Sunday , May 27 2018
Home / کھیل کی خبریں / گجرات و ہماچل میں کامیابی ‘ ترقی اور مودی پر یقین کی مظہر : بی جے پی

گجرات و ہماچل میں کامیابی ‘ ترقی اور مودی پر یقین کی مظہر : بی جے پی

نشستوں کی تعداد میں کمی کے باوجود ’ جو جیتا وہی سکندر ‘ مختار نقوی ۔ راہول کے قیادت میں کانگریس کا سفر بہترین رہا ۔ پارٹی قائدین کا رد عمل

نئی دہلی 18 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) گجرات اور ہماچل پردیش میں پارٹی کی کامیابیوں پر پارٹی کے قائدین نے اسے ترقی کیلئے ووٹ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میںیقین کا نتیجہ قرار دیا ہے ۔ پارٹی میں کامیابی کے موڈ کو دیکھتے ہوئے نریندر مودی نے آج پارلیمنٹ میں آمد کے موقع پر کامیابی کا نشانہ بتایا ۔ حالانکہ کانگریس کی جانب سے گجرات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ ہوا ہے تاہم بی جے پی نے اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے 1992 کی فلم ’’ جو جیتا وہی سکندر ‘‘ کا نعرہ دیا ہے ۔ اس بار بی جے پی کی نشستوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے ۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے نتائج پر اظہار خیال کرتے ہوئے کاہ کہ ’’ جو جیتا وہی سکندر ‘‘ ۔ مرکزی وزیر سمرتی ایرانی نے بھی ان کی حمایت کی اور کہا کہ کامیابی کا سہرا بوتھ لیول کے پارٹی ورکرس کے سر جاتا ہے اور جن لوگوں نے پارٹی کو ووٹ دیا ہے در اصل انہوں نے بہتر حکمرانی اور ترقی کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا کانگریس نے گجرات میں سخت مقابلہ کیا ہے سمرتی ایرانی نے کہا کہ ان کا بھی یہی ماننا ہے کہ ’’ جو جیتا وہی سکندر ‘‘ ۔ دوسرے مرکزی وزرا بشمول راج ناتھ سنگھ اور پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ نتائج سے مودی کی قیادت کا اثر چھلکتا ہے ۔ پارٹی کے ایک اور لیڈر ساکشی مہاراج نے اس نتیجہ کو وزیر اعظم کا جادو قرار دیا ۔ مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے ان نتائج کو کانگریس کے نئے صدر راہول گاندھی کی پہلی شکست قرار دیا اور واضح کیا کہ گاندھی کا رائے دہندوں پر جادو نہ چل سکا ۔ ایک اور مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ ترقی اور وزیر اعظم مودی پر یقین کا ووٹ ہے ۔ اس وسال پر کہ آیا انتخابی نتائج مودی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت سمجھے جاسکتے ہیں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یقینا ایسا ہی ہے ۔ یہ حکومت کی تائید ہے ۔ پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ آج کی سیاست میں ترقی کو ہی اہمیت حاصل ہے اور عوام مودی کے ساتھ ہیں۔ مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتارامن نے ان نتائج پر کہا کہ گجرات کے عوام نے ترقی کیلئے ووٹ دیا اور کانگریس کی ذات پات کی سیاست کو مسترد کردیا ہے ۔ ساکشی مہاراج نے کہا کہ راہول گاندھی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ رہی کہ وہ گجرات کے مندروں کا دورہ کر رہے تھے اس کے باوجود ناکام رہے ۔ اس دوران کانگریس قائدین نے کہا کہ پارٹی نے گجرات میں اپنی کارکردگی میں بہتری پیدا کی ہے اور یہ راہول گاندھی کی موثرقیادت کا نتیجہ ہے ۔ سینئر کمل ناتھ نے کہا کہ گجرات حالانکہ بی جے پی کا گڑھ تھا اس کے باوجود کانگریس نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے ۔ ششی تھرور نے کہا کہ گجرات میں کانگریس کا سفر اچھا رہا ہے جبکہ رینوکا چودھری نے بہترین مظاہرہ پر راہول گاندھی کی ستائش کی ۔ سینئر لیڈر کمل ناتھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر الیکشن کا اپنا الگ پیام ہوتا ہے ۔ گجرات بی جے پی کا گڑھ تھا ۔ یہ وزیر اعظم کی آبائی ریاست ہے ۔ کانگریس کی نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ بی جے پی کی تعداد میں کمی آئی ہے ۔ یہ راہول گاندھی کی سیاسی کہانی کا آغاز ہے ۔ رینوکا چودھری نے بھی ان کے خیال کی حمایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے بہترین کراکردگی دکھائی ہے ۔ ہماری طاقت میں اضافی ہوا ہے ۔ یہ اخلاقی طور پر راہول گاندھی کی کامیابی ہے ۔ ششی تھرور نے کہا کہ حالانکہ ہم اپنی منزل پر نہیں پہونچے ہیں لیکن کانگریس کیلئے یہ سفر بہتر رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT