Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / گجرات میں کشیدگی برقرار، مزید علاقوں میں فوج متعین

گجرات میں کشیدگی برقرار، مزید علاقوں میں فوج متعین

AHMEDABAD, AUG 27 -- A convoy of Indian army soldiers patrols a road in Ahmedabad, India, August 27, 2015. The Indian army patrolled riot-hit areas of Prime Minister Narendra Modi's home state of Gujarat on Thursday after the death toll rose to seven in two days of caste-related violence. REUTERS/UNI PHOTO - 16R

کئی شہروں میں کرفیو جاری ، مہلوکین کی تعداد 10 ہوگئی،35 لاکھ معاوضہ کا ہاردک پٹیل کا مطالبہ

٭   پولیس کارروائی کی تحقیقات اور مہلوکین کے
دوبارہ پوسٹ مارٹم کے عدالتی احکام
٭  پٹیل برادری کیلئے خصوصی کوٹہ ، کانگریس کا مطالبہ
احمدآباد۔ 27 اگست (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں کشیدگی کا ماحول برقرار ہے جبکہ منگل کو شروع ہوئی جھڑپوں میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر آج 10 تک پہنچ گئی اور تشدد پر قابو پانے کیلئے مزید شہروں میں آرمی کو تعینات کردیا گیا ہے۔ 25 اگست کو پٹیل کمیونٹی کی جانب سے کوٹہ ایجی ٹیشن کے دوران منعقدہ زبردست ریالی میں پولیس لاٹھی چارج کے نتیجہ میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ پولیس کنٹرول روم کے عہدیداروں نے کہا کہ کل رات سے ریاست میں چند مقامات پر پتھراؤ کے واقعات کے سواء کسی بڑے تشدد کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ چوک بازار پولیس اسٹیشن کا کانسٹبل دلیپ راتھوڑ جو دابھولی علاقہ میں احتجاجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہوا تھا، ایک خانگی ہسپتال میں جانبر نہ ہوسکا، جس سے تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 9 ہوگئی۔ کرفیو احمدآباد، سورت، راجکوٹ، مہسانا، پالن پور، اُنجھا، وِش نگر اور جام نگر ٹاؤنس میں بدستور جاری ہے، تاہم اسے پٹن سے برخاست کردیا گیا ہے۔ احمدآباد میں کل رات 75 پرسونل فی کس کے پانچ آرمی یونٹس تعینات کئے گئے جبکہ سورت، مہسانا اور راجکوٹ میں دو دو پلاٹونس متعین کردیئے گئے ہیں، فوجی عہدیداروں نے آج یہ بات بتائی۔ گزشتہ روز احمدآباد کے پانچ علاقوں میں فوج نے فلیگ مارچ منعقد کیا تھا۔ ٹرین خدمات متاثر ہوئی ہیں کیونکہ کم از کم آٹھ مقامات پر احتجاجیوں نے ٹریکس کو نقصان پہونچایا ہے۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے کہا کہ 12 ٹرینیں منسوخ کردی گئیں اور 19 کو جزوی طور پر منسوخ کیا گیا۔

گجرات میں او بی سی کوٹہ کیلئے پٹیل ایجی ٹیشن کے لیڈر ہاردک پٹیل نے آج مطالبہ کیا کہ ان کی کمیونٹی ارکان کے جو لوگ بھی ریاست میں وسیع تر تشدد میں ہلاک ہوئے، ان کے رشتہ داروں کو 35 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کیا جائے۔ ریاست میں ایجی ٹیشن میں شدت پیدا کرنے کی کوشش میں ہاردک نے اپنی برادری کے کسانوں سے اپیل بھی کی کہ ضروری اشیاء کی سربراہی نہ کریں جیسے ترکاریاں اور دودھ اس طرح شہروں کو سپلائی موقوف ہوجانے پر او بی سی کوٹہ کے تحت ریزرویشن کے ان کے مطالبہ کی تائید ہوگی۔ ہاردک نے ریاستی حکومت سے اپنے مطالبہ کے بارے میں سوال کا میڈیا کے نمائندوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ان پولیس والوں کو معطل کیا جائے جو ہمارے عوام پر مظالم میں ملوث ہوئے اور اس تحریک میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو 35 لاکھ روپئے کا معاوضہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں میرے کسان بھائیوں سے اپیل کروں گا کہ شہروں میں ترکاریاں اور دودھ جیسی ضروری اشیاء سربراہ نہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے او بی سی کوٹہ کے مطالبہ کو قبول کئے جانے تک اپنی تحریک میں شدت پیدا کرتے رہیں گے۔ ہاردک نے کہا کہ ہم امن سے رہتے ہیں لیکن اگر پولیس ہم پر حملہ کرے تو ہم انہیں نہیں بخشیں گے۔ جب پوچھا گیا کہ گجرات میں اس تشدد کے لئے کون ذمہ دار ہے، 22 سالہ پٹیل کمیونٹی لیڈر نے ساری ذمہ داری، ریاستی حکومت اور بعض غیرسماجی عناصر پر ڈال دی۔ ہاردک نے الزام عائد کیا کہ یہ ایجی ٹیشن 55 روز سے پرامن طور پر چل رہا تھا لیکن جب پٹیل برادری کے 20 لاکھ افراد جی ایم ڈی سی گراؤنڈ پر جمع ہوگئے تو ریاستی حکومت نے اس روز تشدد بھڑکا دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم اخبارات کی شہ سرخیوں میں جگہ پائیں۔ احمدآباد کی ایک مقامی عدالت نے پٹیل برادری کے جلوس کے خلاف پولیس کارروائی کی تحقیقات اور گجرات ہائیکورٹ نے مہلوکین کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کے احکام جاری کئے۔دریں اثناء نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب کانگریس نے پٹیل برادری کو موجودہ او بی سی تحفظات میں دخل دیئے بغیر خصوصی پیاکیج دینے کا مطالبہ کیا۔ گورنر گجرات سے ایک وفد نے ملاقات کرکے ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT