Thursday , December 13 2018

گجرات نتائج ‘ بی جے پی کیلئے اپنے مشن 150 میں ناکام

پارٹی کیلئے جشن منانے کی کوئی وجہ نہیں۔ سی پی ایم کا ۔ پارٹی اقتدار کو چیلنج کا آغاز ‘ سی پی آئی

نئی دہلی 18 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم نے آج کہا کہ گجرات کے عوام میں بی جے پی کے خلاف ناراضگی تھی اور اگر کوئی قابل بھروسہ اپوزیشن ہوتی تو اس سے موثر انداز میں فائدہ حاصل کیا جاسکتا تھا ۔ سی پی آئی نے تاہم کہا کہ زعفرانی پارٹی کے اقتدار کو اب چیلنج کیا جانے لگا ہے ۔ اپنے ایک بیان میں سی پی ایم نے بی جے پی پر تنقید کی اور کہا کہ گجرات کے موجودہ نتائج میں پارٹی کیلئے جشن منانے جیسی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ سابق انتخابات میں اسے 115 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی اور اب اس کی تعداد میں کمی آئی ہے ۔ سی پی ایم نے کہا کہ بی جے پی صدر امیت شاہ نے اس بار بی جے پی کیلئے مشن 150 کا اعلان کیا تھا اور اس کی تعداد اس نشانہ سے بہت کم رہ گئی ہے ۔ پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ گجرات کے عوام میں بی جے پی کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ اگر ایک قابل بھروسہ اپوزیشن ہوتی اور کوئی متبادل پروگرام ہوتا تو اس سے بہتر انداز میں فائدہ حاصل کیا جاسکتا تھا ۔ سی پی ایم کا کہنا تھا کہ حالانکہ بی ج پی کو گجرات میں حکومت تشکیل دینے اقتدار حاصل ہوگیا ہے لیکن اس نے گذشتہ دو دہوں میں سب سے کم تعداد میں نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ پارٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کے پاس جشن منانے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ حالانکہ اسے حکومت قائم کرنے اکثریت مل گئی ہے لیکن اس کی نشستوں کی تعداد گذشتہ دو دہوں میں سب سے کم ہوگئی ہے ۔ اسے گذشتہ انتخابات میں 115 نشستوں پر کامیابی ملی تھی اور اس بار صرف 99 پر اکتفا کرنا پڑا ہے ۔ اسے اپنے مشن 150 سے بھی کافی کم تعداد میں نشستیں ملی ہیں۔ سی پی ایم نے واضح کیا کہ گجرات میں بی جے پی کی تائید میں کمی کا اس حقیقت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں جو کامیابی حاصل کی تھی وہ در اصل 165 اسمبلی حلقوں پر محیط تھی جبکہ اب اس کے پاس صرف 99 نشستیں ہیں۔ ہماچل پردیش کے تعلق سے سی پی ایم نے کہا کہ ریاست کے عوام نے کرپشن اور ویر بھدرا سنگھ حکومت کی غلط حکمرانی کے خلاف اپنی رائے دہی ہے ۔ قبل ازیں اس فیصلے کے تعقل سے سی پی آئی کے رکن راجیہ سبھا ایس راجا نے کہا تھا کہ گجرات میں اب بی جے پی کے اقتدار کو چیلنج کیا جانے لگا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بی جے پی ریاست میں کئی مفروضے قائم کرنے میں کامیاب ہوا کرتی تھی اور لوگ اس پر یقین بھی رکھتے تھے لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے اور لوگ اس کے اقتدار کو چیلنج کرنے لگے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT