Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / گجرات پولیس ٹیم پر حملہ کیس: تین کو دو سال کی سزائے قید

گجرات پولیس ٹیم پر حملہ کیس: تین کو دو سال کی سزائے قید

عدالتی فیصلہ انصاف کے مغائر، ہائی کورٹ سے رجوع ہونے مولانا نصیرالدین کا اعلان

عدالتی فیصلہ انصاف کے مغائر، ہائی کورٹ سے رجوع ہونے مولانا نصیرالدین کا اعلان
حیدرآباد۔28۔اکتوبر (سیاست نیوز) نامپلی کریمنل کورٹ کے 8 ویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج نے آج گجرات پولیس کی ٹیم پر حملہ کیس کے ملوث مولانا محمد نصیرالدین کے دو فرزندان مقیم الدین یاسر اور بلیغ الدین جابر کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے انہیں دو سال کی سزا سنائی۔ اس کیس میں سعید آباد کے محمد شفیق کو بھی قصوروار ٹھہرایا گیا جبکہ سمی کے سابق رکن معتصم باللہ اور محمد شکیل کو عدالت نے بری کردیا۔ بعد ازاں سزا یافتہ ملزمین کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ 10 سال کے طویل عرصہ کے بعد عدالت نے مسلم نوجوانوں کے خلاف درج کئے گئے اقدام قتل کیس میں اپنا فیصلہ سنایا۔ 30 نومبر سال 2004 ء میں مولانا نصیرالدین کو گجرات کی ڈیٹیکشن کرائم برانچ پولیس انہیں ایک کیس میں گجرات منتقل کرنے کی کوشش کر رہی تھی ، جس کا مسلم نوجوانوں نے احتجاج کیا تھا اور گجرات پولیس کی گاڑی کو روک دیا تھا۔ اس واقعہ میں گجرات پولیس نے مولانا عبدالعلیم اصلاحی کے فرزند مجاہد سلیم اعظمی کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا اور مولانا نصیرالدین کو گجرات منتقل کردیا گیا تھا۔ دفتر ڈائرکٹر جنرل آف پولیس واقع لکڑی پل کے روبرو کئے گئے احتجاج کے خلاف سیف آباد پولیس نے ایک مقدمہ کرائم نمبر 882/2004 درج کیا تھا اور اس کیس میں اقدام قتل اور دیگر سنگین دفعات لگائے گئے تھے جبکہ گجرات پولیس کی ٹیم جس کی قیادت ڈی ایس پی نریندر کمار امین کر رہا تھا کہ خلاف بھی ایک قتل کا مقدمہ جس کا کرائم نمبر 883/2004 ء ہے ، درج کیا تھا لیکن اس کیس میں کارروائی کرنے سے پولیس قاصر رہی۔ دونوں مقدمات کو اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کے حوالہ کردیا گیا تھا اور پولیس نے اقدام قتل کیس میں مقیم الدین یاسر ، بلیغ الدین جابر ، محمد شفیق، معتصم باللہ اور محمد شکیل کو گرفتار کر کے سال 2010 ء میں دو علحدہ چارج شیٹ داخل کئے تھے۔(سلسلہ صفحہ6)

Top Stories

TOPPOPULARRECENT