Wednesday , September 26 2018
Home / ہندوستان / گجرات میں نوجوانوں کیلئے حالات دگرگوں ، بیروزگاری بڑا مسئلہ

گجرات میں نوجوانوں کیلئے حالات دگرگوں ، بیروزگاری بڑا مسئلہ

مذہبی وابستگی سے قطع نظر تعلیمیافتہ اور دیگر نوجوانوں کو نوکریوں کی تلاش ۔ نوجوانوں کی رائے اہم
رادھن پور ؍ پٹن (گجرات ) ۔ 12 ڈسمبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ریاست کی شاہراہیں صاف اور پرسکون راہیں فراہم کررہی ہیں ، لیکن نوجوانوں کیلئے سفر کرنا طویل اور دقت طلب ہوگیا ہے کیونکہ ان میں سے بعض کو کم تنخواہ ملتی ہے، بعض تو بیروزگار ہیں اور بعض بہتر زندگی کے متلاشی ہیں۔ ان حالات میں یہ نوجوان چینی ساختہ سستے اسمارٹ فونس میں خود کو مشغول کرلیتے ہیںاور خیالی دنیا میں مگن رہتے ہوئے اپنے مسائل سے چند گھنٹوں کے لئے سہی چھٹکارہ پانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ اسمارٹ فونس پر ان نوجوانوں کی مصروفیت کبھی کبھی فون سے زور کی آواز سے یا ویڈیو کلپ کی آوازوں سے ظاہر ہوجاتی ہے اور یہ زیادہ تر بالی ووڈ کی فلمیں ، علاقائی البم یا کامیڈی ویڈیو کلپس ہوتے ہیں۔ پرنس پرمار ایک ایسی بس میں سوار ہوکر پٹن ٹاؤن سے ضلع کچھ کے گاندھی دھام ٹاؤن کو سفر کررہا ہے ۔ زمین سے عاری کسان کا 23 سالہ بیٹا گاندھی دھام کی ایک گارمنٹس کمپنی میں سوپر وائیزر کی حیثیت سے کام کرتا ہے جسے ماہانہ 10,000/- روپئے کی تنخواہ ملتی ہے ۔ پرمار جو دلت ہے ،اُس کا کہنا ہے کہ اگر وہ تین دن بھی اپنی ڈیوٹی سے ناغہ کرلے تو اُس کی نصف تنخواہ منہا کردی جاتی ہے ۔ وہ موجودہ حالات پر سخت برہم اور مایوسی کا شکار ہے ۔ جب ایک رپورٹر نے پرمار سے موجودہ گجرات کے حالات کے بارے میں پوچھا کہ تم ایسے ماحول میں کتنا کمالیتے ہو اور کیا پڑھائی کرتے ہو ۔ اُس نے جواب دیا کہ ان حالات میں زندگی گذارنے کیلئے دو وقت کی روٹی فراہم کرنا بڑا دقت طلب کام ہے ، اس کے بعد ہی پڑھائی یا زندگی کے دیگر مسئلہ کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے ۔ گجرات 14 ڈسمبر کو اسمبلی الیکشن کے دوسرے و آخری مرحلہ میں رائے دہی کی تیاری کررہا ہے ، اس مرحلے پر پرمار کی حالات سے مایوسی کئی سوال کھڑے کرتی ہے جو ریاست کے نوجوانوں کو پریشان کررہے ہیں اور اُن پارٹیوں کے لئے بھی ایک پیام ہے جو اقتدار کیلئے مسابقت کررہے ہیں ۔ شمالی گجرات میں تقریباً 550 کیلومیٹر کے سڑک راستے کا اچھا انتظام ہے لیکن گجراتی نوجوان ان سڑکوں سے سفر تو ضرور کرسکتے ہیں مگر اُن کے پاس مناسب مقصد نہیں ہے ۔ جب نوکریاں نہیں ہیں اور مصروفیت نہیں ہے تو وہ سفر کرکے کہاں جائیں ؟ رادھن پور کے جین بورڈنگ محلہ کے ساکن وسیم بھائی ، محبوب بھائی کی زندگی کے حالات بھی کچھ مختلف نہیں ہیں ۔ محبوب کا کہنا ہے کہ اُس نے اسکول کی تعلیم مکمل کی اور آئی ٹی آئی ( انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ) میں ووکیشنل ٹریننگ بھی حاصل کرلی ۔ تاہم 20 سالہ محبوب کو کوئی نوکری نہیں مل سکی اور وہ وقفہ وقفہ سے مختلف جاب کرنے پر مجبور ہے ۔ اسی طرح ایک اور نوجوان دیپک لاء ڈگری کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ اُس کے کسان والد کی یہی خواہش ہے۔ تاہم صرف ریزرویشن ہی اُس کے لئے سرکاری جاب کو یقینی بناسکتے ہیں اور اُس کا مستقبل درخشاں ہوسکتا ہے ۔ اُس کا کہنا ہے کہ اُن کی ذات ملک بھر میں تقریباً 1.5 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے اور اُنھیں حکومت گجرات نے پسماندہ طبقات میں شامل رکھا ہے لیکن ہمیں ریزرویشن چاہئے تاکہ ہمارے ساتھ امتیاز کا خاتمہ ہوسکے اور ہمیں حکومت میں مناسب نمائندگی بھی یقینی طورپر مل جائے ۔ اب دیکھنا ہے موجودہ ریاستی حالات میں نوجوان اپنے حق رائے دہی کا کس طرح استعمال کرتے ہیں ۔ 14 ڈسمبر کو دوسرے مرحلہ کی پولنگ کے ساتھ اسمبلی الیکشن مکمل ہوجائے گا اور دوشنبہ 18 ڈسمبر کو نتائج کا اعلان کردیا جائے گا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT