گجرات پولیس کیلئے ’’اچھے دن‘‘ واپس آ گئے

احمدآباد ۔ 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے متنازعہ پولیس عہدیدار ڈی جی ونزارا کو تقریباً ساڑھے سات سال جیل میں گذارنے کے بعد آج رہا کردیا گیا۔ وہ عشرت جہاں اور سہراب الدین انکاونٹر مقدمات میں ملزم ہے۔ سابرمتی جیل سے باہر آنے پر ان کے بہی خواہوں نے خیرمقدم کرتے ہوئے آتش بازی کی۔ ونزارا نے اس موقع پر کہا کہ ’’ان کے اور دیگر گجرات پو

احمدآباد ۔ 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے متنازعہ پولیس عہدیدار ڈی جی ونزارا کو تقریباً ساڑھے سات سال جیل میں گذارنے کے بعد آج رہا کردیا گیا۔ وہ عشرت جہاں اور سہراب الدین انکاونٹر مقدمات میں ملزم ہے۔ سابرمتی جیل سے باہر آنے پر ان کے بہی خواہوں نے خیرمقدم کرتے ہوئے آتش بازی کی۔ ونزارا نے اس موقع پر کہا کہ ’’ان کے اور دیگر گجرات پولیس عہدیداروں کیلئے اچھے دن واپس آ گئے ہیں‘‘۔ انہوں نے قانونی سیاسی وجوہات کو جیل جانے کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گجرات پولیس عہدیداروں کے خلاف درج مقدمات فرضی ہے۔ سابق آئی پی ایس عہدیدار آج جیسے ہی جیل سے باہر آئے ان کے فرقہ سے تعلق رکھنے والے ارکان اور خاندان کے افراد کے ساتھ ساتھ آل انڈیا اینٹی ٹیررسٹ فرنٹ کے لیڈر مندرجیت سنگھ بٹا نے ان کا خیرمقدم کیا۔ ان کے حامیوں نے آتش بازی کی اور کئی افراد نے ونزارا کی گلپوشی بھی کی ہے۔ ونزارا نے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا اس پر انہیں افسوس نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس عہدیداروں نے درحقیقت مشتبہ دہشت گردوں کا انکاونٹر کرتے ہوئے گجرات کو ایک اور کشمیر بننے سے روک دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت افسوس ہوتا جب ہم کوئی غلط کام کرتے ہیں، لیکن ہم نے ایسا کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اہم قانون پابند ہیں اور وہی کام ہم نے کیا جو ملک کے مفاد میں تھا۔ ہم نے درحقیقت گجرات کو کشمیر بننے سے روک دیا ہے۔ اگر ہم انکاونٹرس نہ کرتے تو گجرات محفوظ مقام نہ ہوتا۔ سابق ڈی آئی جی نے یہ دعویٰ کیا ہیکہ انہوں نے اور گجرات کے دیگر پولیس عہدیداروں نے جو انکاونٹرس کئے وہ سب حقیقی تھے جبکہ ہمارے خلاف مقدمات سب فرضی تھے۔ ونزارا 2004ء عشرت جہاں فرضی انکاونٹر اور 2005ء سہراب الدین شیخ فرضی انکاونٹر مقدمہ میں ملزم ہے۔

ونزارا کو 24 اپریل 2007ء کو سی آئی ٹی کرائم برانچ نے سہراب الدین شیخ فرضی انکاونٹر مقدمہ کے سلسلہ میں گرفتار کیا تھا اور وہ تب سے جیل میں تھے۔ وہ گذشتہ سال جون میں جیل میں ہی سبکدوش ہوئے۔ ایک سال قبل ڈی جی ونزارا نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا اور ریاستی محکمہ داخلہ کو 10 صفحات پر مشتمل مکتوب روانہ کیا تھا۔ انہوں نے اس مکتوب میں سابق وزیرداخلہ امیت شاہ کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا تھا یہاں تک کہ انہوں نے نریندر مودی کو بھی اس معاملہ میں گھسیٹنے کی کوشش کی۔ جب ونزارا سے امیت شاہ اور گجرات پولیس کے خلاف ان کے موقف کے بارے میں پوچھا گیا انہوں نے جواب دیا کہ ’’کل کی بات پرانی ہوگئی‘‘۔ وہ کسی پارٹی یا شخص کو ذمہ دار قرار نہیں دیتے اور آپ (میڈیا) کو بخوبی علم ہیکہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔ وہ اس کیلئے ہندوستانی سیاسی نظام کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ونزارا نے کہا کہ وہ سیاست میں شامل ہونے کا منصوبہ نہیں رکھتے۔ عدالت کے حکم کے مطابق ونزارا ممبئی کیلئے روانہ ہوگئے کیونکہ سی بی آئی عدالت واقع ممبئی نے انہیں اس شرط پر ضمانت منظور کی ہیکہ وہ گجرات میں داخل نہیں ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT