Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / گجرات چیف منسٹر پر کرم ، تیستا سیتلواد پر ستم !

گجرات چیف منسٹر پر کرم ، تیستا سیتلواد پر ستم !

کیا وزارتِ داخلہ گجرات چیف منسٹر کے این جی او کی جانچ کریگی؟ ’’سب کا ساتھ سب کا وِکاس‘‘
نئی دہلی ،19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت اُمور داخلہ نے اس سال اپریل میں تقریباً 9,000 این جی اوز کا رجسٹریشن منسوخ کردیا تھا جنہوں نے سال 2009ء تا 2012ء کا سالانہ تختہ داخل نہیں کیا۔ ان میں گجرات کی موجودہ چیف منسٹر آنندی بین پٹیل کی این جی او گرام شری ٹرسٹ کا نام شامل نہیں تھا۔ 1995ء سے وہ اس ٹرسٹ کی قیادت کررہی ہیں، مگر وزارت داخلہ نے رجسٹر سے خارج کردہ 9,000 این جی اوز میں چیف منسٹر گجرات کی این جی او کا نام شامل نہیں کیا۔ اس کے بعد ماہ جون میں دوسرے مرحلے کی کارروائی کی گئی اور ایسے این جی اوز کے ناموں کی تنقیح کی گئی، جنہوں نے سالانہ حساب کتاب کا تختہ داخل نہیں کیا تھا۔ جن 4470 این جی اوز نے لائسنس کے احیاء کی درخواست کی تھی، انہیں مبینہ طور پر بیرونی زر تعاون ریگولیشن قانون کی خلاف ورزی کرنے پر منسوخ کردیا گیا تھا۔ اس فہرست میں بڑے بڑے این جی اوز کے نام شامل تھے جنہیں وزارت داخلہ نے منسوخ کردیا۔

ان میں سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن اور ایک پریمیئر میڈیکل انسٹیٹیوٹ کا نام بھی شامل تھا مگر گجرات کی چیف منسٹر کے گرام شری ٹرسٹ کا نام شامل نہیں تھا۔ اب اس ٹرسٹ کی قیادت چیف منسٹر گجرات کی دختر آنر پٹیل کررہی ہیں، تاہم آر ٹی آئی کارکنوں نے گرام شری ٹرسٹ کے خلاف حکومت کے نرم رویہ پر احتجاج کیا ہے جس کے بعد وزارت داخلہ اس ٹرسٹ کے خلاف بے قاعدگیوں کے الزامات کی تحقیقات کررہی ہے۔ گجرات کے کارکن روشن شاہ کی جانب سے داخل کردہ درخواست کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ چیف منسٹر گجرات کے ٹرسٹ نے 24 اکتوبر 2011ء سے اپنا سالانہ تختہ داخل نہیں کیا ہے۔

اس دن بی اے ایف سی آر اے رجسٹریشن نمبر الاٹ کیا گیا تھا۔ حق معلومات قانون (آر ٹی آئی) کے تحت داخل کردہ درخواست میں مزید معلومات فراہم کرنے کی خواہش کی گئی ہے کہ آیا ٹرسٹ کی جانب سے جو فوائد حاصل ہونے کی اطلاع دی گئی ہے، گرام شری کے اکاؤنٹ کے مطابق درست ہیں یا نہیں۔ اس ٹرسٹ میں گجرات سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹوں کو ملازمت دی جاتی ہے۔ اس ٹرسٹ کی جانب سے تیار ہونے والی اشیاء جیسے دستکاریاں، گھریلو سجاوٹ کا سامان وغیرہ ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ آر ٹی آئی کے تحت پوچھے گئے سوال کا وزارت داخلہ نے جواب دیا ہے کہ بوجہ تیسرے فریق کی اطلاع کو متعلقہ فریق کی عرضی کے بغیر معلومات فراہم نہیں کی جاسکتی۔ اس سلسلے میں تیسرے فریق سے مشاورت کی گئی ہے۔ اگست میں روشن شاہ کو وزارت داخلہ کی جانب سے ایک اور جواب ملا ہے جس میں انہوں نے گرام شری ٹرسٹ کے خلاف حکومت کی کارروائی سے متعلق سوال کیا تھا جس پر بیرونی زر تعاون ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ وزارت داخلہ کے جواب میں کہا گیا ہے کہ روشن شاہ کی شکایات کو وزارت داخلہ کے شعبہ ایم یو کو روانہ کی گئی ہیں جبکہ اس وزارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ گرام شری کی جانب سے کی جارہی بے قاعدگیوں کے الزامات کی جانچ کروائی جائے۔ اس معاملے میں جو بات پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ ٹرسٹ کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی جبکہ این جی اوز کے خلاف تازہ کارروائیاں کی جاچکی ہیں مگر چیف منسٹر گجرات کے ٹرسٹ کی بے قاعدگیوں کو نظرانداز کردیا گیا اور اس کے برخلاف  تیستا سیتلواد کے ٹرسٹ کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT