Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / گجرات وکرناٹک انتخابات سے قبل بی جے پی قیادت میں بوکھلاہٹ

گجرات وکرناٹک انتخابات سے قبل بی جے پی قیادت میں بوکھلاہٹ

اُترپردیش میں کام آئے وفادار دوستوں ‘کو پھر استعمال کرنے مودی اور شاہ جوڑی کا منصوبہ
حیدرآباد۔23اکٹوبر(سیاست نیوز) بی جے پی کو ہماچل پردیش سے زیادہ گجرات اور کرناٹک کی فکر لاحق ہے اور دونوں ریاستو ںمیں بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ گجرات میں وزیر اعظم خود انتخابات سے قبل کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور پارٹی صدر امیت شاہ کرناٹک میں ’پریورتن یاترا‘ میں مصروف ہیںجس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست کرناٹک اور گجرات میں اپنی ساکھ بچانے کیلئے کوشش کررہی ہے اور ان دو ریاستوں میں اقتدار کے حصو ل کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ۔ ہماچل پردیش جہاں الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول جاری کردیا ہے لیکن اس ریاست سے زیادہ گجرات اور کرناٹک پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی توجہ سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ بی جے پی کو بھی اس بات کا احساس ہو چلا ہے کہ پارٹی کو عوام کی شدید ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔بی جے پی اعلی قیادت کی جانب سے گجرات میں ہونے والے نقصانات کی پابجائی ناگزیر ہوگی اور ان ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کا گہرا اثر ملک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات پر بھی پڑے گا۔ گجرات میں جہاں بی جے پی کو 26لوک سبھا نشستوں میں تمام پر کامیابی حاصل ہوئی تھی اسی گجرات میں بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ گجرات میں ہونے والے امکانی نقصان سے نمٹنے کیلئے شاہ کی حکمت عملی یہ ہے کہ کرناٹک میں نقصانات کو کم کرنے کے اقدامات کئے جائیں جبکہ کانگریس تینوں ریاستوں گجرات ‘ کرناٹک اور ہماچل پردیش پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور گجرات اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو حاصل ہو نے والی پٹیل پاٹی دار تحریک کی تائید سے بھی کانگریس کو گجرات میں استحکام مل رہا ہے۔ گجرات میں موجود تجارتی برادری کرنسی تنسیخ اور جی ایس ٹی کے منفی نتائج سے پریشان ہے اور تجارتی برادری میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف لہر پائی جاتی ہے لیکن بی جے پی گجرات میں بھی اترپردیش اور بہار کے حالات کو دہرانے کی کوشش کر رہی ہے اور گجرات میں امیت شاہ نے اپنے نئے ایجنٹوں کو متعارف کروانے کی حکمت عملی تیار کی ہے کیونکہ بہار اور اترپردیش میں جن لوگوں کا استعمال کیا گیا تھا انہیں کچھ وقت کیلئے آرام کا مشورہ دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ ریاستی حکومت کے ساتھ تال میل کو بہتر بنائیں تاکہ آئندہ عام انتخابات سے قبل ماحول سازی میں ان کی مدد لی جا سکے۔ علاوہ ازیں جن لوگوں کو اترپردیش اور بہار میں استعمال کیا گیا انہیں اس لئے بھی گجرات میں استعمال کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ عرصہ میں خود بھارتیہ جنتا پارٹی پر یہ الزامات لگائے جانے لگے ہیں کہ وہ انتخابات کو فرقہ وارانہ خطوط پر منقسم کرنے کیلئے ایسی سیاسی جماعتوں کا استعمال کر رہی ہے جن کے بی جے پی کو گالی دینے کا فائدہ بی جے پی کو ہی ہوتا ہے۔ امیت شاہ کرناٹک میں جو ماحول تیار کر نے کی کوشش کر رہے ہیں اس میں انہیں ناکامی حاصل ہو نے کی صورت میں اترپردیش میں جن لوگوں کا استعمال کیا گیا تھا ان لوگوں کو کرناٹک کے انتخابی میدان میں اتارنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے اورکہا جا رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کسی بھی صورت میں کرناٹک اسمبلی پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ہے کیونکہ کرناٹک اسمبلی میں بی جے پی کے اقتدار کی صورت میں جنوبی ہند کی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے ۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اترپردیش میں جن لوگوں کو انتخابی میدان میں اتارا گیا تھا ان لوگوں کی خدمات گجرات انتخابات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لئے بھی حاصل کرنے کا منصوبہ ہے لیکن اس منصوبہ میں صرف اسی صورت میں عمل آوری کی جا ئے گی جب کوئی چال کامیاب نہیں ہوگی لیکن کرناٹک میں موجود ریاست حیدرآباد دکن کے علاقو ںمیں تو اس سیاسی جماعت کے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے سلسلہ میں سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جا رہا ہے اور اسی مقصد کے تحت بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک میں انتخابات کے اعلان سے قبل ہی متحرک ہو چکی ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT