Saturday , December 15 2018

گجرات پولیس کے مظالم اور جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی کوشش، بے قصور ملزمین کی آپ بیتی

نئی دہلی ۔ 21 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) گجرات پولیس نے ایک ملزم کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ گودھرا ٹرین آتشزنی ، ہرین پانڈیا قتل اور اکشر دھام دہشت گرد حملے میں کسی ایک کا انتخاب کرے تاکہ اسے ماخوذ کیا جاسکے۔ 16 مئی کو جس دن نامزد وزیراعظم نریندر مودی نے تاریخی کامیابی حاصل کی ، اسی دن سپریم کورٹ نے سلیم اور دیگر پانچ ملزمین کو بے قصور ہونے کی

نئی دہلی ۔ 21 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) گجرات پولیس نے ایک ملزم کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ گودھرا ٹرین آتشزنی ، ہرین پانڈیا قتل اور اکشر دھام دہشت گرد حملے میں کسی ایک کا انتخاب کرے تاکہ اسے ماخوذ کیا جاسکے۔ 16 مئی کو جس دن نامزد وزیراعظم نریندر مودی نے تاریخی کامیابی حاصل کی ، اسی دن سپریم کورٹ نے سلیم اور دیگر پانچ ملزمین کو بے قصور ہونے کی بناء رہا کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر داخلہ کی سرزنش کی تھی۔ ان 6 ملزمین کو بناء کسی قصور کے دس سال جیل میں گزارنے پڑے۔ سلیم اور دیگر پانچ نے دہلی میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ گجرات پولیس نے اس طرح انہیں مختلف مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کی ۔ سلیم نے کہا کہ انہوں نے 13 سال سعودی عرب میں ملازمت کی اور جب واپس آئے تو پاسپورٹ میں غلطی کے بہانے انہیں گرفتار کیا گیا اور پھر پولیس ان سے پوچھا کہ کس اکشردھام، ہرین پانڈیا یا گودھرا کس مقدمہ میں اسے ماخوذ کیا جائے۔

پولیس نے بے انتہا اذیت پہنچائی یہاں تک کہ ان کے پیر میں فریکچر آگیا۔ سلیم کو گرفتاری کے چار ماہ بعد لڑکی پیدا ہوئی تھی اور وہ اب دس سال کی ہے ۔ سلیم نے کہا کہ اب پہلی مرتبہ وہ اپنی بیٹی کو گود میں لے گا۔ اسی طرح ایک اور ملزم عبدالقیوم مفتی کی زندگی میں جیل میں رہنے کے بعد پوری طرح بدل گئی۔ ان کے والد کا انتقال ہوگیا اور ان کا خاندان اب پرانے گھر میں نہیں رہتا۔عبدالقیوم نے بتایا کہ ان سے پولیس نے زبردستی تحریر لکھوائی اور عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ ان کے پاس سے یہ تحریر برآمد ہوئی۔ صدر جمیعت علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے اس پریس کانفرنس کا اہتمام کرایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جمیعت سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر ان عہدیداروں کو سزا کی درخواست کرے گی جنہوں نے جھوٹے الزامات وضع کئے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ ہی ہماری آخری امید ہے۔

TOPPOPULARRECENT