Monday , August 20 2018
Home / شہر کی خبریں / گجرات میں کامیابی کے بعد اب بی جے پی کی کرناٹک پر نظر

گجرات میں کامیابی کے بعد اب بی جے پی کی کرناٹک پر نظر

کانگریس کو شکست دینے کی منصوبہ بندی ، مجلس کے مقابلہ سے بی جے پی کو فائدہ ؟
حیدرآباد۔ 20 ڈسمبر(سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جنوبی ہند میں ہونے والے کرناٹک انتخابات کی جانب توجہ مبذول کرنی شروع کردی ہے اور کہا جارہا ہے کہ آئندہ تین ماہ کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی جانب سے ریاست کرناٹک میں مائیکرو لیول پر انتخابی مہم کے ساتھ بھاری پریورتن یاترائیں نکالی جائیں گی۔ ریاست کرناٹک کے انتخابات میں بی جے پی کانگریس کو شکست دینے کی حکمت عملی تیار کر چکی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہر حربہ اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی صرف کرناٹک ہی نہیں بلکہ کرناٹک کے ذریعہ جنوبی ہند میں اپنے داخلہ اور استحکام کو یقینی بنانے کی پالیسی تیار کر رہی ہے اور کہا جارہاہے کہ بی جے پی کی جانب سے اختیار کی جانے والی اس حکمت عملی کے پیش نظر 2019 کے عام انتخابات ہیں جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس بات کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے کہ شمالی ہند کی ریاستوں میں عام انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کو 2014کی طرح کامیابی کے حصول کے آثار نہیں ہیں کیونکہ حکومت نے جن وعدوں کی بنیاد پر اقتدار حاصل کیا تھا ان عودوں کو پورا نہیں کیا گیا بلکہ ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان سے سیکولر طبقات میں حکومت کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے جبکہ بعض سیکولر گوشوں نے 2014کے دوران ’’وکاس‘‘ اور ترقی کے نام پر بی جے پی کو ووٹ دیا تھا لیکن گذشتہ تین برسوں کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے اپنے عمل کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ ملک میں فرقہ پرستی کا خاتمہ اور سب کا ساتھ سب کا وکاس صرف انتخابی جملے تھے ۔ گجرات انتخابات کے دوران ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے کرناٹک میں جاری انتخابی صورتحال کاجائزہ لینا شروع کردیا تھا اور گجرات کی انتخابی مہم سے قبل ہی بی جے پی نے کرناٹک میں انتخابی مہم ’’ پریورتن ریالی‘‘ کے نام پر شروع کردی تھی جس کے نتیجہ میں کرناٹک کا انتخابی ماحول گرما چکا ہے اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی کرناٹک میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کرچکی ہیں۔ اب جبکہ گجرات انتخابات کے نتائج منظر عام پر آچکے ہیں ان نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا 2014میں جو موقف شمالی ہند کی ریاستوں میں رہا وہ موقف برقرار رہنے کے امکانات بہت کم رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے شمالی ہند کی ریاستو ںمیں محنت میں شدت لانے سے بہتر جنوبی ہند کی ریاستو ںمیں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرناٹک انتخابات میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان کوئی راست مقابلہ نہیں ہے کیونکہ ریاست کرناٹک میں جنتادل (سیکولر) بھی کافی مستحکم موقف کی حامل سیاسی جماعت ہے اور اس کے علاوہ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا جا چکا ہے لیکن ریاست کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست سے دو چار کرنے کے لئے مسلم ووٹ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اگر ان مسلم و سیکولر ووٹوں کی تقسیم ہوتی ہے تو ایسی صورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کرناٹک میں فائدہ حاصل ہوگا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کا کہناہے کہ بی جے پی کیلئے ریاست کرناٹک میں اقتدار کا حصول اس لئے ضروری ہے کیونکہ بی جے پی 2019 عام انتخابات میں جنوبی ہند کی ریاستوں تلنگانہ ‘ آندھراپردیش ‘ کرناٹک‘ کیرالا‘ تمل ناڈو سے 50 لوک سبھا کی نشستوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کئے ہوئے ہے اورآئندہ عام انتخابات کے دوران جنوبی ہند کی ریاستوں کو انتخابات میں کافی اہمیت حاصل رہے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کرناٹک انتخابات میں کامیابی کے حصول کیلئے اتر پردیش کے طرز کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے اور کہا جا رہاہے کہ فرقہ وارانہ خطوط پر ووٹوں کی تقسیم کے علاوہ ذات پات کی بنیاد پر ووٹوں کی تقسیم کیلئے امیدواروں کے انتخاب کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ریاست کرناٹک میں ووٹوں کی تقسیم کو یقینی بنانے اور سیکولر جماعتوں کو کامیابی سے روکنے کیلئے فرقہ وارانہ زہر افشانی کو ممکن بنایا جا رہا ہے اور حیدرآباد کے ایک رکن اسمبلی کی حالیہ عرصہ کے دوران کرناٹک میں کی گئی زہر افشانی پر کرناٹک پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا اس طرح کی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ریاست کرناٹک کے انتخابات بھارتیہ جنتا پارٹی کن بنیادوں پر لڑنے کی کوشش کر رہی ہے ۔2019 عام انتخابات کے دوران جنوبی ہندستان سے کم از کم 50 لوک سبھا نشستوں کا نشانہ مقرر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اخلاقی طور پر شمالی ہند کی ریاستوں میں اپنی شکست تسلیم کرلی ہے اور گجرات انتخابات کے بعد بی جے پی کے حوصلوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے لیکن سیکولر ووٹ اور مسلم ووٹوں کو تقسیم سے بچایا جائے تو کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکست کو مممکن بنایا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT