ بہار میں راہول گاندھی کی یہ دوسری تقریر تھی۔

اقلیت کی غالب آبادی والے علاقہ کسان گنج میں کانگریس امیدوار مولانا اسرار الحق کی تائید میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر کانگریس نے کہاکہ موجودہ پارلیمانی انتخابات 2 افراد نہیں بلکہ دو نظریات کے درمیان تصادم ہے۔ پہلا نظریہ کانگریس کا ہے جو ہر شخص کو چاہے وہ ہندو ہو یا مسلم نچلی ذات کا ہو یا اعلیٰ ذات کا، غریب ہو یا امیر، سب کو ترقی دینا چاہتی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو مقابلہ کے لئے کھڑا کرنا ہے۔ مہاراشٹرا میں اسی نے بہار کے عوام کو زدوکوب کرنے اور کرناٹک میں خواتین پر حملے کرنے کے لئے عوام کو اُکسایا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی برہمی اور غرور سے بھرپور ہے۔ جبکہ ہم اظہار خیال برہمی یا غرور کے زیراثر نہیں کررہے ہیں۔ کانگریس کا مستقبل کا پروگرام غریب عوام بشمول قلیوں، ڈرائیوروں، رکشہ رانوں، مسلمانوں، نوجوانوں اور دیگر افراد سے تبادلہ خیال ہے تاکہ غریبوں کے لئے صحت، رہائش گاہ اور عمر رسیدہ افراد کو آئندہ پانچ سال میں وظیفہ کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT