Saturday , August 18 2018
Home / ہندوستان / گجرات نتائج کا کرناٹک پر اثر نہیں ہوگا ۔ دونوں ریاستوں کے مسائل الگ

گجرات نتائج کا کرناٹک پر اثر نہیں ہوگا ۔ دونوں ریاستوں کے مسائل الگ

کانگریس کی کارکردگی میں بہتری۔ عوام نے راہول گاندھی کی قیادت کو پسند کیا ۔ چیف منسٹر سدا رامیا کا رد عمل
بنگلورو 18 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا نے آج کہا کہ گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج کا ریاست میں اسمبلی انتخابات پر کوئی اثر نہیں ہوگا جو آئندہ سال کے اوائل میں ہونے والے ہیں۔ یادگیر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ایک ریاست کے انتخابی نتائج کا دوسری ریاست کے انتخابات پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ ہر ریاست میں مسائل مختلف ہوتے ہیں۔ گجرات میں نتائج چاہے جو کچھ بھی رہیں ان کا کرناٹک پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ کانگریس لیڈر نے یہ ادعا بھی کیا کہ ریاست میں پارٹی کی کامیابی کو یقینی بناتے ہوئے کرناٹک کی جانب سے کانگریس کے نو نامزد صدر راہول گاندھی کو پہلا تحفہ دیا جائیگا ۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ ان کی حکومت کے خلاف ریاست میں کوئی مخالف حکومت لہر نہیں ہے سدارامیا نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو کانگریس کو ننجن گڈ اور گنڈلو پیٹ ضمنی انتخابات میں مشکل پیش آتی ۔ ان دونوں حلقوں میں پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ 2018 میں ہم یقینی طور پر اقتدار پر برقرار رہیں گے ۔ کانگریس پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ 2018 کے انتخابات میں سدارامیا پارٹی کے وزارت اعلی امیدوار ہونگے ۔ گجرات میں بی جے پی کی کارکردگی پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخالف حکومت لہر اور شدت کی انتخابی مہم کے باوجود جو نتائج آئے ہیں وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے تعلق سے ظاہر کئے جانے والے شبہات کو تقویت بخشتے ہیں۔ ان اندیشوں کا اظہار کرتے ہوئے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے سدارامیا نے حال ہی میں مطالبہ کیا تھا کہ ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات بیالٹ پیپر پر کروائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش میں کانگریس کے خلاف مخالف حکومت لہر تھی جبکہ گجرات میں وزیر اعظم نریندرمودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ نے ان انتخابات کو وقار کا مسئلہ بنالیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور امیت شاہ کی جانب سے گجرات کے وقار کا کارڈ کھیلا گیا تھا جو بی جے پی کے حق میں کارکرد رہا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے اپنے گجرات سے تعلق کی دہائی دی تھی اور شائد یہی وجہ ہے کہ یہ نعرہ پارٹی کے حق میں کارکرد ہوا ہو ۔انہوں نے واضح کیا کہ نتائج جو سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کانگریس کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے ۔ انہوں نے اس کیلئے کانگریس صدر راہول گاندھی کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ گجرات میں ہم نے شکست کے باوجود کامیابی حاصل کی ہے ۔ عوام نے راہول گاندھی کی قیادت کی تائید کی ہے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ مودی اور امیت شاہ کا گجرات سے تعلق ہے اور گجرات اور مرکز میں بی جے پی ہی کا اقتدار ہے اور ان حقائق سے بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی رائے دہندوں کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے میں یقین رکھتی ہے ۔ پارٹی کی جانب سے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلاتے ہوئے کرناٹک میں بھی ایسا کیا جا رہا ہے جس کا مقصد رائے دہندوں کو منقسم کرنا ہے لیکن ریاست میں ایسا نہیں ہوگا ۔ بی جے پی نے گجرات میں مسلسل چھٹی مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے اور اس نے ہماچل پردیش میں بھی کانگریس سے اقتدار چھین لیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT