Wednesday , December 19 2018

گجرات و ہماچل پردیش میں آج ووٹوں کی گنتی ‘ سخت سکیوریٹی انتظامات

گجرات کے نتائج پر ملک بھر کی نظریں۔ نریندر مودی کیلئے وقار کا مسئلہ اور راہول گاندھی کی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان ۔ ہماچل میں تبدیلی اقتدار کی روایت

احمد آباد / شملہ 17 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں کل پیر 18 ڈسمبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی جبکہ ساری نظریں گجرات کے نتائج پر ٹکی ہوئی ہیں۔ ان انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کیلئے وقار کا مسئلہ اور کانگریس کے نئے صدر راہول گاندھی کی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان قرار دیا جا رہا تھا ۔ گجرات میں بی جے پی مسلسل چھٹی مرتبہ اقتدار کی برقراری کیلئے جوشاں ہیں جبکہ کانگریس پارٹی دو دہوں سے زیادہ عرصہ تک اپوزیشن میں رہنے کے بعد اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج کا 2019 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج پر بھی اثر ہوسکتا ہے کیونکہ 2014 میں بھی مودی ترقی کے گجرات ماڈل کے نعرہ پر مرکز میں اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ ریاست کے 33 اضلاع میں 37 مراکز پر سخت سکیوریٹی میں کل ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوگا اور دوپہر کے بعد تک نتائج سامنے آجانے کی امید ہے ۔ رائے دہی سے قبل انتخابی مہم انتہائی شدت کے ساتھ چلائی گئی تھی اور کانگریس پارٹی اور بی جے پی دونوں ہی نے ایک دوسرے پر شدید حملے کئے تھے ۔ نریندر مودی نے بی جے پی کی انتخابی مہم کی قیادت کی جبکہ راہول گاندھی کانگریس کی مہم کے روح رواں رہے ۔ انتخابی مہم کے دوران نریندرمودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ نے رام مندر ‘ گجرات انتخابات میں پاکستان کی مداخلت اور معطل شدہ کانگریس لیڈر منی شنکر ائر کے ریمارکس جیسے مسائل پر کانگریس کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا ۔ کانگریس صدر راہول گاندھی نے دوسری طرف مودی اور بی جے پی کو گجرات کے مستقبل کی بات نہ کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ پارٹی نے ریاست کے عوام کو درپیش کئی اہم مسائل کو نظر انداز کردیا ہے ۔ کانگریس نے اہم پاٹیدار ‘ او بی سی اور دلت قائدین ہاردک پٹیل ‘ الپیش ٹھاکر اور جگنیش میوانی جیسے قائدین کے ساتھ مل کر ایک وسیع سماجی اتحاد بنانے کی بھی کوشش کی تاکہ بی جے پی کے دو دہوں سے زیادہ عرصہ پر محیط اقتدار کو ختم کیا جاسکے ۔ ہاردک پٹیل نے اپنی پٹیل برادری کو تحفظات کے مطالب پر طویل احتجاج کیا تھا جبکہ الپیش ٹھاکر نے پاٹیداروں کو او بی سی تحفظات کی فہرست میں شامل کرنے کے جواب میں احتجاج شروع کیا تھا ۔

دلتوں پر مظالم کے خلاف جگنیش میوانی نے آواز اٹھائی تھی ۔ گجرات میں بااثر پٹیل برادری 12 فیصد حصہ رکھتی ہے اور وہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ ہاردک پٹیل نے بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنے کانگریس کی تائید کی تھی ۔ مہم کے دوران ترقی کا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا تھا اور ذات پات و مذہبی مسائل کو اہمیت دی گئی تھی ۔ اقتدار کی دعویدار دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو سوشیل میڈیا پر نیچا دکھانے کی جدوجہد کی تھی ۔ کانگریس نے جہاں ’ وکاس پاگل ہوگیا ‘ کے نعرہ پر مہم چلائی وہیں بی جے پی نے ’ میں ترقی ہوں۔ میں گجرات ہوں ‘ کے نعرہ سے جواب دیا تھا ۔ دوسرے مرحلے میں گجرات میں 68.41 فیصد پولنگ ہوئی تھی ۔ علاوہ ازیں ہماچل پردیش میں بھی کل ووٹوں کی گنتی ہوگی جہاں چیف منسٹر ویربھدرا سنگھ اور انکے پیشرو پریم کمار دھومل سمیت 337 امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ ہوگا ۔ ریاست میں 75.28 فیصد پولنگ ہوئی تھی اور تجزیہ نگار یہاں بی جے پی اقتدار کی پیش قیاسی کر رہے ہیں۔ گنتی کیلئے سخت سکیوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ 68 نشستوں کیلئے 42 مراکز پر ووٹوں کی گنتی ہوگی ۔ بی جے پی نے انتخابی مہم میں کرپشن کے مسئلہ کو موضوع بنایا تھا جبکہ کانگریس نے بی جے پی پر جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے فیصلوں پر تنقید کی تھی ۔ بی ایس پی نے 42 نشستوں سے سی پی ایم نے 14 حلقوں سے اور سوابھیمان پارٹی نے چھ حلقوں سے مقابلہ کیا تھا ۔ موجودہ 67 ارکان اسمبلی میں 60 ارکان اسمبلی نو کابینی وزرا ‘ ہماچل پردیش کانگریس صدر سکھویندر سنگھ سکو ‘ ریاستی بی جے پی کے صدر ستپال سنگھ ستی ‘ ڈپٹی اسپیکر جگت سنگھ نیگی اور آٹھ چیف پارلیمانی سکریٹریز نے اس بار انتخابات میں مقابلہ کیا ہے ۔ ہماچل میں ہر انتخاب میں تبدیلی کی روایت رہی ہے اور اس بار بی جے پی ایگزٹ پولس نتائج کو دیکھتے ہوئے اقتدار کی امید رکھتی ہے ۔ جہاں بی جے پی کو کامیابی کی امید ہے وہیں کانگریس نے ایگزٹ پولس کو مسترد کردیا اور اس کا دعوی ہے کہ وہ ریاست میں اقتدار کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT